Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی آئی ٹی بامبے کے شوریہ گوئل کا پروجیکٹ جی ایس سی میں ٹاپ ۵؍ میں منتخب ہوا

Updated: July 30, 2026, 2:27 PM IST | Mumbai

اتر پردیش کے آگرہ کے رہنے والے شوریہ گوئل نے اپنی صلاحیتوںسے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والے شوریہ نے آئی آئی ٹی بامبے تک کا سفر طےکیا۔

Shourya Goyal (front right) with his team. Photo: INN
شوریہ گوئل (دائیںسے پہلے)اپنی ٹیم کے ساتھ ۔ تصویر: آئی این این

اتر پردیش کے آگرہ کے رہنے والے شوریہ گوئل نے  اپنی صلاحیتوںسے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والے شوریہ نے آئی آئی ٹی بامبے تک کا سفر طےکیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے اختراعی نظریات کی بنیاد پر ہندوستان کو بین الاقوامی سطح پر پیش کیا۔ اس کے پروجیکٹ کو ’گلوبل سسٹین ایبلٹی چیلنج‘(جی ایس سی) میں منتخب کیا گیا تھا۔

شوریہ گوئل آگرہ کا  رہنے والا ہے۔ اس کا تعلق ایک عام متوسط گھرانے سے ہے۔ اس نے اپنی اسکولی تعلیم آل سینٹس اسکول آگرہ سے مکمل کی۔ شروع سے ہی شوریہ  کے اندر کچھ کر دکھانے کا جذبہ تھا تاکہ اس کی زندگی میںآسانیاں ہوں۔ اس کاکہنا ہےکہ’’ اوسط زندگی سے نکلنے کا راستہ مجھے آئی آئی ٹی جے ای ای لگا۔‘‘شوریہ نے کہا کہ اس کے والدین نے اسے آئی آئی ٹی جے ای ای کیلئے ترغیب دی۔شوریہ کے مطابق’’ میں نے محسوس کیا کہ اوسط زندگی سے نکلنے کیلئے مجھے آگرہ شہر چھوڑنا پڑے گا اور اس  کیلئے آئی آئی ٹی جے ای ای  ہی واحد راستہ نظر آیا۔ میں نے اس کے لیے دو سال تک محنت کی اور پھر آئی آئی ٹی بامبے میں سول برانچ میں داخلہ لے لیا۔

یہ بھی پڑھئے: رانچی آئی ٹی آئی کے۱۷؍سالہ طالب علم نے نابینا افرادکیلئے صرف ۷۰۰؍روپے میں اسمارٹ چشمہ بنایا

آئی آئی ٹی میں اختراع کا سفر شروع ہوا

آئی آئی ٹی بامبے پہنچنے کے بعد شوریہ کی دلچسپی صرف پڑھائی تک محدود نہیں رہی۔ اس نے کالج کے سسٹین ایبل کلب میں شمولیت اختیار کی۔ اپنی لگن اور قائدانہ خوبیوں کی بنیاد پر وہ تیسرے سال اس کلب کے سربراہ بن گئے۔ یہاں سے انہوں نے انرجی ٹریڈنگ اور انرجی اسٹوریج جیسے ایڈوانس اور مستقبل کے موضوعات پر کام کرنا شروع کیا۔

شمسی توانائی کے بڑے مسئلے کا حل دریافت

شوریہ گوئل نے کہا کہ ہندوستان میں ہم سولر پینل سےتوانائی پیدا کرتے ہیں لیکن اسے استعمال کرنا نہیں جانتے۔ ایسی صورت حال میں، میں نے توانائی کے دوطرفہ بہاؤ کیلئے ایک ہارڈ ویئر اور ایپلی کیشن تیار کیا ۔شوریہ اور ان کی ٹیم نے یہ اختراعی آئیڈیا گلوبل سسٹین ایبلٹی چیلنج میں پیش کیا۔ یہ ایک مشہور بین الاقوامی مقابلہ ہےجس کا اہتمام دنیا کی مشہور یونیورسٹیاں بشمول  اسٹینفورڈ یونیورسٹی، آئی آئی ٹی بامبے، زی جیانگ یونیورسٹی (چین) مل کر کرتی  ہیں ۔ ان کی ٹیم ممبئی میں منعقدہ انتخابی عمل میں ٹاپ۵؍میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK