موسم ِ سرما میں بچے زیادہ توجہ چاہتے ہیں

Updated: November 16, 2020, 11:48 AM IST | Inquilab Desk

بچے بہت زیادہ نازک ہوتے ہیں اور چونکہ اس وقت بچوں کے امنیاتی نظام کی نشوونما ہو رہی ہوتی ہے اس لئے وہ زیادہ بیمار پڑسکتے ہیں، ٹھنڈ کے دنوں میں موسم بدلنے سے ان پر اثر پڑتا ہے، یقیناً آپ ہر ممکن ریقے سے اپنے بچے کا پورا خیال رکھ رہی ہیں مگر سردی میں اسے زیادہ دیکھ بھال اور محبت کی ضرورت ہے

Baby with Mom - Pic : INN
موسم ِ سرما میں بچے زیادہ توجہ چاہتے ہیں ۔ تصویر : آئی این این

موسمِ سرما کی آمد آمد ہے۔ایسے میں ماؤں کی بچے کے تئیں فکر بڑھ جاتی ہیں۔ سردیوں میں بچے کی دیکھ بھال کیسے کرنی چاہئے اس بارے میں رشتہ داروں اور دیگر والدین سے آپ کو کئی صلاح ملیں گی جس کی وجہ سے یہ کام اتنا مشکل نہیں لگے گا مگر آپ کنفیوز ہوسکتی ہیں۔
 بچے بہت زیادہ نازک ہوتے ہیں اور چونکہ اس وقت بچوں کے امنیاتی نظام کی نشوونما ہو رہی ہوتی ہے اس لئے زیادہ بیمار پڑسکتے ہیں اور خاص کر ٹھنڈ کے دنوں میں موسم بدلنے سے ان پر اثر پڑتا ہے۔ آپ کو اس موسم کی ٹھنڈی ہوائیں اچھی لگ سکتی ہیں اور آپ کو گھر سے باہر جانے کا بھی من کرے گا مگر یہ آپ کے بچے کے لئے صحیح نہیں ہے۔ یقیناً آپ ہر ممکن طریقے سے اپنے بچے کا پورا خیال رکھ رہی ہیں مگر سردی میں اسے زیادہ دیکھ بھال اور محبت کی ضرورت ہے۔ آیئے جانتے ہیں کہ ٹھنڈی کے موسم میں آپ اپنے بچے کا پورا خیال کیسے رکھ سکتی ہیں:
بچوں کی غذا
 نوزائیدہ بچے موسم کی سختی کو برداشت نہیں کرپاتے، لہٰذا والدین کو چاہئے کہ وہ موسم ِ سرما کے آنے سے پہلے ہی بچوں کی غذا میں ایسی چیزیں شامل کرنا شروع کردیں کہ ایسی بیماریاں زیادہ شدت اختیار نہ کرسکیں۔ ایسی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، جن کے سبب ان بیماریوں کی روک تھام ممکن ہوسکے۔ کیونکہ نزلہ بخار کی شدت کی وجہ سے نمونیا ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے بچوں کی پسلیاں چلنے لگتی ہیں اور انہیں سانس لینے میں قدرے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
گرم کپڑے پہنائیں
 چھوٹے بچوں کے پاؤں ، سر اور سینے کو خاص طور پرگرم کپڑوں سے ڈھانپ کر رکھنا چاہئے۔ بڑے بچوں کو بھی اسی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کہ انہیں مناسب گرم کپڑے پہنائے جائیں۔ انہیں ٹھنڈے پانی کے استعمال سے دور رکھا جائے، بازا رکی اشیاء جیسے کہ پاپڑ، ٹافیوں اور چاکلیٹ وغیرہ سے دور رکھا جائے کیونکہ اس سے گلے اور سینے میں انفیکشن کا اندیشہ ہوتا ہے لہٰذا خصوصی توجہ دیں۔
گرم پانی سے نہلائیں
 جب بچوں کو نہلانا ہوتو اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ انہیں نیم گرم پانی سے نہلائیں اور نہلانے کے بعد اجوائن کا قہوہ بناکر پلائیں۔
گھریلو نسخے کارآمد
 اس موسم میں شہد کا استعما ل بھی بے حد مفید ہے جبکہ اُبلے ہوئے انڈے کی زردی بھی فائدہ مند ہے۔ نوزائیدہ بچوں کو انڈے کی کچی پکی زردی چٹائی جائے اور بڑے بچوں کو اُبلے ہوئے انڈے کے ساتھ نیم گرم دودھ دیا جائے۔
مالش کریں
 یوں تو ہر موسم میں ہی بچوں کی مالش پابندی سے کرنی چاہئے،لیکن موسم ِ سرما میں بچوں کی جلد کو اضافی توجہ اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیم گرم پانی سے غسل کرنے کے بعد سرسوں کے تیل سے اپنے بچوں کی خوب رگڑ رگڑ کے مالش کریں، یہ مالش ان کی جلد کو قوت بخشے گی۔ جلد ہمارے جسم کا حساس ترین حصہ ہے اور بچوں کی جلد تو بہت ہی نرم و نازک ہوتی ہے، اسی لئے شروع سے اس کی حفاظت کریں۔ بچپن سے ہی ان باتوں پر توجہ دینے کے نتیجے میں بچے صحت کے مختلف مسائل کا شکار ہونے سے بچے رہیں گے۔ آپ کی ذراسی توجہ کی بدولت ابتدا ہی میں ان مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ بچوں کی مالش اس وقت تک جاری رکھیں، جب تک وہ کم از کم ۵؍ سال کے نہ ہوجائیں۔
صاف صفائی
 سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ بچے کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں ۔ بچے کو نہلانے سے قبل کسی بےبی آئل سے اس کے جسم کا اچھی طرح مساج کریں اور نیم گرم پانی سے نہلانے کے بعد کچھ دیر دھوپ میں لٹائیں ۔ بچے کو نہلا کر فوراً باہر نہ لے آئیں بلکہ پہلے اس کے جسم پر موئسچرائزر لگائیں تاکہ جلد خشکی کا شکار نہ ہو ۔ خشک جلد پھٹنا شروع ہو جاتی ہیں اور خارش کا سبب بنتی ہے ۔ لہٰذا بچے کو دھوپ میں لٹانے سے پہلے اس کے جسم پر کوئی معیاری موئسچرائزر ضرور لگائیں۔
باہر جاتے وقت احتیاطی تدابیر
 یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنے بچے کو باہر کی سرد ہواؤں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر باہر جانا بہت ضروری ہے تو بچے کو گرم کپڑے پہنائیں اور اس کی چھاتی، کان، ہاتھ، پیروں کو اچھی طرح سے ڈھانک دیں۔ اگر باہر جانا بہت ضروری نہیں ہے تو آپ دوپہر میں یا بعد میں جب ٹھنڈ کم ہو تو کبھی بھی باہر جائیں۔
ہلکی چادریں
 سردی میں بچے کو ٹھنڈ نہ لگے اس لئے اکثر مائیں سلاتے وقت اس پر بھاری بھرکم چادریں ڈال دیتی ہیں مگر یہ آپ کے بچے کے لئے صحیح نہیں ہے۔ حالانکہ موزے اور ہلکی چار سے بچے کو اتنی گرماہٹ مل جاتی ہے۔ بھاری بھرکم چادر سے بچے کو سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK