دنیا کی طرف دیکھیں تو لگتا ہے کہ سارا مسئلہ تہذیبی اور نسلی غرور کا ہے۔ جو کچھ زمین کے اندر ہے اس پر نگاہ تو مرکوز رہتی ہی ہے مگر ایک اور بھی خاموش ایجنڈا ہے جسے تہذیبی سطح پر غرور ہی نہیں بلکہ ایک خاص طرز فکر کو مسلط کر دینا ہے۔ نگاہ کا نشانہ کچھ اور ہے۔
انسانی زندگی کیا غرور کے بغیر خوبصورت نہیں ہو سکتی؟ اس سوال کا جواب یہی ہو سکتا ہے کہ زندگی غرور کے بغیر بہت پرکشش اور خوبصورت ہو سکتی ہے۔ مگر انسانی تاریخ کو دیکھئے تو ایک غرور ہے جس نے مختلف وقتوں اور صورتوں میں زمین اور زمانے کو پامال کیا ہے۔ تہذیبی زندگی میں کسی شخص کا اپنے طور پر مغرور ہو جانا، کوئی ایسا واقعہ نہیں جس پر شدید صدمے کا اظہار کیا جائے۔ فرد واحد کے غرور کی نفسیات انسانی آبادی کے لئے اتنی خطرناک نہیں۔ حکومت اور سیاست کا مغرور اور خود سر ہو جانا انسانی اور تہذیبی زندگی کے لئے زیادہ خطرناک ہے۔
دنیا میں جنگ کی تاریخ دراصل غرور کی تاریخ ہے اور مغرور کے اسباب اور محرکات ایک سے زیادہ رہے ہیں۔ عام زندگی میں جس غرور کی کیفیت سے ہم آشنا ہیں وہ تو کبھی کبھی مغرور شخص کی مجبوریوں کے ساتھ اچھی معلوم ہوتی ہے بلکہ ایک ہمدردی سی ہو جاتی ہے کہ کوئی شخص کس طرح اور کیوں کر خود کو دوسروں سے مختلف سمجھتا ہے۔ کبھی کبھی مغرور شخص اپنی کیفیت کے ساتھ مضحکہ خیز بن جاتا ہے۔ غرور ایک ایسی کمزور طاقت ہے کہ وہ مغرور شخص کو اندر ہی اندر کمزور کرتی جاتی ہے اور اسے پتہ نہیں ہوتا۔ ایک عمر کے بعد اٹھی ہوئی مغرور گردن کو پتہ چلتا ہے کہ نسیں اب ابھر آئی ہیں۔ حکومت اور سیاست بھی معاشرے کے بعض افراد کے یہاں غرور کو بڑھاوا دینے میں ایک کردار ادا کرتی رہی ہے۔ بظاہر تو مغرور شخص خود کو بہت توانا محسوس کرتا ہے کہ اس کی ذات کے ساتھ حکومت اور سیاست کا سایہ لگا ہوا ہے۔ اسے خود اپنے وجود کے سائے کا خیال نہیں۔ وقت دھیرے دھیرے سیاست اور حکومت کا مفہوم سمجھاتا ہے مگر وقت تو بہت گزر چکا ہوتا ہے۔ ٹیگور نے ادیبوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ انا کی کینچلی سے باہر نکل آئیں۔ لیکن آج یہ محسوس ہوتا ہے کہ حکومت، سیاست، سرکار اور دربار یہ چار الفاظ بھی اس قول کے مخاطب ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:اے آئی کتنی ہرجائی!
غرور نے کتنے ستم ڈھائے ہیں ، زمین اور زمانے کو کتنا پامال کیا ہے، نشے کی کتنی صورتیں ہیں اور ہر صورت کسی خوف اور دہشت سے کم نہیں۔ طاقت خوف پیدا کرتی ہے اور خوف کی نفسیات میں قوموں کو مبتلا کر کے ذہنی اور مادی ارتقا کی راہیں مسدودوکر دیتی ہے۔ فاتح قوم غرور کے نشے میں مفتوح قوم کو اپنی روایت پر شرمندہ ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ کھیل بھی زمانے نے دیکھا ہے اور اب بھی کسی نہ کسی طور پر دنیا میں یہ کھیل جاری ہے۔ لہٰذا نسلی اور تہذیبی غرور جو بعض اوقات کسی خاندان یا مخصوص خطے میں دکھائی دیتا ہے ، اس کی رینج بڑی بھی ہو جاتی ہے۔ نسلی اور تہذیبی غرور کی ضرورت اس دنیا کو پہلے بھی نہیں تھی اور اب اس کے بارے میں اس کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے، کہ حالات بہت خراب ہیں۔ نسلی اور تہذیبی غرور دوسروں کو کمتر دیکھنے کا یا نگاہ کم سے دیکھنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔
نازی جرمنی نے آریائی لفظ کو جس تشخص اور امتیاز کے طور پر دیکھا تھا وہ دوسری جنگ عظیم اور ہولو کاسٹ کے وجود میں آنے کا وسیلہ بن گیا۔ خود کو سب سے الگ دیکھنے اور سمجھنے کا غرور، ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا تعلق اب فرد واحد سے کہیں زیادہ حکومت اور سیاست سے ہے۔ ایک عام آدمی کی زندگی میں حکومت اور سیاست کا کردار چاہے جتنا بھی اہم اور معنی خیز ہو ، وہ خود کو الگ تھلگ اور بے بس محسوس کرتا ہے۔ دنیا کی سیاست اپنی خارجہ پالیسیوں کے ساتھ الگ الگ زون اور پاکٹ بناتی ہے ، اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر جو حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے، سیاست تو اسی کا نام ہے۔ پھر بھی کسی قوم کا تشخص دوسری قوم کے تشخص کے لئے اگر خطرہ بن جاتا ہے تو اسے غرور کے طور پر دیکھا جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ تہذیبی تشخص کا غرور کیوں کر اتنی شدت اختیار کر لیتا ہے؟ اس سوال کا جواب بھی ہماری جغرافیائی صورتحال کے ساتھ ساتھ تہذیبی معاملات کے مطالعے سے مل سکتا ہے۔ کوئی بھی حساس شخص اپنی انسانی اور تہذیبی اقدار کے ساتھ ان اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا جنہیں وقت کی سیاست پیدا کرتی ہے۔ بے نیاز رہنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہے اور خود کو کسی روش پر سختی سے قائم رکھنا بھی آسان نہیں۔
دنیا کی طرف دیکھیں تو لگتا ہے کہ سارا مسئلہ تہذیبی اور نسلی غرور کا ہے۔ جو کچھ زمین کے اندر ہے اس پر نگاہ تو مرکوز رہتی ہی ہے مگر ایک اور بھی خاموش ایجنڈا ہے جسے تہذیبی سطح پر غرور ہی نہیں بلکہ ایک خاص طرز فکر کو مسلط کر دینا ہے۔ نگاہ کا نشانہ کچھ اور ہے۔ پہلے جغرافیہ ،سیاسی جغرافیہ کے نام سے جانا نہیں جاتا تھا، اب مطالعہ کا ہر عنوان سیاسی مسائل اور میلانات سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔ ہم خود کو اس صورتحال سے بچا نہیں سکتے اور کہیں گوشے میں بیٹھ کر پردہ کا انتظار بھی نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھئے:بچوں کو صرف مستقبل کا وارث نہ سمجھیں انہیں مستقبل کا معمار بنانے کی جہد کریں
سوال یہ ہے کہ پھر ایسی صورتحال میں کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے وہ بھی ایک عام اور حساس آدمی کے لئے جو خود کو تنہا بھی محسوس کرتا ہے اور بے بس بھی۔ سماجی اور تہذیبی زندگی کو مخصوص قاعدے اور قانون کے تحت دیکھنے اور اختیار کرنے کی کوشش دراصل ایک جمہوری نظام کی طرف دنیا کو متوجہ کرنا تھا۔ ایک ایسی راہ جو اعتدال کی ہو اور جس میں غرور کے لئے کم سے کم گنجائش ہو۔ خود کو سب سے الگ دیکھنے اور سمجھنے کا غرور، ایک معنی میں غیر انسانی ہے۔ اس غرور کا جواز اسی صورت میں ممکن ہے کہ دوسروں کے تشخص کا کسی نہ کسی طور پر لحاظ رکھا جائے۔
تہذیبی اور لسانی تنوع کا خیال آتا ضرور ہے لیکن عملی سطح پر حالات کچھ اور کہتے ہیں۔ غرور کا سبب ثقافتی اور لسانی تنوع سے فکری اور عملی طور پر دور ہو جانا ہے۔ مسئلہ کسی شخص کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے۔ ہر ثقافت کا اپنا ایک وطن اور اس کی اپنی ایک زمین ہے، جو اس کی شادابی کا وسیلہ ہے مگر یہ زمین دھیرے دھیرے تہذیبی سطح پر اپنا دائرہ بڑھاتی جاتی ہے اور تہذیب جغرافیائی رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دوسری تہذیب سے مکالمہ کرنے لگتی ہے۔ ایک طرف تو تہذیب اتنی کشادگی کا ثبوت فراہم کرتی ہے اور دوسری طرف تہذیبی معاشرے سے کبھی کبھی کوئی ایسی آواز سنائی دیتی ہے جو تہذیبی تنوع سے میل نہیں کھاتی، خود کو سب سے الگ دیکھنے اور سمجھنے کا غرور۔ لسانی اور تہذیبی تشخص کو بھی زمانے کے سرد و گرم سے گزرنا پڑتا ہے۔ کوئی بھی شے بھلا کس طرح اور کیوں کر ایک ہی حالت پر برقرار رہ سکتی ہے۔
انیسؔ نے کہا تھا:
خیال خاطر احباب چاہئے ہر دم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو