اگر آپ سوچتے ہیں کہ پہلے، فرائض سے نمٹ لیں پھر اپنے بارے میں سوچیں گے تو ایسی سوچ درست نہیں کیونکہ زندگی یا وقت اور حالات کا کوئی بھروسہ نہیں، جسمانی توانائی و صلاحیتیں بھی عمر اور وقت کے حساب سے بدلتی رہتی ہیں۔
بڑھاپے میں ہاتھوں میں وہ طاقت اور آنکھوں میں وہ چمک باقی نہیں رہتی کہ خواب پورے کئے جائیں، اسلئے درمیانی عمر اپنی ذات کیلئے مختص کیجئے۔ تصویر:آئی این این
عمر کا درمیانی حصہ زندگی کا پُروقار اور بابرکت مرحلہ ہے مگر دیکھا گیا ہے کہ عمر کے اس پڑاؤ پر پہنچ کر اکثر افراد میں تھکن اور مایوسی غالب آجاتی ہے۔ ان میں سابقہ زندگی کی توانائی، ذوق و شوق باقی نہیں رہتے، وہ اپنے روز و شب کو گزارے لائق اسباب پر اکتفا اور بادل نخواستہ شکر میں بدل دیتے ہیں مگر جینے کا ایسا انداز شاید درست نہیں کیونکہ زندگی کسی بھی حال میں جبر اور مایوسی میں گزار دینے والی شے نہیں بلکہ گزرے ہوئے دنوں کے خوشنما احساس و آسودگی اور آنے والے وقت کی بہتر امید و فرحت کے ساتھ جینے والی نعمت ہے۔
عمر کے درمیانی پڑاؤ تک پہنچ کر ہم اپنی بیشتر ذمہ داریوں مثلاً خانگی و ازدواجی معاملات، بچوں کی پرورش، تعلیم و تربیت، ان کی شادی بیاہ، بزرگوں کی خدمت جیسے کئی فرائض سے فارغ ہوچکے ہوتے ہیں مگر یہ ساری مصروفیات جسمانی، ذہنی اور جذباتی تھکن کی صورت میں اپنا خراج ضرور وصول کرتی ہیں لہٰذا عمر کے اس حصے میں پہنچ کر اپنے تھکے ہوئے جسم کو، ذہن کو آرام دینا بے حد اہم ہے۔ اپنی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت و آسودگی کیلئے ضروری ہے کہ کچھ وقت اپنی ذات کیلئے، آرام اور اطمینان کیلئے نکالا جائے۔ ان ذمہ داریوں کو جنہیں ہم نے تنہا اپنے ناتواں شانوں پر اٹھا رکھا تھا اور شاید اب تک اٹھا رکھا ہے، کچھ کام، کچھ ذمہ داریاں ابتدا سے بانٹ لی جاتیں تو زندگی بے حد آسان ہو جاتی۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی، یہ بوجھ اب بھی بانٹے جاسکتے ہیں، اپنی تربیت پر بھروسہ کرتے ہوئے نئی نسل کو ذمہ داریاں منتقل کرنے کا یہی بہترین وقت ہے۔
جس طرح بڑے شوق سے خریدے ہوئے نئے برتن جو صرف مہمانوں کیلئے رکھے جاتے رہے، قیمتی چیزیں، چادریں، پردے، لباس جو خاص وقتوں میں استعمال کی خاطر سینت سینت کر رکھے جاتے رہے، اپنا دل مسوس کر ہر اچھی چیز کسی اور کیلئے رکھی جاتی رہی بالکل اسی طرح ہم اپنے جذبات، احساسات اور من چاہے مشغلوں کو بھی ان دیکھے مستقبل اور نادیدہ فراغت کے انتظار میں ٹالتے رہے۔ یہ کفایت شعاری نہیں تھی بلکہ جینا مؤخر کرنا تھا۔ دوسروں کیلئے بہت جی لئے.... اپنے لئے وقت کب نکالیں گے؟ اپنی پسند اور خوشی کو کب فوقیت دی جائیگی؟ اسلئے ابھی جو وقت دسترس میں ہے اسی میں سے کچھ پل اپنی استطاعت، پسند اور ذوق کے مطابق خود پر خرچ کریں۔ وہ سارے شوق پورے کریں جو دل کے کسی کونے میں پوشیدہ ہیں، مؤخر کی ہوئی ہنسی اور بیتے موسموں کی خوشگوار یادوں کو پھر سے جئیں۔ اگر زندگی صرف بسر نہیں کرنی بلکہ صحیح معنوں میں جینی ہے تو ارادہ کریں، روز کچھ لمحے کھلی فضا میں سانس لیں اور سوچیں کہ اپنے آپ میں، ماحول میں اور ترجیحات میں کسی خوش آئند تبدیلی کیلئے ہم کیا کیا کرسکتے ہیں اور ہمت کرکے کر گزریں۔ اپنے آپ کو ہمیشہ یہ یاد کرائیں کہ آپ کی زندگی پر پہلا حق آپ کا ہے اور آپ ہی ہیں جو اپنی زندگی میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔ اپنے آپ سے یہ پیمان کریں کہ اپنی نئی ترجیحات پر کام کرینگے۔
اگر یہ سوال درپیش ہے کہ ہم کس طرح اپنا روٹین بدل سکتے ہیں تو اس کا جواب ہے کہ اپنے دماغ کو نئے معمول پر بالکل ٹرینڈ کیا جاسکتا ہے جیسے سوشل میڈیا پر اسکرولنگ اور موبائل پر رابطوں کے بجائے لوگوں سے تعلقات اور ذاتی میل ملاقات کی کوشش ہو، ہلکی پھلکی ورزش یا صبح و شام کی سیر معمول بن جائے، اسکے علاوہ دن میں کسی اچھی کتاب کے چند صفحات پڑھنا، کسی دستکاری کو اپنے معمول میں شامل کرنا وغیرہ بھی ایسی چند مصروفیات ہیں جو ہمارے لگے بندھے معمول میں خوشگوار تبدیلی لاسکتی ہے۔ معمولات اچانک اور ایک دن میں تبدیل نہیں ہونگے، اس کیلئے بتدریج چھوٹی چھوٹی کوششیں جلد ہی زندگی کو ایک نیا اور بہتر رخ دے دیں گی۔
یہ حقیقت ہے کہ زندگی کی تلخیوں، جسمانی و ذہنی مشقت اور عمر بھر کے کاموں کی تھکن کے اثرات آخری عمر میں انسانی قویٰ کو کمزور کر دیتے ہیں، تلخ مزاج اور چڑ چڑا بنا دیتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ گھر خاندان اور معاشرہ میں آپ کی قدر و منزلت قائم رہیں تو اس تلخی کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔ بزرگی کی جانب بڑھنے والا یہ دور خوش مزاجی، خوش خلقی اور صبر و اطمینان کے ساتھ گزارنا ضروری ہے کیونکہ تلخ و تند رویے، غصہ اور بدگمانی دلوں میں فاصلے پیدا کرتا ہے۔ بزرگ گھر کی برکت ہوتے ہیں ان کا تجربہ نئی نسل کیلئے مشعل راہ ہوتا ہے۔ لہٰذا نرم مزاجی، صلح جو اور خوش باش طبیعت کیساتھ گھر اور ماحول میں مثبت توانائی کا سرچشمہ بنیں۔ ساتھ ہی اپنی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہ معمول کے طبی معائنے، دوائیں، پرہیز اور جسمانی سرگرمی سے غفلت کئی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے اور وہ بیماری یا معذوری صرف انہیں ہی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ تیماداروں کیلئے بھی آزمائش کا سبب بنتی ہے۔ اس کیلئے یہ طے کریں کہ کیا آپ عمر کے اس حصے میں بیمار، معذور اور مایوس انسان کی صورت میں ایک عضو معطل بن کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں یا صحت و خوش مزاجی کے ساتھ ایک مثبت وژن اور بہتر انسان کی مانند دنیا کے سامنے آنا چاہتے ہیں!