Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشترکہ خاندانی نظام محبتیں بٹورنے کا بہترین ذریعہ ہے

Updated: February 03, 2020, 3:10 PM IST | Nabila Khan

آج لوگوں کے ذہنوں میں پتہ نہیں یہ بات کہاں سے پختہ ہوتی جارہی ہےکہ ہر انسان انفرادی طور پر اپنی زندگی گزارسکتا ہے جبکہ اسے مشکل مرحلوں میں خاندان کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن اس بات کو بہت سے لوگ آج کم ا ہمیت دینے لگے ہیں جس کی وجہ سے مشترکہ خاندانی نظام کی جڑیں کمزور ہوتی جارہی ہیں

مشترکہ خاندانی نظام مشرقی روایات کا ایک ثبوت ہے۔ تصویر : آئی این این
مشترکہ خاندانی نظام مشرقی روایات کا ایک ثبوت ہے۔ تصویر : آئی این این

مشترکہ خاندانی نظام برصغیر میں پایا جانے والا وہ خاندانی نظام ہے جو آہستہ آہستہ اپنی افادیت کھوتا جا رہا ہے، جوائنٹ فیملی سسٹم کو موضوعِ گفتگو بنانے سے پہلے میں آپ سب کی نذر چند اہم نکات پیش کرتی ہوں یعنی کہ وہ مثبت پہلو جو اس نظام کی خوبصورتی کو اجاگر کرتے ہیں۔
٭ معاشرتی نظام کو نظم و نسق کی صورت دینا۔
٭ معاشرے میں پائے جانے والے انتشار کی بیخ کنی کرنا۔
٭ افرادِخانہ کو متحد کرنا اور دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے کام آنا۔
٭ لوگوں میں قوتِ برداشت بڑھانا۔
٭ آپس میں محبت اور مروت کو فروغ ملنا۔
 یہ تمام وہ پہلو ہیں جس کی بدولت ایک ایسا معاشرتی سماجی اور اسلامی نظام قائم رہ سکتا ہے جو مسلمانوں کی بالخصوص اور انسانوں کی بالعموم طاقت بن کر ابھرتا ہے مگر افسوس کا مقام اب یہ ہے کہ لوگوں نے اس نظام سے جان چھڑانا شروع کر دیا ہے۔
 آج لوگوں کے ذہنوں میں پتہ نہیںیہ بات کہاںسے پختہ ہوتی جارہی ہےکہ ہر انسان انفرادی طور پر اپنی زندگی گزارسکتا ہے جبکہ اسے مشکل مرحلوں میںخاندان کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن اس بات کو بہت سے لوگ آج کم ا ہمیت دینے لگے ہیںجس کی وجہ سے مشترکہ خاندانی نظام کی جڑیں کمزور ہوتی جارہی ہیں۔ آج کے دور میں بچے بہت ہی چھوٹی عمر سے اپنی مرضی کی زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں اور اپنی ذاتی زندگی میں اپنے والدین تک کی مداخلت برداشت نہیں کرتے اور نہ ہی خاندان کے کسی اور فرد کی۔ اس صورتحال میں مشترکہ خاندانی نظام ناکامی کا شکار نظر آتا ہے۔
 آج کے دور میں جہاں انسان کے لئے بہت سی سہولیات کا حصول نہ صرف ضروری ہو گیا ہے بلکہ رشتوں کو پس ِ پشت ڈالنا اہم ضرورت بنتا جا رہا ہے والدین ایک ہی چھت تلے دس دس بچوں کو پالتے ہیں مگر جب ان کا وقت آتا ہے تو اپنے سگے بچے ہی ان سے جان چھڑانے کے لئے آپس میں لڑتے ہیں اور والدین کو ٹینس بال کی مانند کبھی ایک کورٹ تو کبھی دوسرے کورٹ میں ان کی مرضی جانے بغیر ادھر سے اُدھر پھینکتے رہتے ہیں اور وہ بیچارے خاموش تماشائی کی طرح اپنے ساتھ ہوتے سلوک کو دیکھتے سہتے اپنے اندر بہت سا حبس اور غبار جمع کرتے ہوئے موت کی تمنا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ زندگی ان کے لئے ایک بوجھ بن کہ رہ جاتی ہے۔ یہ تو صرف ماں باپ کی بابت کیا جانے والا سلوک ہے جو اب ہمارے معاشرے میں بھی ناسور کی طرح تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔ دادا دادی، نانا نانی، پھپھو خالہ چاچا، ماموں یہ تو اب دور پرے کے رشتوں میں شمار ہوتے ہیں بعض گھرانوں میں تو با قاعدہ طور پہ بچوں کو ان سب سے دور رکھا جاتا ہے خاندان میں ہونے والی تقریبات سے بچوں کو یہ کہہ کر شامل ہونے سے روکا جاتا ہے کہ اپنی پڑھائی پر توجہ دیں ان فضولیات میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
 ایسے رویے ہی بچو ں میں خود پسندی بے حسی کو فروغ دینے کا باعث بنتے ہیں۔ اسلام ہمیں بھائی چارے کا درس دیتا ہے دکھ درد میں ساتھ نبھانے کا دس دیتا ہے، والدین بہن بھائی کے حقوق کی پاسداری کا درس دیتا ہے، بندوں کے حقوق کا درس دیتا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب انسان کو انسان سمجھتے ہوئے ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔اور یہ سب تب بہتر طور پر ہوسکتا ہے جب جوائنٹ فیملی سسٹم کی افادیت سے استفادہ کیا جائے۔ مشترکہ خاندان کے بچّے اپنے والدین اور دیگر بزرگوں کی زیر ِنگرانی تربیت پاتے ہیں، تو اخلاقی قدریں بھی زیادہ بہتر طور پر سیکھتے ہیں۔ ایسے بچّوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے کنبے کے کئی افرادموجود ہوتے ہیں۔ چونکہ ان پر پابندیاں بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں، تو عملی زندگی میں اصولوں کی زیادہ پاسداری کرتے ہیں اور روایات پسند ہوتے ہیں۔ نیز، گھر کے اہم فیصلوں میں اُن کی آراء کو فوقیت دی جاتی ہے اور بچّے،بڑے سب ہی اُن کے ساتھ خوشی خوشی وقت گزارتے ہیں۔ نیز، مختلف تہواروں، میل ملاقات کے مواقع پر بھی مل جُل کر رہنے والے بہ نسبت انفرادی خاندانی نظام میں پلنے والوں کی نسبت زیادہ لطف اٹھاتے ہیں۔
 کوئی بھی نظام چاہے وہ مشترکہ ہو یا علاحدہ اس وقت تک کامیاب یا ہمارے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا جب تک ہمارے اندر صبر، ایک دوسرے کی باتوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت، میانہ روی، اچھے برے کا فرق کرنے کی سمجھ اور دوسروں کے بارے میں بھی اپنی ہی طرح سوچنے کی صلاحیت پیدا نہیں ہو گی۔ اگر ہمارے اندر یہ تمام باتیں نہیں ہوں گی تو ہم کسی بھی نظام میں رہتے ہوئے بھی خوش اور مطمئن نہیں رہ پائیں گے اور نہ ہی لوگ ہم سے خوش ہوں گے۔ اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ چاہے آپ مشترکہ خاندانی نظام میں رہیں یا علاحدہ اپنے دلوں کو اپنے خاندان کے افراد کی طرف سے صاف رکھیں۔ اچھی باتوں کو ہمیشہ یادرکھیں اور بری باتوں کو جلد از جلد بھول جائیں۔ خود بھی خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کریں۔
 مشترکہ خاندانی نظام مشرقی روایات کا ایک ثبوت ہے۔ اس کی مضبوطی کو روایات کی مضبوطی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایک چھت کی نیچے رہنا ممکن نہ ہو تو نہ سہی مگر دلوں کو ضرور جوڑے رکھئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK