آج ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو ایک دوسرے کی فکر کم ہوتی جا رہی ہے۔ رشتوں میں دوری بڑھ رہی ہے۔ بچے ہی نہیں بلکہ بڑے بھی ملاقات اور تعلقات نبھانے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 27, 2026, 2:34 PM IST | Shahida Warisiya | Mumbai
آج ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو ایک دوسرے کی فکر کم ہوتی جا رہی ہے۔ رشتوں میں دوری بڑھ رہی ہے۔ بچے ہی نہیں بلکہ بڑے بھی ملاقات اور تعلقات نبھانے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
معاشرے میں جذبۂ ایثار کی کمی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے، کیونکہ لوگوں میں دوسروں کی مدد کرنے، قربانی دینے، ہمدردی جتانے اور اپنے مفاد سے بڑھ کر دوسروں کے فائدے کا خیال رکھنے کا جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ آج لوگ صرف اپنی ضرورت اور فائدے کے بارے میں سوچتے ہیں اور دوسروں کی بھلائی یا مدد کے لئے کم ہی تیار ہوتے ہیں۔
لڑائی جھگڑے
ہم ٹرین یا بس میں سفر کے دوران اپنے پاس کھڑے بزرگ افراد کو اُن کی عمر کا خیال رکھتے ہوئے بھی اپنی سیٹ نہیں دیتے۔ اگر کسی کو دھکا لگ جائے تو فوراً لڑائی جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سب جذبۂ ایثار کی کمی کی مثالیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عید اور گرمی: یہ نسخے جلد نکھارنے میں معاون ہیں
پڑوسیوں سے بے خبر
اگر پڑوس میں کوئی بیمار ہو یا کسی کا عزیز اسپتال میں داخل ہو، تو ہم اُن کی عیادت کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ اگر اُنہیں مالی مدد کی ضرورت ہو تو بھی بہت کم لوگ اُن کی مدد کے لئے آگے آتے ہیں۔ عام طور پر ہمیں اپنے پڑوسیوں کے متعلق کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا۔ کیونکہ اب زیادہ تر فلیٹوں کے دروازے بند ہوتے ہیں اور لوگ خود کو اپنی ذات تک محدود رکھتے ہیں۔
سوشل میڈیا کا رجحان
آج ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو ایک دوسرے کی فکر کم ہوتی جا رہی ہے۔ رشتوں میں دوری بڑھ رہی ہے۔ بچے ہی نہیں بلکہ بڑے بھی ملاقات اور تعلقات نبھانے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر کہیں حادثہ پیش آجائے تو لوگ مدد کرنے کے بجائے ویڈیو بنانا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دوسروں کی راہ روشن کرنے سے ہماری راہ بھی منور ہوتی ہے
نفرت، حسد اور بے حسی
ہمارے معاشرے میں نفرت، حسد اور بے حسی بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی ذات پوچھتے ہیں، ذات پات کی بنیاد پر حسد اور لڑائی کرتے ہیں۔ اس سے محبت اور بھائی چارہ کمزور ہو رہا ہے۔
اتحاد اور بھائی چارہ
پڑوسیوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے حقوق ادا نہیں کئے جاتے۔ رشتوں میں محبت، ہمدردی اور تعاون کم ہوتا جا رہا ہے اور ہر شخص صرف اپنے فائدے اور آرام کے بارے میں سوچتا ہے۔
مادی اشیاء سے محبت
ماضی میں انسان کی قدر کی جاتی تھی لیکن موجودہ دور میں مادی اشیاء سے محبت کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان ایک دوسرے کی قدر کرنا بھول گیا ہے۔ اب اس صورت میں بھلا انسان اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح کیسے دے سکتا ہے!
یہ بھی پڑھئے: بقرعید کی پیشگی تیاریاں کر لیجئے
اسباب
* خود غرضی اور مادہ پرستی کا بڑھ جانا
* دینی اور اخلاقی تعلیم کی کمی
* دوسروں کے دکھ درد سے بے حسی
* مقابلہ بازی، نفرت اور حسد
* وقت، مال یا محنت سے دوسروں کی مدد کرنے سے کترانا
* سوشل میڈیا کی زیادتی اور رشتوں میں دوری
* خدمت ِ خلق اور قربانی کے جذبے کی کمی
* ذات پات کے جھگڑے
* فلاحی اور سماجی کاموں میں کم دلچسپی
* معاشرے میں اتحاد اور ہمدردی کا کمزور ہونا
یہ بھی پڑھئے: ایثار ایک مہذب اور کامیاب معاشرہ کی بنیاد ہے
حل
معاشرے میں جذبۂ ایثار پیدا کرنے کے لئے ہمیں درج ذیل باتوں پر عمل کرنا چاہئے:
* غریب اور ضرورت مند لوگوں کو کھانا، کپڑے اور مالی مدد دینا
* بیمار اور بزرگ افراد کی خدمت کرنا
* والدین اور اساتذہ کو اچھے اخلاق اور ایثار کی مثال بننا چاہئے
* دکھی انسان کو تسلی اور حوصلہ دینا
* بچوں کی تعلیم میں مدد کرنا
* راستہ بھٹکے ہوئے شخص کی رہنمائی کرنا
* پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے کام آنا
* مشکل میں پھنسے لوگوں کی مدد کرنا
* دوسروں کے ساتھ محبت، نرمی اور احترام سے پیش آنا
* اپنے علم اور تجربے سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا
* صفائی، شجر کاری اور فلاحی کاموں میں حصہ لینا
اسلام میں دوسروں کی مدد کرنا بہت بڑی نیکی اور ثواب کا کام ہے۔ یہ ذی الحجہ کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ ہمیں قربانی کے حقیقی معنی سے واقف کراتا ہے۔ اپنی ذات سے زیادہ دوسروں کے کام آنا چاہئے۔ اپنی دولت سے کچھ حصہ ضرورتمندوں تک پہنچانا چاہئے۔ نئی نسل کو بھی دوسروں کے کام آنے کی تلقین کرنی چاہئے۔ مصیبت کے وقت میں لوگوں کی مدد کرنی چاہئے۔ آئیے عہد کرتے ہیں کہ اس ماہ اپنی خود غرضی اور انا کو قربان کر دیں گے۔ دوسروں کے لئے ہمدردی کا جذبہ رکھیں گے۔ اگر ہم اپنے اندر جذبۂ ایثار پیدا کریں تو ہمارا معاشرہ محبت، بھائی چارے اور ہمدردی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔