Updated: September 09, 2026, 6:02 PM IST
| Mumbai
مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور برینٹ کروڈ کی قیمت ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنے کے باعث ہندوستانی شیئر بازار مسلسل تیسرے کاروباری سیشن میں گراوٹ کے ساتھ سرخ نشان پر بند ہوا۔ اہم بینچ مارک انڈیکس سینسیکس اور نفٹی میں ایک فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
شیئر مارکیٹ میں گراوٹ ۔ تصویر:آئی این این
مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور برینٹ کروڈ کی قیمت ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنے کے باعث ہندوستانی شیئر بازار مسلسل تیسرے کاروباری سیشن میں گراوٹ کے ساتھ سرخ نشان پر بند ہوا۔ اہم بینچ مارک انڈیکس سینسیکس اور نفٹی میں ایک فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ آئی ٹی سیکٹر میں سب سے زیادہ فروخت دیکھنے کو ملی۔
یہ بھی پڑھئے:فرانسس ٹیافو نے ایلکس مائیکلسن کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی
کاروبار کے اختتام پر ۳۰؍ شیئرز والا بی ایس ای سینسیکس ۳۵ء۸۱۳؍پوائنٹس یعنی ۰۸ء۱؍فیصد کی کمی کے ساتھ ۲۳ء۷۴۷۶۴؍ پر بند ہوا۔ اسی طرح این ایس ای نفٹی ۵۰؍ بھی ۶۰ء۲۰۳؍پوائنٹس یعنی ۸۶ء۰؍فیصد گر کر۵۰ء۲۳۴۳۱؍ کی سطح پر بند ہوا۔ سینسیکس گزشتہ کاروباری سیشن کی۵۸ء۷۵۵۷۷؍ کی سطح کے مقابلے میں۳۶ء۳۶۱؍ پوائنٹس یعنی ۴۷ء۰؍فیصد کی کمی کے ساتھ ۲۲ء۷۵۲۱۶؍ پر کھلا۔ دن کے کاروبار کے دوران فروخت کا دباؤ مزید بڑھا اور انڈیکس ایک موقع پر ۳۵ء۸۱۳؍ پوائنٹس یعنی تقریباً ایک فیصد گر کر۲۳ء۷۴۷۶۴؍ کی نچلی سطح تک پہنچ گیا۔
دوسری جانب نفٹی ۵۰؍ بھی گزشتہ بند سطح ۱۰ء۲۳۶۳۵؍ کے مقابلے میں ۱۱۳؍ پوائنٹس یعنی ۴۷ء۰؍فیصد کی کمی کے ساتھ ۰۵ء۲۳۵۲۲؍ پر کھلا۔ کاروباری سیشن کے دوران نفٹی میں مزید گراوٹ دیکھی گئی اور یہ ۶۰ء۲۰۳؍ پوائنٹس یعنی ۸۶ء۰؍ فیصد نیچے آکر۵۰ء۲۳۴۳۱؍ کی دن کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ وسیع تر بازار کی بات کریں تو نفٹی مڈ کیپ میں ۵۱ء۰؍ فیصد جبکہ نفٹی اسمال کیپ میں ۴۸ء۰؍ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے اسٹاکس کے ساتھ ساتھ درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں کے حصص میں بھی سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ برقرار رہا۔
نفٹی ۵۰؍ انڈیکس میں اڈانی انٹرپرائزز، میکس ہیلتھ، اڈانی پورٹس، کول انڈیا، ٹاٹا اسٹیل، ہنڈالکو، اپولو ہاسپٹلس اور این ٹی پی سی کے حصص میں تقریباً ایک سے ۵؍ فیصد تک کا اضافہ دیکھا گیا۔ یہ اسٹاکس دن کے نمایاں ٹاپ گینرز میں شامل رہے۔دوسری جانب انفوسس، ایچ ڈی ایف سی لائف، ایچ سی ایل ٹیک اور ٹیک مہندرا سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے بڑے اسٹاکس میں شامل رہے۔
یہ بھی پڑھئے:مراٹھی بولنے کی درخواست سنجے دت کے ذریعہ مسترد کرنے کے بعد نئی بحث چھڑ گئی
مارکیٹ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اب مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے طویل عرصے تک برقرار رہنے کے خدشات کو اپنی قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل لڑائی اور جوابی کارروائیوں کے باعث مستقبل قریب میں خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ماہر کے مطابق مسلسل برقرار جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے دنیا کے بڑے مرکزی بینکوں کے لیے اقتصادی ترقی اور مہنگائی کے درمیان توازن قائم کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف اقتصادی سرگرمیوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ قیمتوں کے استحکام کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق بانڈ ییلڈ اور کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کی وجہ سے سرمایہ کار آنے والے دنوں میں محتاط رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں رسک لینے کی صلاحیت محدود رہنے اور مجموعی طور پر شیئر بازار کا مزاج دباؤ میں رہنے کا امکان ہے۔