بچوں کوموبائل فون دینےسےقبل یہ باتیں جان لیں

Updated: January 25, 2023, 11:16 AM IST | Mumbai

اب تک ڈھیروں تحقیقی رپورٹس آچکی ہیں جو بچوں کے ذہن، جسم، جذبات اور رویوں پر موبائل اور انٹرنیٹ سے مرتب ہونے والے گہرے اثرات اور نقصانات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ موبائل فون زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے سب سے زیادہ بچہ کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ بچوں کو موبائل فون دینے سے قبل محتاط رہیں

Keep children engaged in other activities to prevent them from using mobile phones
بچوں کو موبائل فون استعمال کرنے سے باز رکھنے کیلئے انہیں دیگر سرگرمیوں میں مصروف رکھیں

سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے ہماری زندگی کے رنگ ڈھنگ، معمولات اور طور طریقے مکمل طور پر بدل کر رکھ دیئے ہیں۔ بچوں کی تربیت کا انداز بھی یکسر بدل گیا ہے۔ زندگی کی ضروریات اور والدین کی مصروفیات میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا اور وہ بچوں سے دور ہوتے چلے گئے۔ ایسی صورتحال میں ٹیکنالوجی موبائل فون کا روپ دھار کر بڑی آہستگی سے زندگی میں داخل ہوئی اور پھر یہ فون خود ہی ایک مکمل زندگی بن گیا۔ کہنے کو یہ رابطے کا، بات کرنے کا فقط ایک آلہ تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ والدین نے اسے بچوں کو مصروف رکھنے، سیکھنے، سمجھنے اور تفریح کا ایک ذریعہ سمجھ لیا۔ ان کا خیال تھا کہ موبائل فون پر بچہ کارٹون اور دوسرے تفریحی پروگرامات دیکھے گا یعنی وہ رنگین دنیا میں گم رہے گا اور وہ سکون سے رہیں گے۔ کہنے سننے میں تو یہ طریقہ بڑا بھلا معلوم ہوتا تھا لیکن اس کے نقصانات سامنے آتے جا رہے ہیں۔
موبائل فون کے بچوں پر اثرات
 اب تک ڈھیروں تحقیقی رپورٹس آچکی ہیں جو بچوں کے ذہن، جسم، جذبات اور رویوں پر موبائل اور انٹرنیٹ سے مرتب ہونے والے گہرے اثرات اور نقصانات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ موبائل فون زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے سب سے زیادہ بچہ کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ ایک کے بعد ایک کارٹون اور رنگ برنگی ویڈیوز کی بھرمار کے سبب بچے کی آنکھیں اسکرین پر مسلسل مصروف رہتی ہیں جبکہ دماغ میں کھچڑی بننا شروع ہوجاتی ہے کیونکہ دماغ کو پروگرام سے لطف اندوز ہونے کا سگنل دینے کی مہلت ہی نہیں مل رہی ہے۔ دماغ کی سانسیں پھول رہی ہیں کہ جو کچھ آنکھیں دیکھ رہی ہیں اسے اچھی طرح جذب کرنے کا موقع ہی نہیں مل رہا۔ مسلسل یہ کام ہونے کی وجہ سے دماغ کا سانچہ کچھ اس طرح بن جاتا ہے کہ یکسوئی والے ہر کام سے بیزاری اور گھبراہٹ ہونے لگتی ہے اور یہ چیز آگے چل کر عملی زندگی میں باقاعدہ مسئلہ بن جاتی ہے۔
وقت سے پہلے ضرورت سے زیادہ معلومات
 ہر چیز اپنے وقت پر اچھی لگتی ہے مگر بچوں کے معاملے میں موبائل فون اور انٹرنیٹ نے اس فارمولے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ بچے کے ہاتھ میں موبائل آیا تو اس کی انگلیاں اسکرین پر گھومنے لگیں، اس کو ایسے سمجھیں کہ وال کھل گیا ہے اور معلومات کا ٹینکر بھرنا شروع ہوگیا ہے۔ پھر ایک خطرناک مرحلہ آتا ہے کہ معلومات کی فراوانی کی وجہ سے والدین حتیٰ کہ اساتذہ پیچھے اور بچہ ان سے آگے بھاگ رہا ہوتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ آج کل بچے اپنے ماں باپ کو مختلف فیچرز کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں۔ بعض دفعہ والدین اس بات کا اظہار فخریہ انداز میں کرتے ہیں مگر یہ تشویشناک بات ہے۔ وقت سے پہلے بچوں کا ضرورت سے زیادہ معلومات حاصل کرنا ان کے لئے ہی نقصاندہ ہے کیونکہ بچہ حاصل ہونے والی معلومات کی خود تصدیق و توثیق کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب والدین تصور کرسکتے ہیں کہ وقت سے پہلے ہر معلومات کو خود مشق کرکے آزمانا کیا نتیجہ لاسکتا ہے۔
آخر، والدین کیا کریں؟
 موبائل فون کے نقصان اور فوائد دونوں کے بارے میں دلائل بیان کئے جاسکتے ہیں لیکن اس حقیقت کو قبول کئے بغیر بھی چارہ نہیں کہ موبائل فون رابطے کے علاوہ اور بہت ساری سہولیات مہیا کرتا ہے جو زندگی کا حصہ بن گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب ایسا کیا طریقہ اختیار کیا جائے کہ کام بھی چلتا رہے۔ اس حوالے سے والدین کوشش کریں کہ بچوں کی غیر موجودگی میں موبائل فون سے جو کام نمٹانے ہیں وہ نمٹالیں اور بچے جب گھر پر ہوں تو موبائل فون کا استعمال کم سے کم کیا جائے، ممکن ہے کہ ابتدا میں اس مشق میں قدرے الجھن ہو لیکن اس کے بدلے میں بچے سے جو نزدیکی اور نزدیکی کے نتیجے میں جو خوشگوار تعلق قائم ہوگا وہ آنے والے وقتوں میں شاندار بلکہ یوں کہئے حیران کن نتائج لے کر آئیگا۔
بچوں کو جسمانی سرگرمیوں کی ترغیب
 بچوں کو محض تنقید اور تلقین کے ذریعے موبائل فون کے استعمال سے دور رکھنے کی کوشش سے بات نہیں بنے گی بلکہ انہیں متبادل مصروفیت یا سرگرمی بھی مہیا کرنا ہوگی۔
 اس کے لئے جب اور جتنا موقع ملے انہیں کسی پارک یا کھیل کے میدان میں لے جائیں اور ان کے ساتھ کھیلیں۔ کچھ دیر کے لئے ان کے ساتھ بچہ بننے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، مصروفیت یا کسی اور وجہ سے بچوں کو گھر سے باہر نہ لے جاسکیں تو گھر میں کچھ انڈور کھیل کو اپنے معمول میں شامل کرلیں اور ساری کوششیں کرنے کے ساتھ یہ بات اپنے آپ کو ہمیشہ یاد دلاتے رہیں کہ عادتیں بننے اور بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ اپنے بچوں کو موبائل فون دیکھنے سے باز رکھنے کے لئے جلدبازی نہ کریں۔ صبر کے ساتھ اس جانب کوشش کیجئے۔ موبائل فون دیکھنے کے لئے ایک وقت طے کریں۔ متعین وقت پورا ہونے پر فوراً موبائل فون واپس لے لیں۔ دھیرے دھیرے تبدیلی ضروری آئی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK