کورونا بحران اور عید؛ کیسی ہو تیاری؟

Updated: May 12, 2021, 5:28 PM IST | Asiya Marium | Mumbai

عید کا دن بہت خاص ہوتا ہے۔ عید کے تعلق سے بچوں اور خواتین میں کافی جوش نظر آتا ہے۔ اس مرتبہ حالات کافی مختلف ہیں لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں انسان خوشی تلاش کرنا چاہے تو سب کچھ ممکن ہوسکتا ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

کورونا بحران کے سبب پورے ملک کی حالت ابتر ہے اور حالات بہتر ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے ہیں۔ کورونا کے بڑھتے معاملات کے سبب مہاراشٹر میں کئی سختیاں نافذ کی گئی ہیں۔ ان حالات میں رمضان کا مبارک مہینہ شروع بھی ہوا اور ختم بھی ہونے کو ہے۔ کورونا کے پیش ِ نظر عائد کی گئی سختیوں کے سبب لوگوں کا بیشتر وقت گھروں میں گزر رہا ہے۔ اس لئے رمضان کی برکتوں سے فیض حاصل کرنے کا بھرپور وقت مل رہا ہے۔ نماز کی پابندی کے ساتھ قرآن مجید کی بھی خوب تلاوت کی جا رہی ہے۔ یہ اللہ کا کرم ہی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ رمضان کا بابرکت مہینہ ہمیں الوداع کہہ رہا ہے اور عید کی آمد کی خوشی بھی ہے۔ عید کے تعلق سے بچوں اور خواتین میں کافی جوش نظر آتا ہے۔ رمضان کے آخری عشرے ہی سے بچوں اور خواتین کی خریداریاں زور و شور سے شروع ہوجاتی ہیں۔ کپڑوں کے ساتھ میچنگ چوڑیاں، کلپ، ربڑبینڈ، جوتے اور نہ جانے کیا کیا سامان خریدا جاتا ہے۔ آج کل کے بچے کارٹون سے متاثر ہوکر اسی تھیم کے کپڑے چاہتے ہیں اور ماں باپ بھی اپنے بچوں کی فرمائش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عید کے دن بچے، مرد و عورت سبھی نئے لباس زیب تن کرکے ہشاش بشاش نظر آتے ہیں۔ عید کا یہ منظر نہایت خوبصورت ہوتا ہے۔ البتہ اس سال منظر کچھ مختلف ہوگا۔
 کورونا بحران کے سبب بیشتر افراد مالی پریشانی سے دو چار ہے۔ موجودہ صورتحال میں لوگوں کو دو وقت کی روٹی مل جائے یہی بڑی بات ہے۔ لیکن معاشرے میں چند افراد ایسے بھی ہیں جو صاحب ِ حیثیت ہے وہ چاہے تو اپنے آس پاس کے گھروں کو عید کی خوشی بخش سکتے ہیں۔ ایک بات کہنا چاہوں گی کہ عید میں خوب خریداری کی جائے ایسا ضروری نہیں ہے۔ عید سادگی سے بھی منائی جاسکتی ہے۔ اگر ہر سال ۴؍ یا ۵؍ لباس سلوائے جاتے تھے تو اس مرتبہ ایک یا ۲؍ لباس پر بھی شکر ادا کریں۔ ہر لباس کے ساتھ میچنگ سامان خریدنے کے بجائے ایسا سامان خریدیں جو سب کے ساتھ میچ ہو جائے۔ موجودہ حالات میں آپ کو جو بھی میسر ہے اس پر شکر ادا کیجئے اور اس میں ہی اپنی خوش تلاش کیجئے۔ اس عید کو ایک نئے انداز میں منایئے۔  بیشتر خواتین اس بات کا افسوس کر رہی ہیں کہ وہ ٹیلر سے ڈیزائنر کپڑے نہیں سلوا سکتیں۔ اس بات کا رونا نہ روئیں بلکہ آپ کی الماری میں موجود کپڑوں میں سے کوئی اچھے لباس نکال کر اسے پہن لیں۔ ایسا بھی کرکے دیکھئے، یہ طریقہ بھی آپ کو خوشی دے سکتا ہے۔ اگر آپ کی مالی حالت بہتر ہے تو ریڈی میڈ کپڑے لے لیجئے۔ اس وقت یہی بہترین طریقہ ہے۔ اکثر خواتین کی الماری میں ڈھیروں کپڑے ہوتے ہیں۔ آپ چاہیں تو ان کپڑوں میں سے چند کپڑے کسی غریب خواتین کو دے سکتی ہیں۔ ایسا کرکے آپ کو دلی سکون ملے گا۔ اپنے بچوں کے کپڑوں میں سے چند کپڑے غریبوں کو دے سکتی ہیں۔ کسی کی مدد کرنے سے آپ کے خزانے میں کمی نہیں آئیگی۔
 ہر سال عید سے قبل نت نئے پکوان کے لئے خوب تیاریاں کی جاتی تھیں مگر اس سال ایسا کم کم ہی ہوگا۔ اس بات سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس مرتبہ بھی نت نئے پکوان تیار کیجئے اور اس کے پیکٹ بنا کر آس پاس موجود گھروں میں تقسیم کروا دیں۔ آپ اپنے رشتہ دار کے یہاں بھی پیکٹس پہنچا سکتی ہیں۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں انسان خوشی تلاش کرنا چاہے تو سب کچھ ممکن ہوسکتا ہے۔ برے حالات کو بھی مثبت انداز میں دیکھیں گے تو اس میں بھی آپ کو کوئی نہ کوئی اچھا پہلو نظر آہی جائے گا۔
 عید کی تیاری میں گھر کی صفائی کی بھی کافی اہمیت ہوتی ہے۔ لہٰذا اس مرتبہ بھی اس کام کو خوش اسلوبی سے انجام دیں۔ صفائی نصف ایمان ہے اور موجودہ حالات میں صفائی نے اپنی اہمیت بھی سمجھا دی ہے۔ گھر میں موجود قدرتی کلینزر سے صفائی کریں تاکہ آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ تہوار کے موقع پر باورچی خانے اور فریج کی صفائی کی کافی اہمیت ہوتی ہے لہٰذا اس جانب خصوصی توجہ دیں۔
 عید کے موقع پر رشتہ داروں کو بھی یاد رکھیں۔ کورونا بحران میں ہمارے کئی اپنے ہم سے دور ہوگئے ہیں اور ان کی کمی سے ہمیں گہرا صدمہ بھی پہنچا ہے۔ لہٰذا اپنے عزیز و اقارب سے خیریت دریافت کر لیجئے۔ اکثر ہم کسی کے جانے کے بعد افسوس کرتے رہ جاتے ہیں کہ مصروفیت کے سبب انہیں وقت نہیں دیا۔ اس وقت آپ کے پاس کافی وقت ہے لہٰذا اپنوں کے ساتھ بھرپور وقت گزار لیجئے۔ ان کے ساتھ ہنس بول لیجئے۔ بچوں کے ساتھ بچہ بن کر زندگی کا بھرپور لطف اٹھایئے۔ گھر کے بزرگوں کے پاس بیٹھ کر کچھ ان کی سن لیجئے۔ اگر عید کا دن اس طرح گزاریں گے تو یہ عید آپ کی زندگی کی سب سے یادگار عید بن جائے گ

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK