اگر ہاں، تو اسے بڑھتی عمر کی علامت مت سمجھئے۔ کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خراب طرز زندگی کے سبب بھولنے کا مرض خواتین، بچوں، نوجوانوں اور معمر لوگوں کو لاحق ہو رہا ہے۔ ذہنی دباؤ اور برقی آلات کا بے تحاشا استعمال انسان کی ذہنی صحت کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ذہنی صحت پر توجہ دی جائے۔
چیزوں کو یاد رکھنے کے لئے آپ اپنے ساتھ ایک ڈائری رکھ سکتی ہیں اور اس میں اہم کاموں کو نوٹ کرسکتی ہیں۔ تصویر: آئی این این
اکثر خواتین کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ انہیں کوئی کام بتایا جائے اور وہ اسے کرنا بھول جائیں۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ صبح آفس جاتے ہوئے ان کے شوہر نامدار نے کوئی خاص ڈش بنانے کا کہا ہو اور وہ جب رات کو کھانا کھانے کے لئے بیٹھیں اور خاتون خانہ سے دریافت کریں کہ انہوں نے جس ڈش کا کہا تھا، وہ کہاں ہے؟ تو پتہ چلے کہ خاتون خانہ تو وہ ڈش ہی پکانا بھول گئی ہیں۔ یقیناً اس طرح کی چیزیں بھولنے کی وجہ سے خاتون ِ خانہ کو شرمندگی بھی اٹھانی پڑتی ہے۔ یہ بہت سی خواتین کے ساتھ ہوتا ہوگا کہ وہ کام کرنے کے دوران بہت سی باتیں بھول جاتی ہیں، بعض اوقات تو بولنے کے دوران ہی یہ تک بھول جاتی ہیں کہ انہیں آگے کیا بولنا تھا۔ کبھی کبھار تو کچن میں جا کر چولہا بند کرنا بھول جاتی ہیں۔ جبکہ آپ یہ بات کہتی نظر آتی ہیں کہ یہ مرض تو بڑھاپے میں ہوتا ہے بھلا مَیں کیوں ابھی سے بھولنے لگی ہوں!
موجودہ دور میں بڑے، نوجوان اور بچے بھی باتیں بھولتے ہیں۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب زندگی میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ اب لوگ بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ انہیں کئی فیصلے ایک ساتھ کرنے پڑتے ہیں۔ اب ایک بچے کو دن بھر میں کئی کام باقاعدگی سے کم وقت میں کرنے پڑتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بچوں میں بھی بھولنے کا مسئلہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ چونکہ ان دنوں سب کام جلدی نمٹانے پڑتے ہیں تو دماغ پر ایک دباؤ سا رہتا ہے، مسلسل ذہنی تناؤ کی وجہ سے زماغ کے کچھ خلیات متاثر ہوجاتے ہیں، ساتھ ہی ان خلیات کے دوبارہ بننے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف ان کی یاد رکھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے بلکہ سوچنے اور غور و فکر کرنے کی صلاحیت بھی ختم ہونے لگتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ تک کوئی بھی معلومات پہنچنے کے لئے اس معلومات کو کئی مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ لیکن جس طرح کوئی خاتون بات کر رہی ہوں اور ان کی بات کرنے کے دوران انہیں کوئی مستقل روکتا یا ٹوکتا رہے تو انہیں اپنی بات یاد رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے، بالکل اس طرح اگر دماغ تک بات پہنچ رہی ہو اور ذہنی دباؤ مستقل اس میں خلل ڈالتا رہے تو وہ بات تھوڑی دیر تک تو یاد رہ سکتی ہے لیکن ایک طویل عرصے تک دماغ میں محفوظ رہنے میں ناکام رہتی ہے۔ اس لئے کچھ دنوں بعد ہی انسان اسے بھولنے لگتا ہے۔
مزید یہ کہ رات کی نیند بہت ضروری ہے، دماغ نیند لینے کے دوران بھی کام کر رہا ہوتا ہے، اس میں دن بھر کی باتیں محفوظ کرنے کا ایک عمل جاری ہوتا ہے۔ اگر مناسب نیند نہ لی جائے تو دماغ کو اہم پروٹین اور چکنائی نہیں مل پاتیں۔ جس کی وجہ سے دماغ کی یاد رکھنے کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہوتی ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ روزانہ دن میں دو سے تین مرتبہ کھانا کھائیں، پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کریں، تاکہ دماغ کو مطلوبہ غذائیت ملے اور وہ بہتر انداز میں چیزوں کو یاد رکھ سکے۔ چیزیں یاد رکھنے کیلئے کوئی جادوئی دوا نہیں آتی، جسے فوراً کھایا جائے تو یادداشت بہتر ہوجائے۔ اس کام کیلئے انسان کو خود اپنا لائف اسٹائل بہتر بنانا ہوگا، ساتھ ہی یہ کوشش کرنی ہوگی کہ ذہن کو دباؤ یا تناؤ سے دور رکھا جائے تاکہ دماغ کے خلیات کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ موبائل فون، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ کا زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے ذہن کی کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے اور آج کل کے نوجوانوں میں بھولنے کی عادت اسی وجہ سے پروان چڑھ رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید برقی آلات کا ضرورت سے زیادہ استعمال نہ کریں، ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ چیزیں بھول جاتے ہوں، انہیں چاہئے کہ وہ کام کرنے کی ایک فہرست بنائیں۔ ایک فہرست گھر اور ایک دفتر میں رکھیں، اس کو دیکھ کر کام نمٹاتے جائیں۔ اس کے علاوہ جب بھی بازار سامان خریدنے کے لئے جائیں تو کوشش کریں کہ جو سامان لانا ہے، اس کا ذہن میں ایک خاکہ سا بنا لیں، اس کے مطابق خریداری کریں۔ ہر چیز کی فہرست بنا کر رکھنے سے بھی ذہن سست ہوجاتا ہے۔ ذہن کو فعال رکھنے کے لئے یہ مشق آزما سکتے ہیں: جہاں بھی بیٹھی ہوں، اپنے اردگرد کی چیزوں کو ۲۰؍ سیکنڈز تک بغور دیکھیں، پھر آنکھیں بند کریں اور ذہن میں اس منظر کو لائیں، پھر اس میں موجود چیزوں کو یاد کرنے کی کوشش کریں جو اس منظر کا حصہ تھیں۔ آنکھیں کھولیں اور دوبارہ ۲۰؍ سیکنڈز کے لئے اسی طرح کسی بھی منظر کو بغور دیکھیں اور آنکھیں بند کرکے اس میں موجود چیزوں کو ذہن میں لانے کی کوشش کریں۔ اس ورزش کو دہرانے سے ذہن کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ، اپنے ساتھ ایک ڈائری رکھیں، اس جرنل میں اہم باتیں لکھتی جائیں، روزانہ باقاعدگی سے اسے دیکھیں، اس طرح بھی بہت سے کام آسانی سے یاد رہ جاتے ہیں۔