گزشتہ ہفتے یہ عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں۔
EPAPER
Updated: October 05, 2023, 2:31 PM IST | Odhani Desk | Mumbai
گزشتہ ہفتے یہ عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں۔
مثبت سوچ اور ثابت قدمی
بدگمانی ہزار وسوسوں کو جنم دیتی ہے جسکا براہ راست تعلق قلبی سکون سے جُڑا ہے۔ منفی خیالات نہ صرف ذات کی تخریب کا سبب بنتے ہیں بلکہ جینے کی عمر بھی گھٹانے کا باعث بنتے ہیں۔ گمان صرف ذہنی سوچ کی پیداوار ہے۔ ایک گمان کے سچے اور جھوٹے ہونے کے یکساں امکانات ہوتے ہیں، اسلئے گمان کرنا اور اسے دل میں پالنا ہر صورت میں غلط عمل ہے۔ لوگوں کے بارے میں ہمیں اصل میں ان کے ہی عمل و نظریہ کی بنیاد پر رائے قائم کرنی چاہئے۔ ان کے بارے میں ہماری رائے سنی سنائی باتوں پر اور بے بنیاد خیالات پر مبنی نہیں ہونی چاہئے۔ بدگمانی سے نمٹنے کیلئے ہمیشہ ہر حال میں مثبت سوچ اور ثابت قدم رہنا سیکھیں۔ بدگمانی سے نمٹنے کا بہترین طریقہ سیدھی اور ثابت شدہ بات پر قائم رہنا ہے۔ بدگمانی ایک مومن کو گنہگار بھی بنا سکتی ہے، اسلئے اپنی زندگی ٹھوس حقائق پر استوار کریں اور بدگمانی سے دور رہیں۔
انصاری یاسمین محمد ایوب (بھیونڈی، تھانے)
مثبت رویہ اور گفت و شنید ضروری
آدھے گلاس پانی کو کوئی آدھا بھرا گلاس کہتا ہے تو کوئی آدھا خالی۔ دراصل مندرجہ بالا خیالات۔ مثبت اور منفی دو نظر یے کی ترجمانی کرتے ہیں۔اسی طرح اگر ہم کسی کے تئیں کسی بھی طرح بد گما نی کا شکار ہو جائیں تو اپنے آپ کو مثبت زاویہ نظر دے کر اس بدگمانی کو دور کر سکتے ہیں۔دوسرا طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم اس انسان سے گفت و شنید کر کے بھی اس بد گمانی کو دور کر سکتے ہیں۔دوسروں کو غلط ثابت کرنے سے پہلے اگر ہر انسان اپنے اندر ایک چھوٹا سا خانہ اس کیلئے بھی بنا لے کہ وہ بھی غلط ہو سکتا ہےتو بدگمانی کیا بڑے بڑے مسائل بڑی آسانی سے حل کئے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر صبیحہ ناہید
بدگمانی کا بیج تناور درخت نہ بن جائے
انسان کی زندگی میں ایسے بہت سے مواقع آتے ہیں جب برسوں کے تعلقات معمولی غلط فہمی کی بناء پر ختم ہوجاتے ہیں، بدگمانی سے تعلقات میں کڑواہٹ بڑھتی ہی جاتی ہے۔ یا پھر کوئی کسی کے تعلق سے ہمارے دل و دماغ میں بد گمانی کا بیج بو دیتا ہے اور دور سے تماشا دیکھتا ہے۔ اگر ہمارے تعلقات سچے اور بے لوث ہے تو ہمیں بدگمانی سے نمٹنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ اپنے عزیزوں کے تعلق سے کوئی بدگمانی ہو تو اسے دور کرنے کی پہل کرنی چاہئے جس بات ، واقعہ سے یا کسی بھی کی وجہ سے بدگمانی پیدا ہوئی ہے تو اس کا تصفیہ فوراً کرنا چاہئے تاکہ بدگمانی کا جو بیج ہے وہ تناور درخت بن کر ہماری زندگی میں تکلیف کا باعث نہ بنے۔ دوسری بات اگر ہمیں لگ رہا ہے کہ کسی بدگمانی کی وجہ سے سامنے والے کے رویہ میں ہمارے تعلق سے سرد مہری پائی جارہی ہے تو اس کی وجہ معلوم کرکے بذات خود آگے بڑھ کر بدگمانی کو دور کردینا چاہئے۔ اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ میں بڑی ہوں یا اس سے زیادہ شہرت کی مالک ہوں یا بہت دولتمند ہوں۔ اس سوچ کو درکنار رکھتے ہوئے رشتوں کی مٹھاس باقی رکھیں اور انہیں مضبوط بنانے کیلئے اپنی طرف سے لازماًپہل کریں۔ اسی میں انسان کی عظمت ہے۔
نصرت عبدالرحمٰن( بھیونڈی، تھانے)
بعض اوقات غلط فہمی بد گمانی پیدا کر دیتی ہے
بد گمانی ہمار ے مہذب معاشرے میں پھیلا ایک مرض ہے۔ دراصل یہ ذہنی انتشار کا نتیجہ ہے جس میں مبتلا افراد خود تو پریشان اور بے چین رہتے ہی ہیں ،ساتھ ہی دوسروں کا جینا بھی دوبھر کر دیتے ہیں ۔ ایسے افراد کبھی کسی بات سے مطمئن نہیں رہتے۔ اُنہیں ہر اچھی چیز میں نقص اور صحیح بات میں برائی نظر آتی ہیں ۔ اُن کا نظریہ بھی اوروں سے جدا ہوتا ہے وہ خیر میں شر کا پہلو نکال لیتے ہیں ۔ بعض اوقات غلط فہمی، بد گُمانی پیدا کر دیتی ہے۔ اِنسان کہتا کچھ ہے اور سامنے والا سمجھتا کچھ ہے ۔ جس سے فاصلے پیدا ہوتے ہیں، نا چاقی بڑھتی ہے اور یوں بد گُمانیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ بد گمانیوں سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ بر وقت معاملات صاف کر لئے جائیں ۔ کھل کر بولنا اور اپنا منشاء واضح کردینے میں سمجھداری ہے۔آ پس میں تبادلۂ خیال کرلینے سے ذہنوں کے بند دریچے کھلتے ہیں اور دِلوں کی کدورت دور ہوجا تی ہے۔ من مٹاؤ دور کرنے کے لئے چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو اپنوں کے ساتھ مل کر یاد گار بنائیں ۔ یادرہے کہ ایک چھت کے نیچے جمع ہوں تو رشتوں کے درمیان حائل دیوار گر جاتی ہے اور بد گُمانی دور ہو جاتی ہے۔ تحفے تحائف دینے سے بھی بد گمانی کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اِس سے آپس میں محبت بڑھتی ہے اور ساتھ ہی بھروسہ بھی قائم ہوتا ہے۔
عارفہ خالدشیخ(ممبئی)
بدگمانی زندگی تباہ کر سکتی ہے
بدگمانی اور منفی خیالات کسی کی زندگی کو تباہ کر سکتےہیں ، یہ ترقی کو روک سکتے ہیں۔ یہ افکار اور خیالات اکثر معمولات میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور منفی طریقے سے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں لیکن بدگمانی سے نمٹنا ممکن ہے اور اس کے کئی طریقے ہیں جو کسی کی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں ۔ بدگمانی سے نمٹنے کا پہلا طریقہ یہ ہےکہ بدگمانی پیدا کرنے والے خیالات آئیں تو آپ ان پر غور کریں،کیا کوئی ثبوت ہے جو ان کی حمایت کرتا ہے؟ اگر نہیں تو ان کو مسترد کر دیں۔ دوسروں پر اعتماد کریں۔ اگر آپ کسی دوسرے شخص پر اعتماد کرتی ہیں تو یہ بدگمانی ختم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ اپنے آپ کو بہتر بنانے پر توجہ دیجئے۔ جب آپ اپنے آپ کو بہترسمجھیں گی تو آپ دوسروں پر بھی زیادہ اعتماد کریں گی۔جب آپ کے کسی سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو آپ ان پر زیادہ اعتماد کرتی ہیں اور ان کے بارے میں بدگمانی پیدا نہیں ہوتی۔ اپنے آپ کو مصروف رکھیں۔ آپ مصروف رہتی ہیں، تو آپ کے ذہن میں بدگمانی کے پیدا کرنے والے خیالات ہی نہیں آتے۔ بدگمانی کی صورت میں مثبت سوچ اپنائیں۔مثال کے طور پراگر آپ کا خیال ہے کہ آپ کا ساتھی آپ کو دھوکہ دے رہا ہے تو اس خیال کو آپ خود سے اس طرح بیان کیجئے کہ آپ کا ساتھی آپ کے ساتھ وفادار رہنا چاہتا ہے، لیکن وہ غلطی کر سکتا ہے۔بدگمانی سے نمٹنا ایک وقت طلب عمل ہے۔ آپ ان طریقوں کو اپنا کر بدگمانی سے نمٹ سکتی ہیں۔
زینب ساجد پٹیل( جلگاؤں )
زیادہ گفتگو سے پرہیز کیا جائے
بدگمانی سے دلوں میں دراڑ پڑ جاتی ہے،رشتوں میں تلخیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور کسی بھی معاملے میں خیالات کی دنیا میں غوطے لگاتے لگاتے رائی کا پہاڑ بن جاتاہے، ہر شخص دشمن لگتا ہے۔ بدگمانی سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے کہ زیادہ گفتگو سے پرہیز کیا جائے۔سنی سنائی باتوں سے بدگمانی پیدا ہونے کازیادہ امکان ہوتا ہے۔جب بھی آپس میں مل بیٹھیں تو اپنی بات کریں، جو غیر حاضر ہے، ان پر تبصرہ کرنے سے پرہیز کریں۔سہیلیاں ہو تو ماضی کے قصے یاد کر کے یا دوں کے در وا کریں ۔باتوں کو گھما پھرا کر بولنے سے اجتناب کریں ،دو ٹوک بات کریں، اگر بدگمانی پیدا ہو بھی جائے تو مل بیٹھ کر معاملہ رفع دفع کرلیں۔بعض اوقات بات اتنی بڑی نہیں ہوتی جتنا اس کو بڑھا چڑھا کر اور نمک مرچ لگا کر بیان کیا جاتا۔
رضوانہ رشید انصاری (بیلجیم،یورپ)
ہمیں اللہ کا ذکر کرنا چاہئے
ایک طالب علم کوبد گمانی سے زیادہ برے خیال سے بچنا چاہئے۔ برا خیال کسی کو بھی آسکتا ہے۔ اسے وسوسہ بھی کہتے ہیں ۔ مثلاً تعلیم حاصل کرتے وقت ہمیں اپنی قابلیت پر شک ہونے لگتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ کیا یہ کام ہم پورا کر پائیں گے ؟ کامیابی ملےگی یا نہیں ؟ اور اس کام کا مستقبل میں فائدہ ہوگایا نہیں ؟ یہ برا خیال اور وسوسہ ہے۔ اس پر توجہ نہ دیتے ہوئے ہمیں اللہ کا ذکر کرنا چاہئے۔ ذکر کرنے سے وسوسہ ختم ہوجائے گا اور ہم کامیابی حاصل کریں گے۔
صبرالنساء وارثیہ (وسئی، پال گھر)
میں نے فوراً ہی معذرت کرلی
بدگمانی بہت بری اور نقصان دہ ہوتی ہے۔ یہ دلوں کے درمیان نفرت کے بیج بوتی ہے۔ چونکہ میرے مضامین اور مراسلے مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں، لہٰذا میری سہیلیاں مبارکباد پیش کرکے میری حوصلہ افزائی کرتی رہتی ہیں ۔ ایک بار کا واقعہ ہے کہ اسی ’روزنامہ انقلاب‘ میں میرا ایک مراسلہ چھپا تو اکثر سہیلیوں نے اپنی آراء کے ساتھ مبارکباد سے نوازا مگر ایک بہت قریبی سہیلی کا کوئی ردعمل نہیں آیا تو میں نے اس سے کہا، ’’بخل سے کام مت لو، کچھ تو کہو۔‘‘ اتنا کہنا تھاکہ `بخل لفظ کے استعمال پر وہ ناراض ہو گئی۔ اس نے کہا کہ اس لفظ سے اسے صدمہ پہنچا ہے۔ میں نے فوراً ہی اس سے معذرت کرلی۔ اس طرح ہم دونوں کے درمیان بدگمانی دور ہو گئی۔ اس سے پتہ یہ چلا کہ بد گمانی بڑھنے نہ دیں ، اسے دور کرنے میں دیر نہ کریں ۔ اس میں سبقت لے جا نے کی کوشش کریں ۔اس سے الگ طرح کی خوشی ملے گی۔
پروین افتخار (نزد ہندوستانی مسجد، بھیونڈی )
نیک نیتی پر شک نہ کریں
بدگمانی سے کس طرح نمٹا جاسکتا ہے؟ بدگمانی ایک ایسی صورتحال ہے جس میں انسان بغیر کسی منطقی سبب کے اگلے فرد سے متعلق کوئی منفی گمان یا شک رکھتا ہے۔بدگمانی سے معاشرتی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔باہمی اعتماد میں کمی واقع ہوتی ہے اور رشتے خراب ہوتے چلے جاتے ہیں۔بدگمانی سے نمٹنے کا احسن طریقہ یہ ہے کہ ہم باہمی اعتماد اور سمجھ بوجھ پر مبنی تعلقات استوار کریں۔بے وجہ پیدا ہونے والے منفی خیالات کو منطقی دلیل کے بغیر ماننے گریز کریں۔ متعلقہ فرد کی نیک نیتی پر شک نہ کریں اور بدگمانی پیدا کرنے کے اسباب کو ختم کریں۔
نکہت انجم ناظم الدین (جلگاؤں، مہاراشٹر)
معاف کرنا سیکھیں
بدگمان ہونا اک فطری عمل ہے۔ انسان فطری طور پر کسی کی خوبی کو بھول کر اسکی ایک غلطی کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔ اس کو اپنے سینے سے لگا کر کڑھتا رہتا ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ایسی باتوں سے بچیں۔اپنی سوچ کو مثبت بنائیں۔ دوسروں کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کریں۔ دوسروں کے جذبات کو سمجھیں اور اچھے برے وقت میں ان کے ساتھ رہیں۔ بہتر صلاح دینے کی کوشش کریں۔دوسروں سے بات کرتے وقت دھیان رہے کہ ہماری کسی بات سے انہیں تکلیف نہ ہو۔خود کا محاسبہ کریں اور اپنی غلطیوں اصلاح کریں۔ اپنی شخصیت میں خود اعتمادی پیدا کریں۔معاف کرنا سیکھیں۔ یہ بہت بڑا عمل ہے جسے کرنے میں بڑی ہمت اور برداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ غلطیوں کو نظر انداز کرنا یہ بھی ایک اہم پہلو ہے۔ جس سے ہم بدگمان ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ بدگمانی سے حسد اور جلن جیسے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ اگر ہمیں کسی سے کسی بات پر بد گمانی ہو رہی ہو تو بہتر ہے کہ ہم اس بات کو دل میں نہ رکھتے ہوئے بہت ہی صاف ستھرے انداز اور سلیقےسے اس سے متعلق بات چیت کریں تا کہ دل میں کسی قسم کے کینہ ، بغض اور حسد جیسے منفی جذبات کو جگہ نہ مل سکے۔
مومن رضوانہ محمد شاہد (ممبرا، تھانے)
بدگمانی قطع تعلق کا موجب
پہلی بات تو یہ ہے کہ بدگمانی اچھی بات نہیں ہے۔ جب تک ہمیں کسی معاملے میں مکمل معلومات نہ ہوں، یقین نہ ہو، بھروسہ نہ ہو، کسی کے خلاف شک،گمان اور ظن سے بچنا چاہئے۔ بدگمانی سے رشتے مجروح ہوتے ہیں اور بدگمانی کرنے والا گنہگار بھی ہوتا ہے۔ سنی سنائی بات پر ایک دم سے یقین نہیں کر لینا چاہئے۔ اچھی بات یہ ہے کہ بدگمانی نہ کی جائے اور پہلے ہر طریقے سے حتی الامکان یہ جاننے کی کوشش جائےکی کہ واقعی حقیقت کیا ہے؟ کیا معاملہ ہے؟ اس پر غور و فکر کیا جائے؟ سوچا جائے اور اگر اس کو عقل تسلیم نہ کرے تو قطعی بدگمانی نہیں کرنی چاہئے۔ بدگمانی سے بچنے یا باز رہنے کا یہی طریقہ ہے کہ پہلے حقیقت سے باخبر ہویا جائے تاکہ رشتوں میں دراڑ نہ آ سکے۔
نجمہ طلعت (جمال پور، علی گڑھ)
منفی خیالات بدگمانی بڑھاتےہیں
بارہا ہم کسی کام میں مصروف ہوتے ہوئے بھی برے اورمنفی خیالات سے گھرے ہوتے ہیں ۔ اس طرح ہم بدگمانی بڑھاتے ہیں ۔ ہمیں کا م پرپوری توجہ دینی چاہئے ۔
شاہدہ وارثیہ (وسئی، پال گھر)
بد گمانی خاندان کو تباہ کردیتی ہے
بدگمانی انسان کی ایک ایسی بری خصلت ہے جس سے اکثر خود بدگمان ہونے والے کو نیز اس شخص کو جس سے وہ بدگمان ہوتا ہے تھوڑا یا بہت نقصان ضرور پہنچتا ہے۔ بدگمانی کا شکار انسان کبھی بھی دوسرے کی خوبیوں پر نظر نہیں رکھتا۔ اگر شوہر اپنی بیوی سے متعلق بدگمانی کا شکار ہے یا بیوی شوہر سے بدگمان رہتی ہے تو گھر اور خاندان کی تباہی کیلئے یہ مؤثر ترین ہتھیار ہے۔ نبی اکرم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا،’’بدگمانی سے ہمیشہ بچو۔ بدگمانی اکثر تحقیق کے بعد جھوٹی ثابت ہوتی ہے اور کسی کے عیوب ڈھونڈنے کے پیچھے نہ پڑو اور حسد نہ کرو بلکہ آپس میں مل کر رہو۔( بخاری شریف) بدگمانی کے نقصانات: (۱) نفسیاتی بیماریاں (۲) محبتوں کا فقدان(۳) آپسی نفرتوں میں اضافہ (۴) رنجشیں اور رقابتیں (۵) گھر اور معاشرے میں انتشار(۶) بری خصلت لوگوں کیلئے آگ میں تیل ڈالنے کے مواقع۔
ناز یاسمین سمن (پٹنه، بہار)
اس کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھئے
بدگمانی ایک برا عمل ہے اس سے نہ صرف ہم گنہگار بنتے ہیں بلکہ اپنی زندگی کو بھی برباد کر دیتے ہیں۔ جب بھی کسی کے بارے میں غلط خیال آئے تو فوراً اس جگہ پر خود کو رکھ کر دیکھ لیں ۔ہو سکتا ہے وہ جن حالات سے گزر رہا ہے،اس کیلئے وہی صحیح ہو جو وہ کر رہا ہے اور آپ کسی وجہ کے بغیر ہی اس کے بارے میں غلط فہمی پال رہے ہوتے ہیں ۔بدگمانی سے نمٹنے کیلئے آمنے سامنے بات کر لینا بہتر ہے جس سے دل صاف ہو جاتا ہے اور ہم فضول کی پریشانی اور گناہ سے بچ جاتے ہیں ۔
ہما انصاری ( مولوی، گنج لکھنؤ)
مثبت سوچ کو اپنانا چاہئے
بدگمانی یہ ہے کہ جب ہم کسی کیلئے برا خیال اپنے دل و دماغ میں گھڑ لیتے ہیں۔ اہل ایمان کو گمان سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔اس فعل بد سے بچنے کیلئے ہمیں مثبت سوچ کو اپنانا چاہئے۔ اپنے دل و دماغ میں مثبت سوچ کو جگہ دینی چاہئے۔ یادرکھئے کہ جس کسی سے بھی متعلق بد گمانی پیدا ہو، اس کی مثبت عادتوں کو یاد کریں اور اس کی اچھائیوں کو دیکھیں۔ ان شاء اللہ ہم اس فعل بد سے بچ سکیں گے۔
فردوس انجم( بلڈانہ، مہاراشٹر)
غورکرناچاہئے کہ کیا وہ واقعی غلط ہے؟
جب آپ کے ذہن میں کسی شخص سے متعلق بدگمانیاں پیدا ہوں تو آپ کو غور کرنا چاہئے کہ جس شخص سے ہم بدگمان ہیں کیا وہ واقعی غلط ہے؟ یا ہم اپنی منفی سوچ سے اس سے بدگمان ہوگئے ہیں۔ کچھ ایسا ہی واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا۔ میں بدگمانیوں کا شکار ہوئی تو اتفاق سے اسی دوران میرے سامنے ایک حدیث آئی کہ `بدگمانی سے مراد یہ ہے کہ بلا دلیل دوسرے کے برے ہونے کا دل میں ’اعتقادِ جازم‘ کر لینا۔اس حدیث کو پڑھنے کے بعد جب میں نے غور کیا تو مجھے اپنی غلطی کااحساس ہوا اور اس حدیث کی بناء پر بدگمانی کے بادل بھی دھیرے دھیرے چھٹتے گئے اور آج ان سے عقیدت و محبت کا ایسا تعلق قائم ہوگیا ہے کہ شاید ہی اس طرح کا تعلق کسی اور سے قائم ہوسکے۔ بیشک اللہ بہت مہربان ہے۔
عالمہ ارقمی (اعظم گڑھ، یو پی)
دل میں برا گمان نہ آنے دیں
بدگمانی در اصل اس غلط رائےکا نام ہے جو ہم سوچے سمجھے بغیر دوسروں سے متعلق قائم کر لیتے ہیں اور انسان کے اندر کسی کیلئے غلط سوچ تب ہی آتی ہے جب اس کا اپنا کردار خود قابل اصلاح ہو۔ اور اس کا علاج یہ ہے کہ ہمیں اپنی سوچ کو ہمیشہ مثبت رکھنا چاہئے۔ اچھا سوچنا اور اچھا بولنا بھی چاہئے۔ لوگوں کی خامیوں پر نظر رکھنے کے بجائے ان کی خوبیوں پر نظر رکھنی چاہئے۔ جب بھی کسی مسلمان کے بارے میں دِل میں بُرا گُمان آئے تو اسے جھٹک کر اور اس کے عمل پر اچھا گُمان قائم کرنے کی کوشِش کرنی چاہئے۔خود نیک بنیں تاکہ دوسرے بھی نیک نظر آئیں۔ کیونکہ جو خود نیک ہو وہ دوسروں کے بارے میں بھی نیک گُمان (یعنی اچھے خیالات ) رکھتا ہے جبکہ جو خود بُرا ہو اُسے دوسرے بھی برے دکھائی دیتے ہیں لہٰذا بدگمانی سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ ایک ایسا عیب ہے جو کمال کو زوال میں بدل دیتا ہے۔ انسانی کو ذہنی طور پر پریشان کردیتا ہے۔
سارہ فیصل (مئو یوپی)
حسن ظن رکھنا چاہئے
اے ایمان والو بہت بد گمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں ( القرآن)۔ اس سے پتہ چلا کہ کسی کے تعلق سے بد گمانی کرنا گناہ عظیم ہے اور اس کے لئے ہم کو سوچناہوگا کہ ہم اس گناہ سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ سب سے پہلے تو ہمیں لوگوں کے ساتھ حسن ظن رکھنا چاہئے۔ ہم دوسروں کے بارے میں جب بھی سوچیں اچھا سوچیں۔حضرت عمر فاروقؓ کے پاس جب کوئی شخص کسی قسم کی شکایت لے کر آتا تو آپ اس کے بارے میں کم از کم سو بار سوچتے تھے کہ ضرور اس کو یہ پریشانی ہوگی یا اس کو یہ بات پیش آئی ہوگی یا وہ بات ہو ئی گی یا اس کی یہ مجبوری رہی ہوگی تو کسی کے بارے میں ایسا خیال کرنا بھی ایک اچھا طریقہ ہو سکتا ہے اور بد گمانی سےنمٹنے کا احسن طریقہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ترنم صابری (سنبھل یوپی)
اچھی کتابوں کا مطالعہ کیجئے
بد گمانی ایک سوچ ہے،ایک ایسی سوچ ہے جس کی موجودگی کا پختہ یقین نہیں ہوتا ہے۔ کسی شک و شبہ کی بنیاد پر انسان اپنے دل میں بد گمانی پیدا کر لیتا ہے جس کا رشتوں پر انتہائی برا اثر ہوتا ہے۔ اس سے بچنا انتہائی ضروری ہےجس سے بچنے کیلئے اچھی کتابوں کا مطالعہ کیجئے۔ صحابہ کرام ؓ کے معمولات جاننے کی کوشش کیجئے۔ اپنے آس پاس موجود افراد کے بارے میں رائے قائم کرنے سےپہلے ان کے حالات کا جائزہ لیجئے اور اگر انہوں نے ہمارے ساتھ کچھ غلط کیا ہےتو ان سے بد گمان ہونے کے بجائے پہلے ان کے حالات اور اس اقدام کے اسبا ب معلوم کیجئے، اپنی سوچ مثبت رکھئے۔ خصوصی طور پر اپنے بچوں کو بھی مثبت سوچ کا عادی بنائیے۔ سامنے والے کےعذر اور مجبوری کو خندہ پیشانی سے قبول کیجئے اور سوچئے کہ مجبوری میں ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے۔ مثبت سوچ کو فروغ دے کر بد گمانی سے بچا جا سکتا ہے۔
رضوی نگار (اندھیری، ممبئی)
طنز کرنےکے بجائے اصلاح کیجئے
بد گمانی یعنی کسی پر عدم اعتماد، بر اخیال .. اب ظاہر ہےکہ یہ کوئی اچھی بات تو ہے نہیں ، سوال یہ ہے کہ اس سے نمٹا کیسے جاسکتا ہے؟ کچھ نکات ذہن میں ہیں،ملاحظہ کیجئے :
( ۱) برائی کو نظر انداز کیجئے۔کسی برائی کو کھود کر نکالنے کے بجائے ان کی اچھائی پر نظر رکھی جائے۔ (۲)حسن ظن سے کام لیجئے۔ ہر کسی بارے میں مثبت خیال رکھئے، یہ مان لیجئے کہ قدرت نےہر انسان کو اچھائی کے ساتھ برائی بھی دی ہے۔ (۳) کھلے ذہن سے کام لیجئے، بظاہر جو برا نظر آتا ہے، اس کی تہ میں جا کر حقیقت معلوم کیجئے۔ (۴) کسی میں برائی نظر آئے تو طنز کرنے کے بجائےاس کی اصلاح کیجئے۔
ناہید رضوی (جوگیشوری، ممبئی)
جہاں محبت ہوگی، وہاں بد گمانی نہیں ہوگی
بد گمانی کا مر ض ہر کسی کو لا حق ہوتا ہے۔ ہم ہمیشہ دوسروں کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور دوسروں کی نظروں میں خود کو اچھا بنانے کی امید رکھتےہیں۔ بد گمانی سے بچنے اور اس سے نمٹنے کا ایک اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپس میں بات چیت کی جائے، آپس میں فاصلے نہیں ہونے چاہئیں ۔ ہم میں سے اکثر لوگ دوسروں کی باتوں میں ا ٓکر اپنا ذہن خراب کرلیتے ہیں۔ انسانی ذہن ایک مرتبہ جس انسان کا جو خاکہ بنالیتا ہے، پھر اسے بد لنا مشکل ہوجاتا ہے، اس لئے اگر ایسا کچھ ہے تو جتنا متنازع باتوں کو نظر انداز کیاجائے، اتنا ہی اچھا ہے۔ بد گمانی کا ایک اچھا علاج یہ ہے کہ انسان خود کو مصروف رکھے اور ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظر انداز کرے۔ ہماری پھو پھی کہتی تھیں کہ جہاں محبت ہوگی وہاں بد گمانی نہیں ہوگی۔ اسی طرح تلخیوں کو یا دنہ کیجئے ۔ یہ رشتوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا تی ہیں۔
انصاری لمیس (بھیونڈی، تھانے)
جیسے ہی احساس ہوجائے، بد گمانی دور کیجئے
ویسے تو بد گمانی پالنی نہیں چاہئے لیکن اگر کسی سے بدگمانی ہوجائے تو جیسے ہی احساس ہو، اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پہلے اس شخص سے ملاقات کریں ۔ سلام میں پہل کریں ، کیونکہ سلام میں پہل کرنے والوں کو زیادہ نیکیاں ملتی ہیں اور اللہ اسے پسند کرتا ہے۔ پھر اس سے معذرت کریں اورپوری ایمانداری سے معافی مانگ لیں۔ اس طرح دل سے بد گمانی نکل جائے گی اور سامنےوالی کی نظر میں آپ کا مرتبہ اور آپ کی عزت بڑھ جائے گی۔ا للہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بد گمانی سے بچائے۔ آمین
شہناز عابدحسین (مالیگاؤں، ناسک)
بد گمانی کمال کو زوال میں تبدیل کردیتی ہے
ہمارے اکثر مسائل بد گمانی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔ایک پرامن معاشرے کی تشکیل کیلئے اس کا خاتمہ ضروری ہے۔ یوں کہیں کہ ہمارے لئے اپنے درمیان سے اس بلا کو نکالنا ناگزیر ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ جس سے متعلق ہم بد گُمانی میں مبتلا ہوں تو فوراً اس کے بارے میں منفی کے بجائے مثبت سوچیں۔کیونکہ بعض اوقات ہمیں صرف آدھی بات کا پتہ ہوتا ہےاور ہم اسی ادھُوری بات پر یقین کر کے اس کے سچے یا جھوٹے ہونے کا گمان کر لیتے ہیں حالانکہ قرآن کے مطابق بعض گمان گناہ ہیں ،ادھورا سچ یا جھوٹ غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے اور غلط فہمی اگر زیادہ دیر دل میں رہے تو افراد سے لے کر خاندان بلکہ سماجی دوریوں کو بھی جنم دیتی ہے۔ دانشمندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ کسی بھی بات کو ہر پہلو سے دیکھا جائے، تاکہ اصلیت کا صحیح پتہ چل سکے۔ یہی ہمارا قرآن کہتا ہے۔ ایک نکتہ یہ بھی ذہن میں ہونا چاہئے کہ ہم اپنے فعل کو درست ثابت کرنے کیلئے جتنا ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں، اگر اس کا ۱۰؍ فیصد بھی ہم کسی مومن بہن کے کام کو اچھا سمجھنے کیلئے صرف کریں تو بد گمانی جڑ سے ختم ہو سکتی ہے۔اچھا سوچئے، کیونکہ بد گُمانی ایک ایسا عیب ہے جو انسان کے ہر کمال کو زوال میں تبدیل کردیتی ہے اور بدگمان انسان کو معاشرے میں تنہا کر دیتی ہے۔ اور ہاں یاد رکھئے کہ بد گُمانی سے بچنے کیلئے بروں کی صحبت کو ترک کرنا بھی واجب ہے. فارسی کا مشہور مقولہ ہے: صحبت صالح ترا صالح کند، صحبت طالح ترا طالح کند۔
زیبا فاطمہ عطاریہ (امروہہ، یوپی )
اگلے ہفتے کا عنوان: کسی کی غلط فہمی دور کرنے کا میرا طریقہ۔اظہار خیال کی خواہشمند خواتین اس موضوع پر دو پیراگراف پر مشتمل اپنی تحریر مع تصویر ارسال کریں۔ وہاٹس ایپ نمبر: 8850489134