غریب آدمی کیلئے پچاس ہزار کا قرض بھی بوجھ ہوتا ہے۔ امیر آدمی کیلئے پچاس لاکھ کا قرض بھی بوجھ نہیں بنتا۔ وہ مزید پچاس لاکھ کا قرض لے لے تب بھی اس کی راتوں کی نیند نہیں اُڑتی۔ اس فرق سے ہر خاص و عام واقف ہے مگر جب امیر کی امارت مشکوک ہونے لگے اور بظاہر بنگلہ، گاڑی ہونے کے باوجود لوگوں تک خبر جائے کہ اب یہ دیکھنے کا امیر رہ گیا ہے تو اس کی ساکھ بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
غریب آدمی کیلئے پچاس ہزار کا قرض بھی بوجھ ہوتا ہے۔ امیر آدمی کیلئے پچاس لاکھ کا قرض بھی بوجھ نہیں بنتا۔ وہ مزید پچاس لاکھ کا قرض لے لے تب بھی اس کی راتوں کی نیند نہیں اُڑتی۔ اس فرق سے ہر خاص و عام واقف ہے مگر جب امیر کی امارت مشکوک ہونے لگے اور بظاہر بنگلہ، گاڑی ہونے کے باوجود لوگوں تک خبر جائے کہ اب یہ دیکھنے کا امیر رہ گیا ہے تو اس کی ساکھ بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔ امریکہ کا یہی حال ہے۔ دُنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کی حقیقت اپنی جگہ مگر اس سے زیادہ موضوع بحث حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کے ملک پر ۴۰؍ کھرب ڈالر کا قرض ہے۔ ۴۰؍ کھرب ڈالر لکھنا ہو تو ۴؍ کے بعد ۱۳؍ صفر لگانے ہوں گے تب کہیں جاکر ۴۰؍ کھرب کو ہندسوں میں لکھا جاسکے گا۔ ٹرمپ اتنے بڑے قرض کی سرپرستی اور سربراہی کررہے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ نے اپنی تشکیل کا ۲۵۰؍ سالہ جشن منایا ہے۔ جب اس کی تشکیل کے ۲۰۰؍ سال مکمل ہوئے تھے تب اس کا قرض ایک کھرب ڈالر ہوجانے کے سبب پورے ملک میں تشویش تھی۔ اس وقت کے صدر ڈونالڈ ریگن نے کہا تھا کہ اگر ایک ملک اور قوم کی حیثیت سے ہمارے سامنے کوئی چیلنج ہے تو وہ ایک کھرب ڈالر کے قرض کا ہے۔ تب سے لے کر اب تک کے محض ۵۰؍ سال میں امریکی قرض ایک کھرب سے ۴۰؍ کھرب ڈالر ہوگیا ہے۔ اس میں ٹرمپ کی حصہ داری بھی ہے جس سے وہ بھلے ہی جزبز نہ ہوں مگر انکار نہیں کرسکتے۔ ۲۰۱۶ء میں جب اُنہوں نے پہلی مرتبہ صدارت سنبھالی تھی تب ۲۰؍ کھرب کا قرض تھا۔ اب یہ دوگنا ہوگیا ہے۔ ا س کی وجہ سے واشنگٹن کی تشویش آسمان پر پہنچ جانی چاہئے تھی مگر چونکہ اس کے پاس وسائل بھی کافی ہیں اس لئے بے خوابی کی شکایت سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں۔ یہی دیکھ لیجئے کہ دُنیا کے ملکوں کی ۵۶؍ فیصد ریزرو کرنسی ڈالر میں ہے۔ دُنیا کے ملکوں کی تجارت ڈالر میں ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دُرگا پوجا کے پہلے مچھلی اور مٹن پرتنازع
ڈالر ہی عالمی مارکیٹ کی بڑی کرنسی ہے۔ یہاں تک سب ٹھیک ہے۔واشنگٹن کے فکرمند نہ ہونے کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے لیکن جس طرح امیر آدمی کی ساکھ تب متاثر ہوتی ہے جب لوگوں کو خبر ملے کہ اس کی امارت دیکھنے لائق ہی بچی ہے، اسی طرح امریکی معیشت کے سوراخ بھی اب نظر آنے لگے ہیں اور لوگوں کو خبر ہوچلی ہے کہ انکل سام کی امارت اب دیکھنے لائق ہی بچی ہے۔ ایسا کہنے کی اہم وجہ یہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کار امریکہ سے پیسہ نکال رہے ہیں۔ گزشتہ سال (۲۰۲۵ء میں) محض ایک ہفتے کے اندر غیر ملکی سرمایہ کاروں نے امریکہ سے۵ء۶؍ ارب ڈالر نکال لئے تھے۔ اس کیلئے کوئی اور نہیں ٹرمپ ذمہ دار ہیں جن کے من مانے ٹیرف، جنگوں، سپلائی چین کے ٹوٹ پھوٹ جانے اور معاشی حالات کے غیر یقینی ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا بھروسہ کم ہوگیا۔ جرمنی کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ اس نے امریکہ میں ۶۵؍ فیصد سرمایہ کاری گھٹا دی۔ اس کیلئے اب چین میں کشش ہے۔ چین میں اس کا انویسٹمنٹ ۵ء۶؍ ارب یورو تک پہنچ گیا ہے۔ ایسے ہی اسباب کی بناء پر واشنگٹن کا خوف بڑھ رہا ہے۔ ’’برکس‘‘ سے انہیں خدا واسطے کا بیر کیوں ہے اب یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ علاقائی کرنسیوں میں تجارت بھی اُنہیں مسلسل ڈرا رہی ہے۔