ٹرمپ نے کہاکہ ہم ایران کے پلوں کو ایک گھنٹے میں تباہ کر سکتے ہیں اور ان کی ساری توانائی کو نشانہ بنا سکتے ہیں، عباس عراقچی نے کہاکہ دھمکیاں جاری رہیں تو مذاکرات نہیں ہونگے ۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ سےمعاہدہ کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے-تصویر:آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر متنبہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ امریکہ کا یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ ہوگایا امریکہ اپنا کام مکمل کرے گا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ ہونے والے ایک تکنیکی مذاکراتی دور کا اختتام پچھلے ہفتے دوحہ میں ہوا۔یہ مذاکراتی عمل اس مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کا فالو اَپ ہیں ۔ فالو اَپ نوعیت کے اس مذاکراتی عمل کو۶۰؍ دنوں میں مکمل کیاجانا ہے تاکہ ایک حتمی معاہدہ کیا جاسکے لیکن صدر ٹرمپ کو تشویش ہے کہ ایران ابھی تک مزاحمتی انداز میں ہے۔اس پس منظر میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کریں گے یا پھر اپنا کام مکمل کریں گے۔ اگر ایسا ہی تو ہمارے لیے اپنا کام مکمل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ معاہدہ اس لیے کرنا چاہتا ہوں کہ۹۱؍ ملین کی ایرانی آبادی پر اثرات نہ آئیں۔ ٹرمپ نے اوول آفس میں رپورٹرز سے گفتگو کے دوران یہ باتیں کہیں۔
ٹرمپ نے کہا ہم ایران کے پلوں کو ایک گھنٹے میں تباہ کر سکتے ہیں اور ان کی ساری توانائی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ان کے پاس اب رقم بھی نہیں ہے ، نہ ہی ہم نے انہیں کچھ مزید رقم دی ہے۔ امرکی صدر نے یہ بات علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق سرگرمیوں کے شروع ہونے کے بعد کہی ہے۔ ان کا کہنا تھا امریکہ اسرائیل کے ۲۸؍ فروری کے حملے کے نتیجے میں ایران کمزور ہو گیا تھا مگر خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے وقت ایران پھر مزاحمتی انداز میں نظر آیا ہے۔
ٹرمپ کا ایران کی شکست کا دعویٰ
امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر جنگ میں ایران کو شکست دینے اور امریکی فوج کے طاقتور ترین ہونے کا دعویٰ کردیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات بہتر طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں جب کہ اس دوران انہوں نے وینزوئیلا میں امریکی فوج کی کارکردگی کی تعریف کی ۔
ٹرمپ نے اسرائیل ہیریٹیج فاؤنڈیشن اور اسرائیلی وزیر کی جانب سے اپنی تعریف پر مبنی کی گئی پوسٹ کو بھی شیئر کیا۔ تعریفی پوسٹ میں ٹرمپ کو اسرائیل کے مضبوط ترین اتحادیوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے یروشلم، ایران اور ابراہیمی معاہدوں سے متعلق ان کے کردار کو اجاگر کیا گیا ۔ دوسری جانب صدرٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئےترکی روانہ ہوگئے۔
دھمکیوں کی صورت میں مذاکرات نہیں ہوں گے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دھمکیاں جاری رہیں تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ لاکھوں ایرانیوں نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جنازے میں اتحادکامظاہرہ کیا، نہ ہی ایرانی عوام اور نہ ہی ہماری بہادر مسلح افواج کسی دھمکی سے متاثر ہوتی ہیں۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر۱۳؍واضح ہے، دھمکیوں کے تسلسل میں حتمی معاہدے پربات چیت شروع نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنےدستخط کا احترام کریں۔اس دوران ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے ٹرمپ کو سخت جواب دیا ہے۔محمد باقر ذوالقدر نے امریکی صدر کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر احترام کے دائرے میں رہ کر بات نہیں کی گئی تو ایران بھی دوسری زبان میں جواب دینے پر مجبور ہوگا۔ اپنے ایک بیان میں محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ امریکی صدر نے نو کروڑ دس لاکھ ایرانی عوام کو دھمکیاں دی ہیں، جو کسی بھی طور پر قابلِ قبول نہیں۔