صرف تبدیلی کی خواہش سے کچھ نہیں بدلتا۔ یہ فوری قدم اٹھانے کا فیصلہ ہوتا ہے جس سے حقیقی تبدیلی آتی ہے۔۱۷؍ سالہ بابولال کرمالی نے اپنی محنت اور لگن سے اس بات کو سچ ثابت کردکھایا۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 5:11 PM IST | Mumbai
صرف تبدیلی کی خواہش سے کچھ نہیں بدلتا۔ یہ فوری قدم اٹھانے کا فیصلہ ہوتا ہے جس سے حقیقی تبدیلی آتی ہے۔۱۷؍ سالہ بابولال کرمالی نے اپنی محنت اور لگن سے اس بات کو سچ ثابت کردکھایا۔
صرف تبدیلی کی خواہش سے کچھ نہیں بدلتا۔ یہ فوری قدم اٹھانے کا فیصلہ ہوتا ہے جس سے حقیقی تبدیلی آتی ہے۔۱۷؍ سالہ بابولال کرمالی نے اپنی محنت اور لگن سے اس بات کو سچ ثابت کردکھایا۔ معمولی پس منظر سے آنے والے اس طالب علم نے اپنی منفرد ایجاد سے سب کی توجہ مبذول کر لی ہے۔ رانچی میں گورنمنٹ آئی ٹی آئی ہیہل میں الیکٹرانکس اور میکانکس کے طالب علم بابولال نے صرف۷۰۰؍ روپے میں اسمارٹ چشمے بنائے ہیںجو بصارت سے محروم افراد کو محفوظ طریقے سے گھومنے پھرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔بابولال کی ایجاد کے بارے میں سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہیںایسا کرنے کی تحریک کسی تجربہ گاہ یا کتاب سے نہیں بلکہ ان کے اپنے خاندان سے ملی ۔ ان کا بڑا بھائی بینائی سے محروم ہے۔ اپنے بھائی کو ٹھوکریں کھاتے، رکاوٹوں کا سامنا اور روزمرہ کی زندگی میں دوسروں پر انحصار کرتا دیکھ کر بابولال کو تکلیف ہوئی۔ انہوں نے فوری طور پر ایک ایسا آلہ بنانے کا فیصلہ کیا جو نابینا افراد کیلئے سفر کو آسان اور محفوظ بنائے۔الیکٹرانکس اور میکانکس کے شعبہ میں ایک طالب علم کے طور پر بابولال نے اپنے اساتذہ کی رہنمائی میںاس آئیڈیا پر کام کرنا شروع کیا ۔ متعدد تجربات اور مسلسل کوششوں کے بعد انہوں نے ایک سمارٹ چشمہ تیار کیا جس میں سینسرز لگے تھے۔ جیسے ہی پہننے والا کسی دیوار، کھمبے، گاڑی یا کسی دوسری چیز کے قریب پہنچتا ہے، یہ چشمہ فوراً اسے صوتی سگنل اور سائرن سے خبردار کر دیتا ہے۔ یہ ایک نابینا شخص کو وقت پر سمت بدلنے اور حادثے سے بچنے میںمعاون ثابت ہوتا ہے۔ یہ کم قیمت ڈیوائس مستقبل میں ہزاروں معذور افراد کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔آئی ٹی آئی ہیہل کے پرنسپل پرمانند راجک نے بابولال کی کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے طلباء کسی بھی ادارے کی پہچان ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابولال نے اپنی قابلیت، محنت اور سماجی سوچ کے ذریعے نہ صرف ادارے بلکہ پوری ریاست کا نام روشن کیا ہے۔ اس طرح کی اختراعات ثابت کرتی ہیں کہ سرکاری اداروں میں پڑھنے والے طلبہ بھی اپنی صلاحیتوں کے ذریعے اہم تبدیلی لا سکتے ہیں ۔ انسٹی ٹیوٹ کی فیکلٹی نے بھی بابولال کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ٹیکنالوجی میں ہمیشہ اختراعی رہے ہیں۔ جب انہوں نے اسمارٹ چشمہ بنانے کا آئیڈیا پیش کیا تو فیکلٹی نے دل سے ان کی بھرپور حمایت کی تھی۔ آج ان کی اختراع اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ کبھی وسائل سے محدود نہیں ہوتا۔بابولال کاکہنا ہےکہ یہ ان کا پہلا ماڈل ہے جس میں ۷۰۰؍ روپے کی لاگت آئی ہے،ابھی وہ اسے مزید اسمارٹ ، جدید اور مفید بنانا چاہتے ہیں۔