عیدالاضحیٰ کے ایام میں خواتین کی ذمہ داریاں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہیں۔ صبح سے رات تک گھر کی صفائی، مہمان نوازی، بچوں کی دیکھ بھال، پکوانوں کی تیاری، گوشت کی ترتیب، تقسیم اور محفوظ کرنے جیسے متعدد کام ان کے ذمے ہوتے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 27, 2026, 2:41 PM IST | Samina Shahnawaz | Mumbai
عیدالاضحیٰ کے ایام میں خواتین کی ذمہ داریاں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہیں۔ صبح سے رات تک گھر کی صفائی، مہمان نوازی، بچوں کی دیکھ بھال، پکوانوں کی تیاری، گوشت کی ترتیب، تقسیم اور محفوظ کرنے جیسے متعدد کام ان کے ذمے ہوتے ہیں۔
عیدالاضحیٰ کے ایام میں خواتین کی ذمہ داریاں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہیں۔ صبح سے رات تک گھر کی صفائی، مہمان نوازی، بچوں کی دیکھ بھال، پکوانوں کی تیاری، گوشت کی ترتیب، تقسیم اور محفوظ کرنے جیسے متعدد کام ان کے ذمے ہوتے ہیں۔ اسکے ساتھ قربانی کے بعد آلائشوں کی صفائی اور ماحول کو پاک و صاف رکھنا بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ بلاشبہ یہ تمام امور جسمانی طور پر تھکا دینے والے ہوتے ہیں، مگر اگر انہیں عبادت اور خدمت کے جذبے سے انجام دیا جائے تو یہی کام باعث ِ اجر و ثواب بن جاتے ہیں۔
آج کل یہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض خواتین قربانی کے موقع پر اضافی کام کے بوجھ کی وجہ سے جھنجھلاہٹ یا بیزاری کا اظہار کرنے لگتی ہیں۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم پر اپنے لخت ِ جگر کو قربان کرنے کیلئے آمادگی ظاہر کر دی تو ہمیں بھی اپنی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں اور وقتی مشقتوں کو خوشدلی سے برداشت کرنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: ایثار ایک مہذب اور کامیاب معاشرہ کی بنیاد ہے
خواتین اگر چاہیں تو عیدالاضحی کو اپنے گھروں میں حقیقی معنوں میں روحانی اور تربیتی ماحول میں تبدیل کرسکتی ہیں۔ بچوں کو قربانی کی تاریخ سنائیں، انہیں بتائیں کہ قربانی کا مقصد صرف گوشت کھانا نہیں بلکہ غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مندوں کو یاد رکھنا بھی ہے۔ گوشت تقسیم کرتے وقت رشتے داروں، پڑوسیوں اور مستحق افراد کا خاص خیال رکھا جائے تاکہ عید کی خوشیاں ہر گھر تک پہنچ سکیں۔ یہ بھی خواتین ہی کی حسنِ تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے کہ بچے سخاوت، ہمدردی اور ایثار کا جذبہ سیکھتے ہیں۔
اسلام صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔ قربانی کے بعد صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام کرنا نہ صرف دینی تقاضا ہے بلکہ سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ خواتین گھر کے افراد کو اس بات کی تلقین کریں کہ گندگی سڑکوں اور گلیوں میں نہ پھیلے، کیونکہ ایک مسلمان کی پہچان اس کا حسنِ اخلاق اور طہارت ہوتی ہے۔ اگر ہر گھر اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرے تو معاشرہ پاکیزہ اور خوبصورت بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آپ کی جلد کی خوبصورتی کیلئے میک اپ سے زیادہ مناسب اور متوازن غذا ضروری ہے
قربانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ انسان صرف جانور ہی نہیں بلکہ اپنے غرور، حسد، خود غرضی، لالچ اور بے صبری کو بھی قربان کرے۔ گھروں میں محبت، تعاون اور شکرگزاری کی فضا قائم کی جائے۔ خواتین چونکہ خاندان کی بنیاد اور تربیت کا مرکز ہوتی ہیں، اسلئے ان کا مثبت کردار پورے گھر کے ماحول کو خوشگوار بنا دیتا ہے۔
ہم عیدالاضحی کو صرف ظاہری رسموں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر شامل کریں۔ اگر قربانی کے ان مبارک دنوں میں ہم اخلاص، صبر، خدمت، ایثار اور محبت کو اپنا شعار بنالیں تو یقیناً ہماری عبادتیں اللہ تعالیٰ کے یہاں زیادہ مقبول ہوں گی اور معاشرہ بھی امن و محبت کا گہوارہ بنے گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قربانی کی حقیقی روح سمجھنے اور اخلاص کے ساتھ اس عظیم عبادت کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔