• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چوری شدہ لیمرز کو ممکنہ طور پر ہندوستان کے ارب پتی کے نجی چڑیا گھر لےجایا گیا: بنگلہ دیش

Updated: September 17, 2026, 5:04 PM IST | Dhaka

بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ دو چوری شدہ لیمرز کو ہندوستان میں ارب پتی کے نجی چڑیا گھر لے جایا گیا ہو سکتا ہے، ساتھ ہی ڈھاکہ جانوروں کی واپسی کے لیے انٹرپول کی مدد مانگ رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس
بنگلہ دیش کےحکام اور رپورٹس کے مطابق، ایک سفاری پارک سے چوری کیے گئے دوحلقہ دار دم والے  لیمرز کو ہندوستان اسمگل کیا گیا اور وہ ممکنہ طور پر ہندوستان کے امیر ترین خاندان کے زیر انتظام ایک نجی چڑیا گھر میں پہنچ گئے ہیں۔بنگلہ دیش کے کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے کہا کہ لیمرز مارچ۲۰۲۵ء میں غازی پور سفاری پارک سے چوری کیے گئے تین کے گروہ کا حصہ تھے اور بیرون ملک اسمگل کیے گئے تھے۔ تین میں سے ایک بنگلہ دیش میں ہی رہا اور حکام نے اسے برآمد کر لیا ہے۔
 
 
بعد ازاں بنگلہ دیشی روزنامہ آجکر پتریکا نے رپورٹ کیا کہ خطرے سے دوچار جانوروں کو سرحد پار اسمگل کیا گیا اور آخر کار امبانی خاندان کے زیر انتظام ایک نجی چڑیا گھر میں پہنچ گئے۔ اخبار نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ لیمرزکئی لوگوں سے گزرتے ہوئے مغربی شہر جام نگر پہنچے، جہاں انہیں مبینہ طور پر ونتارا وائلڈ لائف سینٹر سے وابستہ ایک ادارے کو فروخت کیا گیا۔سی آئی ڈی نے بعد میں کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ آیا جانور فی الحال ونتارا میں ہیں۔سی آئی ڈی کے اسپیشل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے دی بزنس اسٹینڈرڈ کو بتایا کہ’’ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ لیمرز کو سفاری پارک سے چوری ہونے کے بعد وائلڈ لائف اسمگلنگ نیٹ ورک کے ذریعے ہندوستان لے جایا گیا تھا۔ہمیں یہ اسمگلنگ میں ملوث افراد سے پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا۔ تاہم، ہم ابھی تک یہ تعین نہیں کر سکے ہیں کہ جانوروں کو بعد میں کہاں لے جایا گیا۔‘‘
ڈھاکہ نے اب جانوروں کی واپسی کے لیے انٹرپول سے مدد مانگی ہے، اخبار کے مطابق، مائیکرو چپس، منفرد شناختی نمبروں، یا ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے ذخیرہ شدہ ڈی این اے پروفائلز کی کمی کی وجہ سے یہ عمل پیچیدہ ہو گیا ہے۔ حکام بنگلہ دیش میں اب بھی موجود نابالغ لیمر کا ڈی این اے پروفائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اسمگل کیے گئے دو جانوروں کے ساتھ اس کے خون کے تعلق کا تعین کیا جا سکے۔ جبکہ ونتارا نے کہا کہ وہ ڈی این اے ٹیسٹ میں تعاون کرنے کو تیار ہے۔  دی انڈیپنڈنٹ کو دیے گئے ایک بیان میں، چڑیا گھر نے واضح طور پر انکار کیا کہ ان رپورٹس میں مذکور لیمرز غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش سے حاصل کیے گئے تھے یا بنگلہ دیش سے اسمگل کیے گئے جانور اس کی دیکھ بھال میں ہیں۔ساتھ ہی چڑیا گھر کا کہنا ہے کہ ونتارا میں لیمرز کے لیے جامع ماخذ ریکارڈ موجود ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں، بشمول اگر مناسب ہو تو ڈی این اے موازنہ کے ذریعے۔
واضح رہے کہ لیمرز، جو افریقہ میں مڈغاسکر میں پائے جاتے  ہیں، شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ تفتیش کاروں نے کہا کہ چوری شدہ لیمرز کو۲۰۱۸ء میں کسٹم کو غلط ڈیکلریشن کے تحت ڈھاکہ ہوائی اڈے کے ذریعے بنگلہ دیش لایا گیا تھا۔ انہیں بچا کر سفاری پارک منتقل کیا گیا۔آجکر پتریکا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیمرز کو چواڈانگا میں درشانہ بارڈر کے ذریعے ہندوستان اسمگل کیا گیا اور تقریباً۴۸؍ لاکھ روپے یا میں فروخت کیا گیا۔تفتیش کاروں نے اعترافی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جانور ایک سیکیورٹی گارڈ کی مدد سے چوری کیے گئے اور ایک بارڈر لائن مین کی مدد سے ہندوستان لے جایا گیا۔تفتیش کاروں نے کہا کہ اسمگلنگ کیس میں مشتبہ آٹھ میں سے چھ افراد نے مقامی عدالت کے سامنے اعتراف جرم کر لیا ہے۔
ذہن نشین رہے کہ ونتارا گجرات میں۳۵۰۰؍ ایکڑ پر مشتمل ایک چڑیا گھر ہے جو رادھے کرشنا ٹیمپل ایلیفنٹ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر انتظام ہے، جسے ریلائنس کی حمایت حاصل ہے، جو ایشیا کے امیر ترین افراد میں سے ایک مکیش امبانی کی ملکیت والا ایک کاروباری گروہ ہے۔ ونتاراکا تصور ارب پتی صنعت کار کے بیٹے اننت امبانی نے پیش کیا تھا۔امبانی خاندان طویل عرصے سے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ قریبی تعلقات سے لطف اندوز رہا ہے، جنہوں نے مارچ۲۰۲۵ء میں چڑیا گھر کا افتتاح کیا تھا۔جانوروں کے حقوق کے گروپوں نےجانوروں کے تحفظکے بارے میں شکوک کا اظہار کیا ہے، اس کے حصول پر شفافیت کی کمی کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے اتراکھنڈ اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں سے جانوروں کی نجی چڑیا گھر میں منتقلی کی وجہ سے سرکاری چڑیا گھروں پر اس کے اثرات پر بھی سوال اٹھایا ہے۔مزید برآںونتارا کو جانوروں کی غلط درآمد کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے جرمنی اور یورپی یونین میں حکام کی جانچ پڑتال شروع ہو گئی ہے۔ تاہم ونتارا نے ان الزامات کو مکمل طور پر جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK