کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی آسام میں ریلیاں، عظیم شخصیات کی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے لوگوں کو جوڑنے اور محبت کا پیغام دیا، وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما پرسنگین الزامات لگائے
EPAPER
Updated: April 02, 2026, 11:41 PM IST | Guwahati
کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی آسام میں ریلیاں، عظیم شخصیات کی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے لوگوں کو جوڑنے اور محبت کا پیغام دیا، وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما پرسنگین الزامات لگائے
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے آسام اسمبلی انتخابات کی اپنی انتخابی مہم کے دوران وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کوملک کا سب سے بدعنوان وزیر اعلیٰ قرار دیتے ہوئے ان پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے شرماپر بدعنوانی کے الزامات عائد کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ریاست میں نفرت اور خوف کا ماحول بنایا جا رہا ہے، جبکہ آسام کی پہچان باہمی بھائی چارے اور ثقافتی یکجہتی سے رہی ہے۔ انہوں نے عظیم شخصیات کی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے لوگوں کو جوڑنے اور محبت کا پیغام آگے بڑھانے کی بات کہی۔راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور آسام حکومت نے ریاست کو ’اے ٹی ایم ‘بنا دیا ہے۔ ریاست کی زمینیں بڑے صنعت کاروں کو دی جا رہی ہیں اور اس کے بدلے سیاسی فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جمعرات کو راہل گاندھی نے آسام کے سریہجن اور جورہاٹ اسمبلی حلقوں میں عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔
رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے جمعرات کو آسام کے کاربی آنگلونگ واقع سریہجن اسپورٹس کمپلیکس گراؤنڈ میں لوگوں کی جمع بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’آسام پھولوں کا گلدستہ ہے جس میں الگ الگ مذاہب، ذات اور نظریات کے لوگ رہتے ہیں۔ کانگریس کی سوچ ہے کہ ہندوستان کے عوام کے ہاتھ میں اصلی طاقت ہو، ملک کو چلانے میں ہر طبقہ کو شراکت داری ملے۔ دوسری طرف بی جے پی کا نظریہ ہے کہ آسام کو دہلی سے چلایا جائے۔ ‘‘ آسام میں اسمبلی انتخاب کے پیش نظر انتخابی تشہیر کے لیے پہنچے راہل گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران ریاستی وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے بی جے پی کو نشانے پر لیتے ہوئے کہا کہ ’’کانگریس پارٹی ۲۴۴؍(اے) لے کر آئی تھی کیونکہ ہماری سوچ ہے کہ آسام کو نہ گوہاٹی سے چلایاجائے اور نہ دہلی سے۔۲۴۴؍(اے) سے آسام کے عوام کو طاقت ملتی ہے اور یہ انھیں فیصلہ لینے کی طاقت دیتا ہے۔ کانگریس اور بی جے پی میں یہی فرق ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’نریندر مودی کو ٹرمپ کنٹرول کرتا ہے۔ ٹرمپ سرعام نریندر مودی کو گالی دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے ’نریندر مودی مجھے سر بلاتا ہے۔ میں اس کا کریئر بھی ختم کر سکتا ہوں‘۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کے لیے اڈانی اور ایپسٹین دو ہتھیار ہیں، جن سے مودی کو پکڑ رکھا ہے، اور مودی کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘