Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں کو مطمئن، پُرسکون اور بااعتماد بنانے کی ضرورت

Updated: May 21, 2026, 2:35 PM IST | Faiqa Hammad Kahn | Mumbai

اکثر بچے اپنی پریشانی بیان کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں یہ احساس دلادیا جاتا ہے کہ ان کی بات اہم نہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مسائل دل میں چھپانے لگتے ہیں۔

Scolding, reprimanding, or being harshly criticized can make children feel like failures, so it`s better to encourage them. Photo: INN
ڈانٹنے، جھڑکنے یا سخت سست کہنے سے بچے خود کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں، اس لئے بہتر ہوگا کہ ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ تصویر: آئی این این

احساسِ تنہائی اور جذباتی خلاء:

آج کا بچہ بظاہر سہولتوں میں گھرا ہوا ہے لیکن جذباتی طور پر پہلے سے زیادہ تنہا ہے۔ والدین کی مصروفیات، موبائل کا کثرت سے استعمال اور گھروں میں کم ہوتی گفتگو نے بچوں کے اندر ایک خاموش خلاء پیدا کردیا ہے۔ یہی خلا آگے چل کر چڑچڑے پن، ضد، بے چینی اور ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

حل: والدین روزانہ کچھ وقت صرف بچوں کے لئے مخصوص کریں۔ ان سے بات کریں، ان کی سنیں، ان کے احساسات کو اہمیت دیں۔ بچے نصیحت سے زیادہ توجہ چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جس نے نعمت کی قدر نہ کی، اُس نے خود کو خسارے میں ڈال لیا

موبائل اور سوشل میڈیا کا بے جا استعمال: 

نفسیاتی مسائل کی ایک بڑی وجہ اسکرین کا غیر متوازن استعمال ہے۔ مسلسل ویڈیوز، گیمز اور سوشل میڈیا بچوں کے دماغ کو تھکا دیتے ہیں۔ نتیجتاً توجہ کی کمی، غصہ، نیند کی خرابی اور احساسِ کمتری جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

حل:ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر میں اسکرین ٹائم کے واضح اصول ہوں۔ والدین خود بھی موبائل کے استعمال میں اعتدال اختیار کریں، کیونکہ بچے سننے سے زیادہ دیکھ کر سیکھتے ہیں۔

تعلیمی دباؤ اور مسلسل مقابلہ: 

ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا، لیکن آج ہر بچے سے غیر معمولی کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے۔ کم نمبر آنے پر ڈانٹ، دوسروں سے موازنہ اور ہر وقت آگے بڑھنے کا دباؤ بچوں کے ذہن پر بوجھ بن جاتا ہے۔والدین اور اساتذہ کو سمجھنا ہوگا کہ کامیابی صرف نمبروں کا نام نہیں۔ بچے کی صلاحیت، دلچسپی اور ذہنی سکون کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔ حوصلہ افزائی تنقید سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ان مسائل کا حل والدین، اساتذہ اور معاشرہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے!

گھر کا پُرتشنج ماحول: 

گھروں میں لڑائی جھگڑے، سخت لہجہ، یا والدین کے باہمی اختلافات بچوں کے ذہن پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ بعض بچے خاموش ہوجاتے ہیں، بعض غصیلے اور بعض خوف زدہ۔گھر کا ماحول بچوں کی شخصیت بناتا ہے۔ اگر گھر میں محبت، نرمی اور احترام ہوگا تو بچہ ذہنی طور پر زیادہ محفوظ محسوس کرے گا۔ والدین کو یہ سمجھنا چاہئے کہ بچے صرف ہماری باتیں نہیں  بلکہ ہمارے رویے بھی جذب کرتے ہیں۔

دینی اور اخلاقی تربیت کی کمی: 

روحانی کمزوری بھی نفسیاتی بے سکونی کو بڑھاتی  ہے۔ جب بچے کے دل میں اللہ پر بھروسہ، دعا کی عادت اور اچھے اخلاق پیدا نہیں ہوتے تو وہ معمولی مشکلات سے بھی ٹوٹنے لگتا ہے۔

حل:بچوں کو شروع سے نماز، دعا، تلاوت اور سیرتِ نبویؐ سے جوڑنا ضروری ہے۔ دینی ماحول بچے کے دل کو سکون دیتا ہے اور اسے اندر سے مضبوط بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: موسم گرما میں آپ کا ریفریجریٹر بھی خصوصی توجہ چاہتا ہے

ہر وقت ڈانٹنے اور روکنے کا نقصان:

بعض والدین بچوں کی ہر بات پر تنقید کرتے ہیں۔’’تم کچھ نہیں کرسکتے‘‘یا ’’تم بہت خراب ہو‘‘ جیسے جملے بچوں کے اعتماد کو ختم کردیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ بچہ خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے۔

حل: بچوں کی اصلاح نرمی، حکمت اور محبت سے کی جائے۔ غلطی پر سمجھایا جائے لیکن شخصیت کو مجروح نہ کیا جائے۔

بچوں کی بات نہ سننا:

اکثر بچے اپنی پریشانی بیان کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں یہ احساس دلادیا جاتا ہے کہ ان کی بات اہم نہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مسائل دل میں چھپانے لگتے ہیں۔

حل:ضروری ہے کہ والدین بچوں کے لئے ایسا ماحول بنائیں جہاں وہ بلا خوف اپنی بات کہہ سکیں۔ بعض اوقات صرف توجہ سے سن لینا بھی آدھا علاج بن جاتا ہے۔

اچھے دوست اور مثبت ماحول کی اہمیت: 

بچوں کی شخصیت پر ان کے دوستوں اور ماحول کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ اگر بچہ ایسے لوگوں میں رہے جو بدتمیزی، غصے یا غلط عادتوں کی طرف مائل ہوں تو اس کی سوچ اور رویہ بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔ بعض اوقات غلط صحبت بچوں کو ذہنی دباؤ، بے چینی اور احساسِ محرومی میں مبتلا کردیتی ہے۔

حل:والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کے دوستوں، مصروفیات اور روزمرہ  ماحول پر نظر رکھیں۔ بچوں کو اچھے لوگوں کی صحبت، مثبت سرگرمیوں اور صحت مند ماحول کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ان کی ذہنی اور اخلاقی تربیت بہتر انداز میں ہوسکے۔

یہ بھی پڑھئے: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟

بچوں کی چھوٹی خوشیوں کو اہمیت دینا:

اکثر والدین بڑے مقاصد اور ذمہ داریوں میں اتنے مصروف ہوجاتے ہیں کہ بچوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں، حالانکہ بچے معمولی توجہ، تعریف اور محبت سے بہت زیادہ خوش ہوجاتے ہیں۔ اگر ان کی خوشیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جائے تو وہ اندر سے اداس اور محروم محسوس کرنے لگتے ہیں۔

حل: والدین بچوں کے ساتھ وقت گزاریں،  ان کے ساتھ کھیلیں، ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کریں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ گھر کے اہم فرد ہیں۔ یہی احساس بچے کو ذہنی سکون اور اعتماد فراہم کرتا ہے۔

یاد رکھئے، بچوں کے نفسیاتی مسائل کا حل صرف دواؤں یا مشوروں میں نہیں بلکہ گھر کے ماحول، والدین کے رویے، متوازن تربیت اور دینی وابستگی میں ہے۔ہمیں بچوں کو صرف کامیاب انسان نہیں بلکہ مطمئن، پُرسکون اور بااعتماد انسان بنانے کی فکر کرنی ہوگی۔ بچے نرم پودوں کی طرح ہوتے ہیں، انہیں سختی نہیں بلکہ محبت، توجہ اور صحیح رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK