• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچّوں کا تحفظ، باہمی اعتماد اور ہماری ذمہ داری

Updated: September 17, 2026, 4:41 PM IST | Mumbai

اپنے گھروں، اپنے محلے اور اپنے معاشرے کو بچوں کے لئے محفوظ جگہ بنانے کی کوشش کرنی ہونی چاہئے۔ بچوں کی تربیت کے دوران انہیں اپنی حفاظت کے متعلق بتائیں۔ ماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کریں تاکہ بچہ بلاجھجک اپنی پریشانی کا اظہار کرسکے۔

Children are precious; provide them with a safe environment so that their innocence remains intact. Photo: INN
بچے پیارے ہوتے ہیں ان کی معصومیت برقرار ررہے اس کیلئے انہیں محفوظ ماحول فراہم کریں۔ تصویر: آئی این این

بحیثیت والدین، ہم اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دیتے ہیں، انہیں اچھے آداب سکھاتے ہیں، بڑوں کا احترام کرنا سکھاتے ہیں، اور انہیں ایک اچھا انسان بنانے کے لئے دن رات ایک کر دیتے ہیں۔ لیکن اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ موجودہ دور میں صرف یہ روایتی تربیت کافی نہیں ہے۔ بچوں کو اچھی باتیں سکھانے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے تحفظ، ذاتی حدود اور خطرات کی پہچان سکھانا بھی تربیت کا ایک لازمی اور انتہائی ضروری حصہ بن چکا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کے ذہنوں میں یہ بات انتہائی وضاحت اور سختی کے ساتھ بٹھانی ہوگی کہ وہ کبھی بھی، کسی بھی صورت میں اور کسی کے بھی بلاوے پر، اکیلے کسی دوسرے کے گھر نہ جائیں۔ چاہے وہ گھر کسی بہت قریب رہنے والے پڑوسی کا ہو، کسی جاننے والے کا ہو یا خود کسی رشتہ دار کا ہی کیوں نہ ہو، بچے کا وہاں تنہا جانا ایک بہت بڑا خطرہ ہوسکتا ہے۔ بچے کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ جب تک اس کے والدین خود اس کے ساتھ موجود نہ ہوں یا اسے واضح اجازت نہ دیں، اسے کسی کے گھر کی دہلیز پار نہیں کرنی چاہئے۔

ہماری تربیت میں احترام ِ آدمیت اور بڑوں کی اطاعت کا عنصر اتنا غالب ہوتا ہے کہ بچہ کسی بڑے شخص کی بات ٹالنے یا اس کا حکم ماننے سے انکار کرنے کو گناہ یا بے ادبی سمجھتا ہے۔ بدقسمتی سے بُرے عناصر بچوں کی اسی معصومیت اور اطاعت گزار فطرت کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ بچوں کو یہ بتانا ہو گا کہ اپنی حفاظت کے لئے کسی بڑے کو ’ناں‘ کہنا بے ادبی نہیں بلکہ ایک بالکل درست اور ضروری قدم ہے۔ بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی پہچان کروائیں۔ بچے کو یہ واضح طور پر بتایا جائے کہ اگر کوئی شخص اسے غیر مناسب طریقے سے چھونے کی کوشش کرے، اسے ناگواری یا عجیب سا احساس دلائے، یا اس کے ساتھ کوئی ایسی حرکت کرے جس سے وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرے، تو اسے خاموش رہنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں بچے کو بغیر کسی خوف کے فوراً اونچی آواز میں چلانا چاہئے، اس جگہ سے فوری طور پر دور ہٹ جانا چاہئے اور دوڑ کر اپنے والدین کے پاس جا کر سب کچھ سچ سچ بتا دینا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے:اپنے لئے وقت نکالئے ورنہ اس کا کام گزرنا ہے، بے فیض گزر جائیگا!

اس سلسلے میں ایک اور اہم نقطہ بچوں کو خوفناک رازوں سے آزاد کرنا ہے۔ عام طور پر بچوں کے ساتھ زیادتی یا ہراساں کرنے والے افراد بچوں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں یا انہیں لالچ دیتے ہیں۔ وہ بچے سے کہتے ہیں کہ ’’اگر تم نے یہ بات اپنے امی ابو کو بتائی تو مَیں تمہارے والدین کو نقصان پہنچاؤں گا‘‘ یا ’’اگر تم نے یہ راز رکھا تو مَیں تمہیں ایک خوبصورت کھلونا دوں گا!‘‘ بچے اپنے معصوم ذہن کے ساتھ اس خوف کا شکار ہو جاتے ہیں اور اندر ہی اندر کڑھتے رہتے ہیں، لیکن کسی سے ذکر نہیں کرتے۔ والدین، خاص طور پر ماں کو اپنے بچوں کے ساتھ ایک ایسا دوستانہ، پر اعتماد اور شفقت سے بھرا تعلق قائم کرنا چاہئے کہ بچہ کسی بھی خوف کے بغیر اپنے ہر احساس کا اظہار کرسکے۔ بچے کو یہ یقین دہانی کرائی جانی چاہئے کہ دنیا میں کوئی بھی بات یا کوئی بھی راز ایسا نہیں ہے جو وہ اپنے ماں باپ سے چھپائے۔ اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ چاہے کوئی اسے کتنا ہی ڈرائے یا دھمکائے، اس کے والدین ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑے ہیں، اس کی بات پر یقین کریں گے اور اس کی حفاظت کریں گے۔ جب بچے کے اندر سے خوف کا یہ عنصر ختم ہو جائے گا، تو وہ کسی بھی غیر مناسب واقعے کو راز بنانے کے بجائے فوراً اپنے والدین کے سامنے رکھ دے گا۔

بچوں کا تحفظ صرف اس بات پر منحصر نہیں ہے کہ ہم انہیں کیا سکھاتے ہیں، بلکہ اس کا اصل انحصار اس بات پر ہے کہ ہم بطور والدین اور نگہبان خود کتنے بیدار، محتاط اور فعال ہیں۔ ہماری مسلسل موجودگی، ہماری کڑی نگرانی اور ہماری احتیاط بچوں کے تحفظ کی سب سے مضبوط ڈھال ہے۔ اگر ہم اپنے بچے کو گھنٹوں نظروں سے اوجھل رہنے دیں، ہمیں یہ خبر نہ ہو کہ وہ کہاں ہے، کس کے ساتھ ہے، اور کیا کر رہا ہے، تو ہم اپنے فرض سے غفلت برت رہے ہیں۔ جب بچہ گھر سے باہر ہو، چاہے وہ کھیل کا میدان ہو، گلی ہو یا کسی رشتہ دار کا گھر، والدین کو ہمیشہ اس پر نظر رکھنی چاہئے یا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو اس کی دیکھ بھال پر مامور کرنا چاہئے۔

انٹرنیٹ پر موجود غیر محفوظ مواد اور آن لائن ملنے والے اجنبی افراد بھی بچوں کے لئے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ والدین کیلئے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے ڈجیٹل استعمال پر بھی کڑی نظر رکھیں اور انہیں آن لائن دنیا کے خطرات کے بارے میں بھی آگاہ کریں۔ لیکن تمام تر احتیاطی تدابیر اور حکمت ِ عملی کی بنیاد صرف ایک ہی چیز پر قائم ہے: والدین کا بیدار مغز اور محتاط ہونا۔ ہماری ذرا سی لاپروائی سے بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔

ہر ماں، ہر باپ، ہر استاد اور معاشرے کے ہر ذمہ دار فرد کو اپنے گردوپیش کے بچوں کے تحفظ کے لئے متحرک ہونا ہوگا۔ ہمیں اپنے گھروں، اپنے محلے اور اپنے معاشرہ کو بچوں کے لئے محفوظ جگہ بنانا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK