• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گھر، گھر ہے گودام نہیں، کیا یہ بات خواتین سمجھتی ہیں؟

Updated: October 31, 2023, 12:35 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

پرانے زمانے میں گھر میں کم وسائل ہوتے تھے۔ لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے اور خوش رہتے تھے۔ آج ہم نے اپنے گھر کو سامان سے بھر لیا ہے۔ اس بات سے آپ اتفاق رکھیں گی کہ ہمیں اتنے سامان کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ زندگی کو پُرآسائش بنانے کے چکر میں ہم نے ماحولیات کو نقصان پہنچایا ہے، یہ مسئلہ سنگین ہے۔

There is no doubt that living a life with minimal resources can be difficult but one can definitely try. Photo: INN
اس میں کوئی شک نہیں کہ کم سے کم وسائل میں زندگی جینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن کوشش ضرور کی جاسکتی ہے۔ تصویر:آئی این این

ایک زمانہ تھا گھر میں اتنا ہی سامان نظر آتا تھا جتنی ضرورت تھی۔ اگر موجودہ دور کا موازنہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ ہم نے اپنے گھر کو سامان سے بھر لیا ہے۔ اس بات سے آپ اتفاق کریں گی کہ ہمیں اتنے سامان کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ دراصل ہم سبھی آسائش پسند ہوگئے ہیں۔ بہت سا غیر ضروری سامان گھر لے آتے ہیں اور گھر کو سامان کا ڈھیر بنا دیتے ہیں ۔ اکثر گھر کی صفائی کرتے وقت خواتین کو پریشانی بھی ہوتی ہیں۔ البتہ سامان کو پھینکنے کے بجائے انہیں وہ سینت سینت کر رکھنے میں یقین رکھتی ہیں۔
 ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آج کل بازار سے کوئی سامان خریدا جائے تو اسے بہت سارے لوازمات کیساتھ پیک کرکے دیا جاتا ہے۔ جب باکس کھولا جائے تو اس میں مطلوبہ سے بہت چھوٹی ہوتی ہے لیکن باکس بڑا ہوتا ہے اور سامان سے متعلق تفصیلات کیلئے بھی کئی کاغذات ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پروڈکٹ کی خوبصورتی بڑھانے کیلئے اس میں کئی چیزیں ہوتی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک معمولی پروڈکٹ گھر لانے پر آپ کو ساتھ میں کچرا کا ڈھیر بھی ملتا ہے۔ چند خواتین سامان کے ساتھ باکس بھی رکھ لیتی ہیں اس طرح گھر کے سامان میں ایک اضافہ اور ہوجاتا ہے۔ چند خواتین اسے کوڑے دان میں پھینک دیتی ہیں ۔ اس طرح پوری دنیا میں کچرے کے ڈھیر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اب سے ۲۰؍ سال قبل گھر سے پھینکا جانے والا کچرا کم ہوا کرتا تھا لیکن آج ہمارے گھر سے بڑی مقدار میں کچرا نکل رہا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ہر سال پوری دنیا ۲ء۱۲؍ بلین ٹن کچرا پیدا کر رہی ہے۔ اب آپ سوچیں گی کہ یہ مقدار پوری دنیا کی ہے اس میں میرا حصہ تو بہت کم ہوگا۔ ایسا ہرگز نہ سوچیں۔ ہر خاتون اپنے گھر سے شروعات کرے۔ معاشرے میں تبدیلی لانے کیلئے خواتین کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ خواتین اس اہم مسئلے پر خاص توجہ دیں۔
 سب سے پہلے اپنے گھر کا جائزہ لیں ۔ اپنے گھر سے غیر ضروری سامان ہٹا دیں ۔ جتنی ضرورت اتنا ہی سامان رکھیں ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ کام مشکل لگے لیکن کوشش کی جائے تو ممکن ہے۔ شروعات باورچی خانے سے کریں۔ آپ دیکھیں گی کہ ۱۰؍ سے ۲۰؍ پرانے برتن آپ نے بعد کے لئے رکھے ہیں وہ اب بھی اپنی باری کے منتظر ہیں ۔ انہیں فوراً ہٹا دیں ۔ پیالے اور چمچوں کے کئی سیٹ رکھے ہوئے ہوں گے ان میں سے جو قابل استعمال ہیں وہ رکھیں باقی کسی کو دے دیں ۔ باورچی خانے میں آپ کو پلاسٹک کے ڈبوں کا ڈھیر بھی نظر آ جائے گا، انہیں بھی چھانٹ لیں ۔ اس طرح آپ دیکھیں گی کہ آپ کا باورچی خانہ اب کشادہ نظر آرہا ہوگا۔
اب آیئے بیڈ روم کی طرف۔ یہاں موجود غیر ضروری فرنیچر یا کرسی کو باہر کا راستہ دکھائیں۔ الماری کے اوپر کئی ٹرالی ہوں گی۔ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے چند ٹرالیاں خستہ حال ہوگی انہیں بھی ہٹا دیں ۔ الماری کے اوپر چادر اور کمبلوں کا ڈھیر بھی نظر آجائے گا۔ انہیں بھی چھانٹ لیں ، جن کی ضرورت ہیں اُنہی کو رکھیں ۔ اب الماری کی طرف بڑھئے، اس میں آپ کو اتنا سارے ایسے کپڑے نظر آئیں گے جنہیں آپ پہننا پسند نہیں کرتیں ۔ اس لئے انہیں سنبھال کر رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
 اپنی الماری کے ساتھ ساتھ بچوں کی الماری بھی چھانٹ لیں ۔ کئی کپڑے انہیں آتے نہیں ہوں گے وہ بھی ہٹا دیں۔ ان کے کھلونوں کی صفائی بھی کر لیں ۔ بیشتر کھلونے ٹوٹے ہوئے نظر آئیں گے یا کوئی پرزہ گم ہوچکا ہوگا، ان سب کو ہٹا دیں۔
 ہمارے گھروں میں ایسا فرنیچر بھی ہوگا جس کی حالت اچھی نہیں ہوگی۔ اسے بھی ہٹا دیں۔ غسل خانے کا بھی جائزہ لے لیجئے، یہاں بھی کئی چیزیں ہوں گی جن کی آپ کو ضرورت نہیں ہے۔ غسل خانے میں جگہ جگہ آپ کو پرانے ٹوتھ برش نظر آجائیں گے، انہیں پھینک دیں۔
 پورے گھر کو سامان کے ڈھیر سے نجات دلانے کے بعد اپنے گھر کا جائزہ لیں ۔ آپ خود محسوس کریں گی کہ اب گھر بھلا معلوم ہو رہا ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ سامان سو برس کا ہے اور پل بھر کی خبر نہیں ۔ یہ بات بالکل درست ہے۔ ہم نے اپنے گھروں کو غیر ضروری سامان سے بھر لیا ہے جبکہ ہمیں اس سامان کی ضرورت کم کم ہی پڑتی ہیں ۔ اگر ہم اپنے محدود وسائل میں زندگی جینا شروع کردیں تو کئی مسائل حل ہو جائیں گے اور ہم زندگی سےمطمئن رہیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کم سے کم وسائل میں زندگی جینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن کوشش ضرور کی جاسکتی ہے۔ اس بات پر غور کیجئے کہ اپنی زندگی کو پُرآسائش بنانے کے لئے ہم نے پوری دُنیا کو نقصان پہنچایا ہے۔ ماحولیات کی تبدیلی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ماحولیات کے تحفظ کے لئے ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے، خاص طور پر خواتین کو اس جانب پہل کرنی چاہئے اور انہیں اپنے ہی گھر سے اس کی شروعات کرنی چاہئے۔ یقین جانئے چھوٹے چھوٹے قدم سے آپ بڑا انقلاب لاسکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK