عام طور پر اکثر گھرانوں میں دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ خواتین بڑی محنت سے انواع و اقسام کے کھانے تیار کرتی ہیں مگر اسے خوبصورتی کے ساتھ پیش کرنے سے نا بلد ہوتی ہیں اور مہمانوں کی آمد پر افراتفری کے عالم میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔
EPAPER
Updated: May 21, 2026, 3:05 PM IST | Odhani Desk | Mumbai
عام طور پر اکثر گھرانوں میں دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ خواتین بڑی محنت سے انواع و اقسام کے کھانے تیار کرتی ہیں مگر اسے خوبصورتی کے ساتھ پیش کرنے سے نا بلد ہوتی ہیں اور مہمانوں کی آمد پر افراتفری کے عالم میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔
عام طور پر اکثر گھرانوں میں دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ خواتین بڑی محنت سے انواع و اقسام کے کھانے تیار کرتی ہیں مگر اسے خوبصورتی کے ساتھ پیش کرنے سے نا بلد ہوتی ہیں اور مہمانوں کی آمد پر افراتفری کے عالم میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔یہ درست طریقہ نہیں کیونکہ افراتفری کے اس عالم میں مہمان بھی شرمندہ ہو کر یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ اس نے جلدی آکر غلطی کردی اور سب کو پریشان کردیا۔
سلیقے مند خاتون خانہ کی پہچان یہی ہے کہ وہ ہر کام وقت پر انجام دے تاکہ میزبانی کے فرائض بھی بھرپور انداز سے ادا کرسکے اور کھانےکے دوران مہمانوں کو کسی قسم کی دقت کا سامنا بھی نہ ہونے دے۔ اس ضمن میں مہارت اور سلیقہ چاہتی ہیں تو پھر کھانا بنانے کے ساتھ ساتھ اسے مہمانوں کے سامنے سجانا بھی سیکھئے۔
مہمانوں کی آمد سے پہلے تمام ڈشز تیار کر لیں۔ استعمال ہونے والے برتن مثلاً ٹرے ، پلیٹیں، گلاس اور چمچ وغیرہ نکال کر رکھ لیں۔
یہ بھی پڑھئے: آپ کی جلد کی خوبصورتی کیلئے میک اپ سے زیادہ مناسب اور متوازن غذا ضروری ہے
عام طور پر آج کل کھانا ڈائننگ ٹیبل پر کھایا جاتا ہے لیکن اکثر گھرانوں میں آج بھی دسترخوان کا رواج ہے۔ ان دونوں میں سے کسی پر بھی کھانا پیش کریں۔ میز پوش یا دسترخوان اچھا منتخب کریں۔ پیچیدہ ڈیزائن سے بہتر ہے کہ نفیس رنگ اور ڈیزائن والے میز پوش کا انتخاب کریں۔
یاد رکھیں کھانے کی میز پر محض چند گلاس پلیٹیں اور چمچ رکھ دینا سجاوٹ نہیں کہلاتا۔ کھانے سجانے سے قبل ہر ڈش کی جگہ طے کرلیں۔ اس طرح کھانا سجاتے وقت دشواری نہیں ہوگی۔
کھانا پیش کرتےوقت کھانا ایک جگہ نہ نکالیں بلکہ دو جگہ یا مہمانوں کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے زائد برتن میں نکالیں۔ اس طرح ہر مہمان کھانے سے بھرپور انداز سے لطف اندوز ہوسکےگا اور کھانا لینے کیلئے اسے اپنی باری کا انتظار نہیں کرناپڑےگا۔
کھانے کے دوران پانی کی طلب بھی ہوتی ہے اس کیلئے پلاسٹک کی بوتلوں یا شیشے کے نازک جگ میں پانی بھرکر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر رکھیں تاکہ مہمان کسی کو ڈسٹرب کئے بغیرخود ہی پانی حاصل کر لیں۔
اکثر خواتین جلد بازی میں کھانے کے برتنوں کے ساتھ سوئیٹ ڈشز کیلئے باؤلز اور چمچ بھی رکھ دیتی ہیں، اس طرح میز بھری بھری محسوس ہوتی ہے اور کچھ رکھنے یا اٹھانے میں دقت ہوتی ہے اور اس وجہ سے بعض اوقات برتن بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ جب مہمان کھانے سے فارغ ہوجائیں، اس کے بعد گندے برتن سمیٹ کر میٹھے کے برتن رکھے جائیں۔
یہ بھی پڑھئے: موسم گرما میں آپ کا ریفریجریٹر بھی خصوصی توجہ چاہتا ہے
کھانا کھلانے کے بعد میز یا دسترخوان کو سلیقے سے سمیٹنا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ یہ طریقۂ کار سلیقہ مندی کی نشاندہی کرتا ہے۔ چنانچہ ایک بڑی ٹرے میں استعمال شدہ برتنوں کو سمیٹ کر رکھیں۔ اس طرح کچن بھی نہیں پھیلےگا اور برتن بھی آسانی سے دھل جائیں گے۔
اس تھوڑی سی توجہ اور احتیاط کے ساتھ آپ بھی مہمانوں سےداد وصول کرنے کے قابل ہوجائیں گی۔ بصورت دیگر مہمانوں کی آمد پر ہمیشہ جلد بازی کاشکار رہیں گی۔