پُرسکون زندگی کیلئے موبائل فون سےدوری ضروری

Updated: January 11, 2022, 1:27 PM IST | Agency | Mumbai

ڈائیلوگس ان کلینکل نیورو سائنس میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق، ٹیکنالوجی کا ہماری صحت سے گہرا رشتہ ہے۔ یہ ہماری توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت، نیند، ذہنی نشوونما اور ذہانت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ موبائل فون کام کی چیز ہے مگر اس کا استعمال ایک حد میں صحت کیلئے بہتر ہے

Challenge yourself to stay away from mobile phones for 10 minutes daily. This digital detox.Picture:INN
روزانہ خود کو ۱۰؍ منٹ موبائل فون سے دور رہنے کا چیلنج دیں، یہ ڈجیٹل ڈیٹاکس کا بہترین طریقہ ہے۔ تصویر: آئی این این

ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ پڑھائی سے لے کر ملازمت تک، تفریح سے لے کر آرام تک، آج ہر چیز کے لئے ہم ڈجیٹل اسکرین کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق، جسم اور دماغ کو صحتمند رکھنے کے لئے کبھی کبھی اس سے دوری اختیار کرنا ضروری ہے۔ ڈائیلوگس ان کلینکل نیورو سائنس میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق، ٹیکنالوجی کا ہماری صحت سے گہرا رشتہ ہے۔ یہ ہماری توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت، نیند، ذہنی نشوونما اور ذہانت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ ساتھ ہی زیادہ اسکرین دیکھنے سے ہم آئسولیٹ ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا بھی ہمارے اندر اَنا کا جذبہ پیدا کر رہا ہے۔ کبھی کبھی تو آپ کو بھی یہ خیال ضرور آتا ہوگا کہ دن کے کتنے گھنٹے موبائل فون، ٹی وی یا کسی اور قسم کی اسکرین پر آنکھیں گاڑے گزر جاتے ہیں۔ کیا اس طرز زندگی میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے؟ اس کا جواب ’ہاں‘ ہے مگر اس کے لئے آپ کو کوشش کرنی ہوگی۔ دیکھا جائے تو موبائل فون کی وجہ سے گھر کا سکون برباد ہوچکا ہے۔ اگر آپ واقعی پُرسکون زندگی چاہتی ہیں کہ تو موبائل فون سے ایک حد تک دوری بنائے رکھیں۔
چھوٹے چھوٹے قدم
 اسکرین ٹائم کو کم کرنا ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے جڑا ہے جو آپ کو بار بار فون اٹھانے سے روک سکے۔ لیکن یہ باتیں ایک ہی دن میں آپ کی زندگی کا حصہ نہیں بن جاتی ہیں۔ انہیں آہستہ آہستہ اپنی زندگی میں شامل کریں۔ مثال کے طور پر آپ دن کا ۵؍ گھنٹہ موبائل فون استعمال کرتی ہیں تو اس کا دورانیہ کم کر دیں۔ دھیرے دھیرے روزانہ اس کا دورانیہ کم کرنے کی کوشش کریں۔ ایک اور کام آپ کرسکتی ہیں، آپ روزانہ خود کو موبائل فون سے ۱۰؍ منٹ تک دور رہنے کا چیلنج دے سکتی ہیں اور پھر اس دورانیے کو بڑھاتے جائیے۔
کسی اور کا ساتھ
 اپنے ارد گرد غور کیجئے کہ کیا گھر میں یا دوستوں میں کوئی ایسا ہے جس کے ساتھ مل کر آپ اس چیلنج کو مکمل کرنا چاہیں؟ اس طرح آپ بآسانی اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔ ساتھ ہی آپ ایک دوسرے پرنظر بھی رکھ سکتی ہیں۔
موبائل فون سے دوری
 موبائل فون کو کسی دراز یا ایسی جگہ پر رکھ دیں جہاں آپ کی بار بار اس پر نظر نہ پڑے۔ کیونکہ ایسا تو بہت مشکل ہوگا کہ موبائل فون آپ کے ہاتھ میں ہو اور آپ انسٹاگرام نہ چیک کریں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے دن بھر ہاتھ میں چاکلیٹ پکڑ کر آپ وہ چیزیں کھانے کی کوشش کریں جو صحت کے لئے اچھی ہیں۔ خاص طور پر بیڈروم میں یہ طریقہ کارگر ثابت ہوتا ہے۔ رات کے وقت موبائل فون کو کمرے کے اس کونے میں رکھئے جو آپ سے دور ہو۔ عام طور پر ہم موبائل فون اپنے سرہانے رکھتے ہیں تاکہ اسے آسانی سے کبھی بھی رات میں ہاتھ بڑھا کر اٹھا سکیں۔ اگر فون کو کمرے سے باہر رکھنا اور صبح جاگنے کے لئے الارم والی گھڑی کے استعمال کا طریقہ مشکل لگ رہا ہو تو فون کو ایسی جگہ چارجنگ پر لگائیں جو آپ کے بیڈ سے دور ہو۔ اس طرح آپ بار بار ہاتھ بڑھا کر فون اٹھانے اور راتوں کو غیر ضروری استعمال سے خود کو روک سکیں گی۔
اپنی ذہنی کیفیت پر غور کیجئے
 آپ کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اسکرین سے دور رہنا ہمیں کیسا احساس کرا رہا ہے اور آپ کو ہمت بھی اسی بات سے ملے گی کہ اسکرین کے زیادہ اور کم استعمال کے درمیان آپ کو کیا فرق محسوس ہو رہا ہے۔ جب آپ اپنی ذہنی صحت، خود اعتمادی اور جسم میں بچی طاقت کے بارے میں غور کریں گے تو آپ کو احساس ہو گا کہ یہ کتنا ضروری عمل ہے۔
خود پر دباؤ نہ ڈالیں
 ڈجیٹل ڈی ٹاکس کے دوران ہونے والی ذہنی پریشانی میں ایسا سوچنا غیر معمولی نہیں کہ یہ کرنا آپ کے لئے بہت ہی مشکل ہے۔ اصل میں یہ عمل کسی کے لئے بھی مشکل ہوتا ہے، اگر دس منٹ تک بھی فون کو خود سے دور رکھنا مشکل لگے، تو بھی حیران نہ ہوں۔ بالکل ہار نہ مانیں۔ ابتدائی دنوں میں آپ کو یہ عمل مشکل ضرور لگے گا لیکن یہ آہستہ آہستہ آسان ہوتا جائے گا اور تب آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ ابتدائی دنوں میں آپ کے لئے موبائل فون کو ۲۰؍ منٹ کیلئے اپنے سے دور رکھ دینا بھی ممکن نہیں تھا۔ یہ سب کرتے وقت اپنے اوپر دباؤ نہ ڈالیں بلکہ دھیرے دھیرے خود کو اس کا عادی بنائیں۔ اپنے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور اس عمل کو کسی گیم کی طرح زندگی میں شامل کرنا، ایک بہتر طریقہ ہے۔ یاد رکھیں، ایسے بھی دن آ سکتے ہیں جب آپ کو لگے گا کہ سارے کئے کرائے پر پانی پھر گیا لیکن ہار ماننے کے بجائے اگلے دن سے پھر کوشش کریں، آپ کو ضرور کامیابی ملے گی۔ اگر آپ ٹیکنالوجی کا بے تحاشا استعمال کرتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی ماہر نفسیات سے رابطہ قائم کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK