Inquilab Logo Happiest Places to Work

اوڑھنی اسپیشل: اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران خود کیلئے وقت کیسے نکالیں؟

Updated: January 25, 2024, 3:27 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai

گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں۔

Photo: INN
اپنے لئے وقت نکالنا ضروری ہوتا ہے، اس سے انسان کے سوچنے کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

کام کو وقت پر کرنے کی عادت ڈالیں


اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک خاتون خانہ کا بیشتر وقت گھریلو ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں گزر جاتا ہے۔ کام تو سبھی خواتین کرتی ہیں لیکن اگر انہی کاموں کو ذرا منظم طریقے سے سر انجام دیا جائے تو بہت زیادہ نہ سہی ہم کچھ نہ کچھ وقت خود کیلئے ضرور نکال سکتے ہیں۔ فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد روزانہ تلاوت کی عادت بنائیں، خواہ ایک رکوع خواہ چند آیات، لیکن تلاوت کا ناغہ نہ کریں۔ یہ معمول آپ کو ذہنی سکون فراہم کرے گا۔ پھر اپنے دن بھر کے کاموں کا جائزہ لیں۔ بہتر ہوگا کہ ایک دن پیشگی اگلے روز کے کھانا پکانے کی اشیاء کا انتظام کر لیں۔ بچوں کے یونیفارم وغیرہ رات میں استری کر لیں۔ بچوں کو اس چیز کا عادی بنائیں کہ اسکول سے لوٹ کر وہ اپنے بیگ، جوتے، موزے اور یونیفارم اس کی مخصوص جگہ پر ہی رکھیں۔ چھوٹے موٹے کام بچوں میں بانٹ دیں اس سے انہیں بھی کاموں میں ہاتھ بٹانے کی عادت ہوگی اور آپ کا بھی کچھ بوجھ ہلکا ہوگا۔ فون پر طویل گفتگو سے احتراز کریں کیونکہ گفتگو طویل ہوگی تو عین ممکن ہے کہ اس میں غیبت، چغلیاں اور فضول باتیں شامل ہوں لہٰذا اس سے بچنا بہتر ہے۔ کام کو وقت پر کرنے کی عادت ڈالیں کیونکہ جب ہم کاموں کو اگلے دن، پھر اس سے اگلے دن پر ٹالتے ہیں تو ڈھیروں کام اکٹھا ہو جاتے ہیں جنہیں کرنے میں وقت اور انرجی دونوں زیادہ درکار ہوتے ہیں۔ تھوڑی سی کوشش سے ہم اپنے لئے کچھ وقت ضرور نکال سکتے ہیں۔
رضوی نگار (اندھیری، ممبئی)
کام کو تقسیم کرنا سیکھیں


خواتین کی ذمہ داریوں کا دائرہ کار کافی وسیع ہوتا ہے جس کو انجام دینے کے دوران وہ خود کو فراموش کر دیتی ہیں جو کہ ٹھیک نہیں ہے۔ ہم میں سے کچھ خواتین دہری ذمہ داریاں انجام دیتی ہیں۔ ان میں توازن بنانے کی کوشش میں وہ پریشان ہوجاتی ہیں۔ کچھ باتوں کا دھیان رکھتے ہوئے آپ خود کو پُرسکون کرسکتی ہیں۔ سب سے پہلے آپ ترجیحات طے کریں۔ ایک وقت میں ایک ہی کام کریں۔ ایک وقت میں کئی طرح کے کام آپ کو الجھا سکتے ہیں۔ جس کام کو انجام دے رہی ہیں مکمل طور پر اسی کو اچھی طرح کرلیں باقی دوسرے کاموں کے وقت اور دن مقرر کر لیں اس طرح آپ کو کچھ وقت مل جائے گا۔ وقت کا بہترین ایڈجسٹمنٹ آپ کو آنا چاہئے۔ صبح کے وقت اگر زیادہ تر کام نبٹا لئے جائیں تو دن بھر میں آپ کو اچھا خاصا وقت فراغت کا مل جائے گا۔ وقت کی صحیح تقسیم اور فرائض کی مناسب تقسیم آپ کے مزاج پر اچھا اثر ڈالے گی۔ کام کو تقسیم کرنا سیکھیں۔ ضروری نہیں کہ آپ ہی ساری ذمہ داری انجام دیں، گھر کے افراد ایک ٹیم کی طرح اگر ساتھ دیں تو ساری ذمہ داریاں وقت پر ادا ہو جائیں گی۔ سب کو خوش رکھنا ایک فردِ واحد کیلئے ممکن نہیں ہے۔ اس لئے جہاں تک ممکن ہو ہر کام صاف ستھرا کریں لیکن ’’مسز پرفیکٹ‘‘ بننے کی کوشش نہ کریں اس طرح آپ خود کو دباؤ میں محسوس کریں گی اور خود کیلئے وقت نہیں نکال پائیں گی۔ ہلکے پھلکے ذہن کے ساتھ کئے گئے کام وقت رہتے پورے ہو جاتے ہیں۔
انصاری لمیس (بھیونڈی، تھانے)

صبح جلدی اٹھیں

ذمہ داریوں کے دوران خود کیلئے وقت نکالنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جب بھی اور جیسے ہی ذمہ داریوں سے تھوڑی دیر کیلئے بھی فراغت ملے تو اسے صرف اور صرف اپنی ذات پر خرچ کریں۔ مثال کے طور پر بچے اسکول کیلئے جاچکے ہیں اور گھر کے بزرگ آرام کر رہے ہیں، اس دوران کوئی مشغلہ اپنائیں۔ اس کے علاوہ اپنے سونے اور جاگنے کے اوقات کو منظم کریں، اس سے آپ کو اپنے کافی وقت ملے گا۔ ملازمت پیشہ خواتین پر دہری ذمہ داریاں ہوتی ہیں انہیں چاہئے کہ چھٹی والے کو اپنی ذات کیلئے مختص کر دیں۔ اس دن موبائل فون کا بالکل استعمال نہ کریں۔ اس دن وہ شاپنگ کرسکتی ہیں یا کوئی ہنر سیکھ سکتی ہیں۔
قریشی عربینہ محمد اسلام (بھیونڈی، تھانے)
وقت برباد کرنیوالی سرگرمیوں سے دوری


اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ۲۴؍ گھنٹے میں خود کے لئے وقت نکالنا خود کو تحفہ دینے جیسا ہے۔ گھریلو خواتین کے ساتھ ساتھ ملازمت پیشہ خواتین کو بھی اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہئے۔ اپنی جسمانی اور دماغ، دونوں کی صحت پر توجہ دینا چاہئے۔ گھریلو اور دفتری، دونوں ذمہ داریاں اس طرح نبھائیں کہ اپنی ذات کیلئے کچھ وقت نکال سکیں۔ اپنے آرام کا بھی خاص خیال رکھیں، اس سے ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے۔ موبائل فون اور ٹی وی ہمارا وقت برباد کرتے ہیں، ان سے دوری بنا لیں۔ خود کیلئے وقت نکالنے سے انسان خوش رہتا ہے۔ اس کے علاوہ صبح جلدی اٹھیں اور گھریلو کام کاج جب نپٹا لیں تاکہ کچھ وقت آپ کو مل جائے۔ اس دوران اپنی دلچسپی کے مطابق سرگرمیاں اپنائیں۔ کوئی کتاب پڑھیں۔ کچھ وقت آپ ورزش بھی کرسکتی ہیں جس سے آپ کی صحت اچھی رہے گی۔
ثمینہ علی رضا خان (کوسہ، ممبرا)
۲۴؍ گھنٹوں کی درست تقسیم


اپنے لئے وقت نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زندگی کو منظم کریں۔ ۲۴؍ گھنٹوں کو تین حصوں میں تقسیم کر لیں تو ہر کام بآسانی انجام ہوگا۔ ۸؍ گھنٹے سائنسی نقطہ نظریۂ سے آرام ضروری ہے باقی ۱۶؍ گھنٹے جو اپنے اختیار میں ہیں اُس کا باقاعدہ تخمینہ بنا کر اپنے گھر کی تمام ذمہ داریاں نبھائیں۔ ہماری شریعت بھی ہمیں یہی درس دیتی ہے رات جلد سوئیں صبح جلد اٹھیں۔ یہ عمل زندگی میں فرض عین بنا لیں تو ہم ساری ذمہ داریوں کو بخوبی اور آسانی سے مقابلہ کرتے ہوئے خود کیلئے بھی وقت نکال سکتے ہیں۔ وقت کی پابندی ہمیں کامیابی اور کامرانی کی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔
منصوری رومانہ تبسم (شہادہ، نندوربار)
ہر کام کیلئے وقت متعین کرلیں


خاتونِ خانہ کیلئے اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ خود کیلئے وقت نکالنا کافی مشکل نظر آتا ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ خاتونِ خانہ اپنے روزمرہ کے معمولات کا جائزہ لیں اور ہر کام کیلئے وقت متعین کرلیں۔ ہر کام اپنے مقررہ وقت پر انجام دیں۔ ضروری کام پہلے نمٹا لیں۔ صبح جلدی بیدار ہو کر عبادت کے ساتھ اپنے دن کی شروع کریں کیونکہ صبح کے وقت میں برکت ہوتی ہے۔ فارغ اوقات میں کوئی اچھی کتابیں پڑھیں یا کچھ لکھیں۔ روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ اپنے لئے وقت نکالیں اور اس دوران کسی ایسی کتاب کا مطالعہ کریں جس سے آپ کی شخص نکھر جائے۔ منظم طریقے سے کام کرکے اپنے لئے وقت نکالنا کافی آسان ہو جاتا ہے۔
خان نرگس سجاد (جلگاؤں، مہاراشٹر)
مَیں روزانہ اپنے لئے ایک گھنٹہ نکالتی ہوں


خواتین کو روزانہ اپنے لئے ایک گھنٹہ نکالنا چاہئے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے اور ذہنی بیماریوں سے باہر نکل سکیں۔ اس کے لئے انہیں کاموں کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ جو وقت خود کے لئے میسر ہو اس میں وہ کام کرنا چاہئے جس سے انہیں ذہنی سکون اور قلبی سکون حاصل ہو۔ اپنی پسند کے کھانا کھائیں، سہیلیوں سے ملاقات کریں جن سے مل کر دلی خوشی میسر ہو۔ شاپنگ کریں۔ آج کل مَیں آفس سے آنے کے بعد مغرب کی نماز کے بعد اپنے لئے تھوڑا سا وقت نکال رہی ہوں۔ روزانہ ایک گھنٹہ چہل قدمی کر رہی ہوں جس سے مجھے ذہنی اور جسمانی قوت ملتی ہے۔ خود کو ترو تازہ محسوس کرتی ہوں۔ ہمارے شہر میں بہت اچھا پارک ہے، وہاں جا کر میری دن بھر کی تھکان اتر جاتی ہے۔ اس کے علاوہ فرصت کے لمحات میں انقلاب کے لئے بھی مضمون لکھنا شروع کیا ہے جس سے میری لکھاری اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مَیں نے اپنی تخلیق کو قلم کی زبان دے کر الفاظ کے روپ میں اپنے خیالات اور نظریات کو دوسروں کے ذہن پر ثبت کرنے کی کوشش کی ہے۔
 الحمدللہ کافی لوگوں نے میری حوصلہ افزائی بھی کی ہے جس سے مجھے دلی مسرت ہورہی ہے اور اگلے ہفتے کے عنوان کا انتظار رہتا ہے۔ ان سب چیزوں کو مَیں نے اپنی زندگی میں شامل کرکے اپنی ذہنی تناؤ کو کم کیا ہے۔ اس طرح میری مصروفیت اور ذمہ داریوں سے بھری زندگی کچھ حد تک آسان ہوگئی ہے۔
رفعنا حفیظ الرحمٰن انصاری (نائیگاؤں، بھیونڈی)

مَیں اپنے لئے وقت نکالتی ہوں


بھاگتی دوڑتی زندگی میں خود کیلئے وقت نکالنا بے حد ضروری ہے۔ الحمدللہ میں بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ دو بچوں کی ماں بھی ہوں گھر کی ذمہ داری، بچوں اور شوہر کی ذمہ داری ہونے کے باوجود میں دن بھر میں اپنے لئے تھوڑا وقت نکالنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ان اوقات میں، مَیں بچوں کو مختلف اقسام کے کیک بنانا سکھاتی ہوں جس سے مجھے دلی مسرت ہوتی ہے۔ میں کچن کے کاموں کے ساتھ ساتھ فرصت کے لمحات میں نئی نئی ڈشیز بھی بنانا سیکھتی ہوں۔ اس کے علاوہ شام میں تھوڑا سا وقت نکال کر میں بچوں کو گارڈن لے جاتی ہوں اس طرح میری بھی چہل قدمی ہوجاتی ہے اور ان کے ساتھ میں خود بھی کھیلتی ہوں، اس سے میرے دن بھر کی جو تھکان ہوتی ہے وہ بچوں کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کر غائب ہوجاتی ہے اور خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتی ہوں۔ رات کو سونے سے پہلے کچھ وقت نکال کر مَیں مختلف کتابوں کا مطالعہ کرتی ہوں جس سے میری معلومات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہفتے میں ایک دن وقت نکال کر مَیں اپنے عزیزوں سے بھی ملاقات کرتی ہوں۔ ان کے ساتھ شاپنگ کرتی ہوں اور اپنے گھر والوں کے ساتھ شہر کے باہر بھی تفریح کیلئے جاتی ہوں جس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔ ذمہ داریوں سے بھری اپنی زندگی کو کچھ آسان بنانے کیلئے مَیں ان کاموں کو انجام دیتی ہوں۔
تزئین عدنان بھابھے (مہاپولی، بھیونڈی)
جلدی اٹھنے سے کئی کام مکمل ہو جاتے ہیں


جس طرح دوسروں کو کھانا کھلانے سے ایک دائمی خوشی کا احساس ہوتا ہے اسی طرح اپنے اہل و عیال گھر کے ہر فرد کیلئے اپنی ذمہ داری نبھانا یہ دائمی خوشی کا باعث ہے۔ صبح سے لے کر شام تک کا حصہ گھر کی ذمہ داری اور رات کا حصہ اپنی ذات کے لئے مختص کر لیں تو اپنے ہر کام میں آسانی ہوگی۔ اس کے لئے صبح جلدی اٹھنے کی عادت ڈالیں، اس سے سارے کام بآسانی انجام پا جاتے ہیں۔
شگفتہ منصوری (شہادہ، نندوربار)
گھریلو کاموں کی فہرست بنائیں


گھریلو کاموں میں الجھ کر خواتین پورے گھر کیلئے صبح سے شام تک لگی رہتی ہیں اور اپنے لئے ہی وقت نہیں نکال پاتیں۔ یہاں تک وہ اپنے ذوق و شوق کو بالائے طاق رکھ دیتی ہیں لیکن اگر وہ تھوڑی سمجھداری سے کام لیں تو کام کو مکمل کرنے کے ساتھ خود کے لئے بھی وقت نکال سکتی ہیں۔ سب سے پہلے گھریلو کاموں کی فہرست بنا لیں جو ضروری کام ہو انہیں نمٹانے کی کوشش کریں۔ اس کے علاوہ گھر کے کاموں میں گھر کے افراد کو بھی شامل کریں۔ اگر کوئی مسئلہ ہو تو اسے سب کے ساتھ شیئر کریں۔ اس طرح سے جب بچے اسکول چلے جائیں تو اس وقت وہ اپنے لئے بھی وقت نکال سکتی ہیں یا اپنے کاموں کو وقت پر مکمل کر نے کے بعد شاپنگ یا پارلر جا سکتی ہیں یا جب بچے سو رہے ہوں تو مطالعہ کر سکتی ہیں۔ جم جا سکتی ہیں۔ اپنی نیند پوری کرسکتی۔
 اگر خاتون، ملازمت پیشہ ہو تو ہفتے بھر کا سامان ایک ساتھ لے کر آجائے، مسالوں کو پیس کر رکھے، سبزی ترکاری صاف کرکے اور کاٹ کر رکھے، اس طرح اپنے کاموں کو ترتیب دے کر اپنے لئے وقت نکال سکتی ہے۔ تھوڑی سی سمجھداری سے خواتین اپنی زندگی آسان بنا سکتی ہیں۔
نسیم بانو رضوان شیخ ( کرلا، ممبئی)
دیر رات تک جاگنا اچھی عادت نہیں ہے


وقت کبھی تھمتا نہیں اور ذمے داریاں کسی بھی عمر میں ختم نہیں ہوتیں۔ ہوش سنبھالتے ہی شروع ہوجاتی ہیں۔ والدین اور بڑے بہن بھائیوں نے ہم سے متعلق ذمےداریان بخوبی نبھائیں۔ ہم نے ان ہی سے ذمے داریوں کو سمجھنا اور نبھانا سیکھا۔ بزرگ والدین کی خدمت، دینی اور عصری تعلیم پر مناسب توجہ، اور شروع ہی سے وقت کے بہترین مینجمنٹ نے یہ خود بخود سکھا دیا کہ اپنے لئے وقت کیسے نکالنا ہے۔ شام کو تمام کاموں سے فارغ ہونے کے بعد اگلے روز کی اہم مصروفیات کو اگر صحیح طرح سے وقت کا تعین کرکے مینج کیا جائے تو خود کیلئے وقت نکالنا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ فجر کی نماز انتہائی اہم رول ادا کرتی ہے۔ بہت سے کاموں کو ہم دوپہر سے قبل ہی اگر مکمل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو معقول وقت نکل آتا ہے۔ غرضیکہ اگر ذمہ داریوں کو گھر کے افراد آپس میں اپنی صلاحیت کے مطابق تقسیم کرلیں تو نہ صرف سبھی کو اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کا احساس ہوگا بلکہ گھر کا ہر فرد اپنے لئے وقت نکال سکے گا۔
 رات کو دیر تک ٹی وی دیکھنے اور بے وجہ جاگنے سے بھی ٹائم مینجمنٹ خراب ہوسکتا ہے۔ لہٰذا جلد سونا اور تہجد اور فجر کے لئے وقت پر جاگنا بے حد ضروری ہے۔
سلطانہ صدیقی (جامعہ نگر، دہلی)

مناسب منصوبہ بندی سے کام لیتی ہوں
خواتین اکثراپنی ذات کو فراموش کر دیتی ہیں۔ خواتین اکثر وقت نکالنے کا صرف تصور ہی کر پاتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ اپنے لئے وقت نکالنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ اس سے آپ کی صحت اچھی رہتی ہے اور شخصیت بھی نکھرتی ہے۔  مَیں ایک ملازمت پیشہ خاتون ہوں۔ اس لئے گھریلو اور دفتری، دونوں ذمہ داریوں میں گھری رہتی ہوں۔ اس کے باوجود مَیں اپنے لئے روزانہ وقت نکالتی ہوں وہ بھی بہت سارا۔ یہ اس لئے ممکن ہوپاتا ہے کہ مَیں نظم و نسق اور مناسب منصوبہ بندی سے کام لیتی ہوں۔ وقت کی پابندی کرتی ہوں، بے جا وقت ضائع نہیں کرتی۔ نیٹ سرفنگ سے پرہیز کرتی ہوں، ساتھ ہی فضول گفتگو سے بھی دور رہتی ہوں۔ خود کی بہتری کا سوچتی ہوں اور اس طرح اپنی خوشی کا خیال رکھتی ہوں۔
فردوس انجم ( بلڈانہ مہاراشٹر)
آیئے عہد کریں، خود کا خیال رکھیں گی
یوں تو ہم عورتیں اپنی ذمےداریوں کو بخوبی انجام دیتی ہیں۔ حالات چاہے جیسے ہوں مگر ہم اللہ کے فضل وکرم سے اس سے نبردآزما ہو ہی جاتی ہیں۔ ہماری زندگی کی صبح و شام مصروفیت میں گزر جاتی ہے۔ سب کی ضرورتوں کو پورا کرنا پڑتا ہے۔ والدین بچے یہاں تک کہ رشتے داری بھی ہم احسن طریقے سے نبھاتی ہیں مگر افسوس ہم خود کو بھول جاتی ہیں کہ ہمارے بھی خود پر کچھ فرائض ہیں۔ جب ہم خود کا خیال نہیں رکھیں گی تو اور کون رکھے گا؟ اپنے لئے بھی جینا چاہئے، جس میں ہم خود کے بارے میں سوچیں۔ سب سے پہلے اپنی صحت کے لئے فکر کریں۔ اپنی غذا، اپنے آرام کے لئے وقت نکالیں، چند گھنٹے اپنی عبادت کے لئے وقف کریں، دنیا کو خوش کرنے کے چکر میں ہم اپنے رب کو راضی کر ہی نہیں پاتے اور یونہی زندگی بے مقصد ختم ہو جاتی ہے۔ آیئے عہد کریں کہ سب کے ساتھ ہم خود کا بھی خیال رکھیں گی اور اپنی خواہشوں کو بھی مد نظر رکھیں گی۔
ایمن سمیر (اعظم گڑھ، یوپی)
ایک دن قبل کاموں کی فہرست بنائیں
گھر کو گھر بنانے میں خواتین کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اکثر خواتین گھر کے افراد اور گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنی شخصیت کو بالکل نظرانداز کر دیتی ہیں۔ اسلئے بہت ضروری ہو جاتا ہے کہ خواتین اپنی خواہشوں کا بھی خیال رکھیں۔ کیونکہ اپنے آپ کو مسلسل نظرانداز کرنے سے خواتین میں ڈپریشن، بیماریوں، اداسیاں اور احساسِ کمتری پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ وقت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اپنے لئے بھی وقت نکالیں۔ سب سے اہم، ایک فہرست رات کو ہی بنا لیں کہ کل آپ کو کون کون سے کاموں کو انجام دینا ہے۔ صبح بچوں کے اسکول جانے سے لے کر آنے تک آپ کے پاس کافی وقت ہوتا ہے۔ صبح گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر تھوڑا وقت اپنے شوق کو دیں۔ اس دوران کوئی ہلکی پھلکی ورزش کریں، اس سے آپ کی صحت پر مثبت اثر پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی زبان سیکھیں۔ گھر سے باہر بھی نکلیں۔ دیکھیں کہ معاشرے میں کیا ہورہا ہے۔ آپ کے آس پاس کوئی دکھ تکلیف میں ہو تو اس کے کام آئیں۔ سہیلیوں سے ملاقات کریں۔ ان سرگرمیوں کو اپنانے سے کچھ وقت بعد یہ آپ کی عادت میں شامل ہو جائیں گی اور آپ اپنے اندر ایک مثبت تبدیلی محسوس کریں گی۔
ہماء جمال (دیوبند، یوپی)
ہر کام مقررہ وقت پر انجام دیں
اپنی ذمہ داریاں منظم طریقے سے ادا کی جانی چاہئے۔ بغیر منصوبہ بندی کے کوئی کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا۔ آدمی الجھ کر رہ جاتا ہے۔ نہ ذہنی سکون ملتا ہے نہ جسمانی آرام۔ صحت برباد ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں مصروفیت کا جائزہ لیا جائے۔ ضرورت سے زیادہ کام کا بوجھ خود پر نہ لیں۔ بلا ضرورت کام کو نہ بڑھائیں۔ ہر کام کو ہلکے پھلکے انداز میں شروع کرکے مخصوص وقت پر ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ذمہ داری کا بوجھ زیادہ ہو تو تھوڑا تھوڑا کرکے مکمل کریں، کام مکمل کرنے میں کسی کی مدد بھی لی جاسکتی ہے۔ اس طرح وقت کی بچت ہوگی جسے اپنی ذات پر خرچ کرسکتے ہیں۔ دراصل ہم مَیں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جنہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انسان کا اپنے اوپر بھی حق ہے۔
 اللہ تعالیٰ سورۃ التین میں چار مرتبہ قسم دے کر فرماتے ہیں، ’’یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا‘‘ تو انسان کو اس کی قدر کرنی چاہئے۔ اور اپنی صحت کاخیال رکھیں۔ ایک صحتمند انسان عائدہ ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دے سکتا ہے۔
بنت شبیر احمد (ارریہ، بہار)
اپنے آپ کو فراموش نہ کریں
خواتین اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھاتی ہیں لیکن اپنا خیال رکھنا بھول جاتی ہیں۔ خواتین اپنے گھر والوں کی چھوٹی سی چھوٹی بات بھی خاص خیال رکھتی ہیں لیکن خود کو فراموش کر دیتی ہیں۔ اگر خواتین کی صحت بگڑ جائے تو گھر کا پورا نظام بگڑ جاتا ہے۔ اس لئے اپنے آپ کو فراموش نہ کریں۔
 سب سے پہلے خواتین کو اپنے آپ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اپنی صحت کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ پورے دن خواتین گھر کے کاموں میں لگی رہتی ہیں ایسے میں خود کیلئے وقت نکالنا تھوڑا مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ ایسے کاموں کے دوران جو وقفہ ملتا ہے، اس کا فائدہ اٹھائیں۔ اس کے علاوہ صبح جلدی اٹھیں تو خود کے لئے وقت نکالنا ممکن ہوسکتا ہے۔
شبانہ حسن فاطمی (چھپرہ، بہار)
معمولات کو منظم کرکے وقت نکالا جاسکتا ہے


 اس بھاگ دوڑ بھری زندگی میں خود کیلئے وقت نکالنا نہایت مشکل کام ہے۔ صبح سویرے سے لے کر شام ڈھلنے اور رات قیام ہونے تک خواتین مسلسل کسی نہ کسی کام میں لگی رہتی ہیں۔ اور یہ کام اور بڑھ جاتا ہے جب خواتین نوکری پیشہ ہو۔ ایسے میں گھر، بچے، دفتر، رشتے دار اور سماج کے فرائض نبھاتے نبھاتے اپنے لئے وقت نکالنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن ان سب کے باوجود خود کیلئے وقت نکالنا ضرور چاہئے۔ اپنے لئے وقت نکال کر اپنا پسندیدہ کام کرنے سے آپ نہ صرف اچھا محسوس کریں گی بلکہ آگے کام کو بہتر طریقے سے کرنے کا حوصلہ ملےگا۔ اپنے دن بھر کے شیڈول میں سے کچھ وقت اپنے لئے ضرور نکالیں اور کوئی مووی، پوئٹری، کھیل، پینٹنگ اور جو آپ کو پسند ہو اس میں وقت گزاریں۔ اس کیلئے اپنے دن بھر کے اوقات کو صحیح طریقے سے تقسیم کرکے وقت نکالا جاسکتا ہے۔ اپنے کام کو اس طرح بانٹیں کہ سارے کام وقت پر پورے ہو جائیں۔ اس کیلئے وقت کی پابندی بےحد ضروری ہے۔ سب سے پہلے سونے اور جاگنے کے اوقات مقرر کریں کیونکہ اس کے بغیر خود کیلئے وقت نکالنا تو مشکل ہے اور دوسرے کام بھی پورے نہیں ہو پائینگے۔ حالانکہ ایک ذمہ دار اور حساس خاتون خود کو اور اپنی ضرورت کو سب کے بعد رکھتی ہے۔ لیکن پھر بھی اپنے لئے وقت نکالیں تاکہ اپنوں کا خیال رکھ سکیں کیونکہ آپ کے گھر اور اپنوں کیلئے آپ کا فٹ ہونا ازحد ضروری ہے۔
جویریہ طارق (سنبھل، یوپی)
صبح جلدی اٹھ کر اپنے لئے وقت نکالنا ممکن


وقت سب سے قیمتی چیز ہے۔ صبح سورج کا طلوع ہونا اور مغرب میں غروب ہونا، ہمیں وقت کی پابندی کا احساس دلاتے ہیں۔ ہر کام وقت پر اچھا لگتا ہے ورنہ زندگی کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے لئے وقت نکالنے میں ناکام ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا اس دُنیا میں آنے کا مقصد بے بنیاد ہے۔ اپنی اپنی ذاتی مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے پہلے ایک ٹائم ٹیبل بنائیں تاکہ آپ ایک نظم کے مطابق اپنے کام انجام دے سکیں۔ فجر میں اٹھنے کی عادت ڈالیں۔ جلدی اٹھنے کے بے شمار فائدے ہیں جن میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ دن بھر کے سارے کام جلدی نپٹ جاتے ہیں اور آپ کو اپنے لئے وقت مل جاتا ہے۔ اگر آپ لکھنے کا شوق رکھتی ہیں تو اپنے خالی اوقات میں لکھتی رہیں، یہ وقت گزارنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ آپ اپنے ہنر کو نکھارنے پر توجہ دے سکتی ہیں۔ اس سے آپ کی خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہوگا۔ آپ کی سوچ کا رُخ مثبت سمت میں ہوگا۔ ایک بہترین طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ اپنے لئے ایک ’’محاسبہ چارٹ‘‘ تیار کریں۔ روزانہ کتنے وقت کی نماز ادا کی، کتنا صدقہ دیا، کسی کی دل آزاری ہوگئی، کسی کے ساتھ برا رویہ اختیار کیا، کسی سے وعدہ پورا کرکے بھول گئی، کہیں باتوں باتوں میں جھوٹ کہہ دیا وغیرہ وغیرہ، باتوں کو محاسبہ چارٹ میں نوٹ کریں۔ اس طرح محاسبہ کا طریقہ آپ کو خود کے لئے وقت نکالنے پر آمادہ کرے گا جس کی وجہ سے آپ خود میں نہ صرف تبدیلی لاسکتی ہیں بلکہ آپ خود کے لئے اُمید بھری زندگی گزارنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈ سکتی ہیں۔
آفرین عبدالمنان شیخ (شولا پور، مہاراشٹر)
منصوبہ بند طریقے سے کام انجام دیں


وقت کا صحیح استعمال کرنے کے لئے ایک منصوبہ بنائیں، جس میں ورزش، مشغلے اور بچوں کے ساتھ وقت شامل ہوں۔ روزانہ کی بنیاد پر ایک طے وقت پر اپنے کام انجام دیں، اس سے کافی وقت بچ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ کام گھر والوں کو بھی سونپیں۔ جو وقت آپ کو اپنے لئے میسر ہو اس میں اپنی صحت پر توجہ دیں۔ اس دوران دوستوں اور رشتے داروں سے ملنے، چائے پینے، بچوں کے ساتھ کھیلنے جیسے کام بھی انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ اس طرح آپ اپنی زندگی میں توازن بحسن و بخوبی برقرار رکھ سکتی ہیں۔
عطیہ شہباز شیخ (اُلوے، نوی ممبئی)
ٹائم ٹیبل بنالیں


اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے ساتھ ساتھ ہمیں خود کے لئے، اپنے شوق کے لئے بھی وقت نکالنا چاہئے۔ اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں اگر ہم صرف ذمہ داریوں میں ہی خود کو مصروف کر لیں گے، اور خود کے لئے وقت نہیں نکالیں گے تو ایسا کرنے سے ہم ذہنی دباؤ محسوس کریں گے، جس سے ہمارے مزاج میں چڑچڑاپن بھی آ سکتا ہے اور ہم ذہنی مریض بھی ہوسکتے ہیں۔ اس لئے ہمیں اپنی ذمہ داریوں اور کام کاج کا ایک ایسا ٹائم ٹیبل اپنے ذہن میں تیار کر لینا چاہئے، جس میں خود کے لئے بھی کچھ وقت شامل ہو۔ ایسا کرنے سے زندگی میں تازگی کا احساس ہوگا اور ہماری زندگی خوشیوں سے ہمکنار ہوگی۔
نازش بیگم (اٹاوہ، یوپی)
اپنے شوق کو ترجیح دیں


دنیا میں جینا ہے اگر تو سب سے پہلے اپنی فکر کریں اور اپنے لئے وقت نکالیں۔ سب سے پہلے صبح جلدی اٹھیں اپنا اور گھر کا کام ختم کریں۔ اپنے لئے صحت بخش ناشتہ تیار کریں اور کھائیں۔ خود کے لئے ایک ڈائری بنائیں اور اس ڈائری میں اپنا شیڈول تیار کریں کہ آپ کو کیا کرنا ہے؟ دوپہر کو اچھے سے سوئیں۔ ایک عادت بنالیں کہ شام کو سیر کرنے جائیں صحت ہے تو یہ جہان ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ دوسروں کا خیال رکھتے رکھتے خود کو بھول جائیں۔ خاص اور اہم بات منظم زندگی گزاریں۔ کتابیں اور اخبار پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ اپنے شوق کا خاص خیال رکھیں۔ گھر میں دوستانہ ماحول بناکر رکھیں۔ منفی باتوں کو کم سے کم اپنی زندگی سے دور رکھنے کی کوشش ضرور کریں۔ اپنے آپ کو کبھی بھی عبادت سے دور نہ کریں کیسے بھی حالات ہوں ڈٹ کر مقابلہ کریں۔
شاہده محمود خان (جو گیشوری، ممبئی)
موبائل فون پر بے جا باتیں نہ کریں


اگر آپ گھر کی ذمہ داریوں کے علاوہ کچھ کرنا چاہتی ہیں تو پورے دن کے کام کی لسٹ بنائیں۔ اس سے آپ دیگر سرگرمیاں کرسکیں گی جیسے کہ چہل قدمی، شاپنگ، اخبار یا رسالے کیلئے لکھنا وغیرہ۔ بار بار موبائل فون کو چیک نہ کریں، فون پر بے جا باتیں نہ کریں، یہ وقت برباد کرتے ہیں۔ خاتون خانہ کو گھر کے کام سے فرصت نہیں ملتی یہ سچ بات ہے لیکن سمجھداری اسی میں ہے کہ ٹائم ٹیبل سے کام کرنے سے ہم اپنے لئے بھی آسانی سے وقت نکال سکیں گے۔
شاہدہ وارثیہ (وسئی، پال گھر)
وقت کا پابند بنیں


بھاگ دوڑ بھری زندگی میں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے کرتے ہم خود کوبھول چکے ہیں۔ مَیں ایک ملازمت پیشہ خاتون ہوں۔ گھر اور باہر کی دہری ذمہ داریاں نبھانا مشکل ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ خود کیلئے وقت نکالنا بھی۔ لیکن اگر ہم اپنی پسند، اپنی قابلیت، اپنے شوق و ذوق کو ہی بھول جائیں تو میری نظر میں ایسی زندگی گزارنا بے معنی ہے۔ اس کیلئے سب سے اہم وقت کا پابند ہونا بہت ضروری ہے۔ صبح جلدی اٹھیں اور فجر کی نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ جس سے جسم ترو تازہ رہے گا اور دیگر دن بھر کے کاموں کے لئے وقت ملے گا۔ ایسی بہت سی خواتین ہیں جو مختلف قسم کی صلاحیتوں کی مالک ہوتی ہیں، مثلاً اچھا پکوان بنانا، مہندی لگانا، اچھے مضمون لکھنا، ڈیزائن بنانا، آرٹ، ڈرائنگ بنانا وغیرہ۔ وقت نکال کر اپنے ہنر کو نکھار سکتی ہیں۔ آج کل جو رواج عام ہو گیا ہے موبائل کا بے جا استعمال کرنا، اس میں وقت برباد نہ کریں۔ نماز کے پابند بنیں۔ خود کو اللہ کے قریب ہونے کا موقع دیں اور اپنا خالی وقت اپنی ان صلاحیتوں کو دیں جو ہم نے اپنے اندر کہیں نہ کہیں چھپا کے رکھی ہیں۔
تسنیم کوثر انصار پٹھان ( کلیان، تھانے. مہاراشٹر )
غیر ضروری کاموں سے دور رہیں


روزمرہ کی ذمہ داریوں میں خاتون ایسے الجھ کے رہ جاتی ہے کہ اسے اپنے لئے وقت نکالنا مشکل ہی نہیں ناممکن سا لگتا ہے۔ مگر یہ خاتون ہی ہے جو گھر کے نظم کو بخوبی چلاتی ہے اور ذمہ داریاں بھی نبھاتی ہے۔ اس لحاظ سے وہ اپنے لئے وقت بھی نکال سکتی ہے۔ روزانہ کے معمول کا چارٹ اس کے ذہن میں ہو اور وقت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے وہ بآسانی خود کے لئے وقت نکال سکتی ہے۔ اس کے علاوہ غیر ضروری اور بے کار کے کاموں سے گریز کرتے ہوئے اپنے لئے وقت کا بہتر استعمال کر سکتی ہے۔ ہر کام منصوبہ بندی سے کیا جائے تو ہم اپنی مصروفیات میں سے کافی وقت نکال سکتے ہیں اور اس کا بہتر طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں اپنی صحت کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ اگر ہم صحتمند ہوں گی تو ہر ذمہ داری بہتر طور پر مکمل کرتے ہوئے اپنے لئے وقت نکال بھی نکال سکیں گی۔
مومن رضوانہ محمد شاہد (ممبرا، تھانے)
ذمہ داریوں اور کام کی حدود کا تعین کریں


اس بھاگ دوڑ بھری زندگی میں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینا اور خود کے لئے وقت بھی نکال پانا حقیقتاً ایک مشکل امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھ سے اکثر خواتین ٹائم مینجمنٹ پر لکھنے کیلئے اصرار کرتی ہیں۔ ہم مندرجہ ذیل نکات پر عمل کرکے ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران اپنے لئے وقت نکال سکتے ہیں۔ اپنے افعال اور ذمہ داریوں کی انجام دہی کیلئے منظم شیڈول ترتیب دیں۔ اس شیڈول کی مدد سے آپ اپنے وقت کو منظم اور مؤثر طریقے سے استعمال کرسکتے ہیں۔ اپنی ذمہ داریوں اور کام کی حدود کا تعین کریں۔ اہم ذمہ داریوں کو پہلے انجام دیں۔ حقیقت پسندانہ مقاصد بنائے رکھیں۔ مقاصد کا تعین ہوگا تو زندگی میں توازن برقرار رہے گا۔ بوقت ضرورت افراد خانہ کی بھی مدد لیں۔ وقت کو مختلف حصوں میں بانٹ دیں۔ ملٹی ٹاسکنگ سے بچیں۔ اپنے افعال کی انجام دہی کا آپ نے جو نظم کیا ہے اسی کے مطابق کام کریں۔ غیر ضروری کاموں کو سرپر سوار نہ کریں اور ’ناں‘ کہنا سیکھیں۔ بوقت ضرورت آپ اپنے شیڈول میں ترمیم یا اضافہ کرسکتے ہیں۔ شیڈول میں اپنے لئے وقت مخصوص کریں جس میں آپ اپنی صحت، ورزش، پڑھائی اور زندگی کی مختلف دلچسپیوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔
نکہت انجم ناظم الدین (جلگاؤں، مہاراشٹر)
خود کو وقت دینا بہت ضروری


ذمہ داریوں کی ادائیگی ہر انسان کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ خود کو وقت دینا بھی اتنا ہی لازمی ہوتا ہے۔ اس لئے میرا اصول ہے کہ میں سونے سے قبل اپنی ڈائری لکھتی ہوں کہ مجھے اگلے روز کیا کیا کام کرنے ہیں۔ اور وقت کی منصوبہ بندی کرتے وقت میں اپنے کاموں کے لئے بھی کچھ وقت مقرر کرتی ہوں۔ جیسے مجھے ترغیبی ویڈیو بنانے کیلئے وقت درکار ہوتا تو گھریلو ذمہ داریاں مکمل کرنے کے بعد میں تھوڑا وقت لکھتی ہوں اور دوسرے روز کچھ وقت نکال کر ویڈیو ایڈیٹ کر لیتی ہوں۔ اسی طرح کبھی کسی رسالے کے لئے مضمون لکھ کر میل کر دیتی ہوں۔ مجھے اپنے کاموں کی ادائیگی کے لئے وقت کی منصوبہ بندی سے زیادہ کوئی بھی اصول کارگر نہیں لگتا۔ مجھے اپنے کاموں کی ادائیگی کے لئے وقت پلان کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایسا نہ کروں تو ہر کام یا تو ادھورا رہ جائے گا يا تو کچھ گڑبڑ ہو کر میں ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتی ہوں۔ ہر کام وقت پر انجام دے کر مجھے قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔ خود کو وقت دینا مَیں ضروری سمجھتی ہوں۔ آج کا کام کل پر ٹالنا مجھے ہرگز پسند نہیں۔
سیدہ نوشاد بیگم (کلوا، تھانے)
کام کاج سے کچھ وقت نکالوں گی


ایک خاتونِ خانہ کو اپنی ذمہ داریوں سے فراغت ملنا ذرا مشکل ہے، بہو سے ساس اور دادی نانی بننے تک ہمارے ناتواں کندھے اس بوجھ کے عادی ہوجاتے ہیں۔ زندگی کے اس سفر میں ہم اپنے آپ پر کتنی توجہ دے پاتے ہیں؟ ان گھریلو امور کی انجام دہی میں کہیں ہماری اپنی شناخت گمشدہ تو نہیں ہوگئی؟ ہمارے پاس سب کیلئے وقت ہے، نہیں ہے تو صرف خود کیلئے، تنہائی میں یہ سرگوشیاں بازگشت میں سنائی دیتی ہیں۔ ذرا سوچئے، لیکن اب میں خود کیلئے وقت نکالوں گی، کچھ لمحے اپنے ساتھ گزاروں گی جس میں کسی کی مداخلت نہیں ہوگی۔ اپنی پسند کے کام، اپنی ادھوری کتاب اور تعلیم کو مکمل کرنا، برسوں پرانے کب کے ترک شدہ مشاغل، سہیلیوں سے ملاقات جیسے کام انجام دوں گی۔ ان سب کے لئے روزمرہ کے معمولات، کام کاج میں سے چند لمحوں کی، چند گھنٹوں کی گنجائش نکالنے کی حتی الامکان کوشش کروں گی، ان شاء اللہ!
رضوانہ رشید انصاری (امبرناتھ تھانہ)
مستقل مزاجی ضروری ہے
بچپن بھی کتنا سہانا ہوتا ہے۔ تمام فکر و ذمہ داریوں سے آزاد جہاں ہمارے پاس وقت ہی وقت ہوتا تھا لیکن یہ حسین دور بھی ختم ہو کر ہم اپنی عملی زندگی کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں جہاں ذمہ داریاں فکریں ہماری منتظر ہوتی ہے۔ ان ذمہ داریوں کی انجام دہی کے ساتھ اپنے لئے وقت نکالنا کسی قدر مشکل ہوتا ہے لیکن ہم اگر ٹھان لیں تو پھر کوئی کام مشکل نہیں اس کیلئے ارادے کی پختگی شرط ہے۔ سب سے پہلے ہم اپنی مصروفیت کو پیش نظر رکھ کر منظم منصوبہ بندی کریں۔ اپنے کچھ اہداف طے کریں اور ان اہداف کی انجام دہی کیلئے لائحہ عمل طے کریں۔ اور پورے دن میں خود کے لئے ایک وقت مقرر کریں جو صرف آپ کا ہو۔ اور اس وقت میں اپنے لئے سوچیں، اپنی ذات کے بارے میں سوچیں یا اپنے اطراف و اکناف کا جائزہ لیں یا پھر طے کئے ہوئے اہداف کی منصوبہ بندی کریں۔ اور یہ طے کر لیں کہ روزانہ تمام امور کی انجام دہی کے بعد مجھے اپنے آپ کو وقت دینا ہے اور میں مستقل مزاجی سے اپنے آپ کو وقت دوں گی، اپنے آپ سے یہ عہد کر یں۔ ایک با مقصد اور منظم زندگی گزاریںکیونکہ اگر ہمارے پاس کوئی مقصد ہوگا تو پھر ہم خود کیلئے وقت نکال ہی لیتے ہیں ورنہ ان ذمہ داریوں کی تو کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔
سمیرہ گلنار محمدجیلانی (ناندیڑ، مہاراشٹر)
 وقت کی پابندی ضروری ہے
ہر کام اگر وقت پر مکمل کرلیا جائے تو خود کے لئے وقت نکالنا، آسان ہوجاتا ہے۔ خصوصاً خواتین کو وقت کی کمی کی شکایت ہوتی ہے امور خانہ داری، بچوں کی دیکھ بھال ساتھ ہی اگر جاب سے منسلک ہوں تو ہر ایک کام کے لئے اوقات متعین کریں۔ غیر ضروری امور سے اجتناب برتیں۔ خود کے لئے وقت نکالیں اور ان اوقات کا صحیح استعمال کریں۔ جیسے، روزانہ چہل قدمی کرنا، باقاعدگی کے ساتھ جسمانی ورزش کرنا، بالخصوص قرآن شریف کو صحیح ادائیگی کے ساتھ پڑھنے کے لئے قریبی مدارس جانا وغیرہ۔ وقتاً فوقتاً میں اپنے ساتھیوں کو بھی کہتی رہتی ہوں کہ روز مرہ کے معمولات میں سے خود کے لئے وقت نکالا کریں۔
رحمانی کاشفہ ڈاکٹر عرفان احمد (مالیگاؤں، ناسک)
اپنی قدر پہچانیں
طبقہ اناث، چاہے وہ مائیں ہوں یا بہنیں، بیویاں ہوں یا بیٹیاں ان کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کرتے کرتے ہلکان ہوتی رہتی ہیں اور اپنے آپ پر توجہ نہیں دیتی ہیں ایسے میں ان کی صحت متاثر ہوتی ہے اور پھر ذمہ داریاں بھی۔ حالانکہ ہر انسان کی ذات کا اپنے اوپر بھی حق ہوتا ہے اور اس کیلئے اسے وقت نکالنا بھی ضروری ہے۔ اپنی خاطر وقت نکالنے کیلئے ضروری ہے کہ اپنی قدر پہچانیں۔ اپنی اہمیت کو سمجھیں گی تو دیگر ذمہ داریوں سے ہٹ کر وقت نکالنا مشکل نہ ہوگا۔ یومیہ نظام الاقات اس طرح بنائیں کہ اپنی اپنی ذات نظر انداز نہ ہو۔ سونے جاگنے کے اوقات کا خیال رکھیں، صبح فجر کیلئے ضرور اٹھیں، عبادت کے ساتھ اپنے دن کا آغاز کریں، دن چڑھے تک سونا نہ صرف صحت کے لئے نقصاندہ ہے بلکہ اس سے ہمارا نظام بھی متاثر ہوتا ہے اور دیگر جھمیلوں کے چکر میں اپنے لئے وقت نکالنا بھی مشکل ہوگا۔
بنت رفیق (جوکھن پور، بریلی)
اپنے لئے وقت نکالنا ایک چیلنج ہے
یہ بالکل صحیح بات ہے کہ خاتونِ خانہ کا کبھی ریٹائرمنٹ نہیں ہوتا۔ ان کو تینوں شفٹوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ اتنی زیادہ مشغولیات سے اپنے لئے وقت نکالنا بڑا ہی مشکل کام ہے۔ پھر بھی کئی خواتین خانہ جو اپنے فن میں ماہر ہوتی ہیں اور وقت کا اچھا نظام جانتی ہیں وہ روزمرہ کا ایسا معمول بنائیں گی کہ سارے کام کرنے کے بعد خود کی نگہداشت کے لئے بھی وقت نکال پائیں گی۔ ویسے تو ہر کسی کے پاس ۲۴؍ گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ بس ٹائم مینجمنٹ جس کو آتا ہوگا وہی اپنے لئے وقت نکال پائے گی۔ خود کیلئے وقت نکالنا، اپنی کیئر کرنا، ذاتی انتظامات کرنا، بیماروں کی تیمارداری کرکے یا بیماروں کے عیادت کرکے ثواب کمانا یا دوستوں سے گفتگو کرنا، ان سے ملنے جانا، تقریب میں شامل ہونا، بزرگوں کی خدمت کرنا، بچوں کو درس دینا، دینی تعلیم حاصل کرنا، اجتماعات میں جانا یہ سب ضروری باتیں ہیں اور اس کیلئے وقت نکالنا پڑتا ہی ہے۔ پورے مہینے کی سرگرمیوں کا چارٹ بنا کر اگر رکھا جائے تو کافی وقت خود کیلئے نکالا جا سکتا ہے۔
نجمہ طلعت (جمال پور، علی گڑھ)
اپنی ذات کی اہمیت کو سمجھیں
مذکورہ سوال ایسا سوال ہے جو براہ راست ٹائم مینجمنٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ گویا جس نے وقت اور اپنے کاموں کے درمیان ایک بہترین تال میل بنالیا تو اس کے پاس اپنے لئے مخصوص وقت بچتا ہے۔ درحقیقت ہر ذمہ داری کی تکمیل ہم سے ہماری ذات چاہتی ہے۔ ہم ذہنی و جسمانی صحتمند ہوں گے تب ہی کسی چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کام کو انجام دے سکتے ہیں۔ لہٰذا ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی تکمیل تک پہنچانے کیلئے ہماری ذات کا روحانی، ذہنی و جسمانی صحتمند ہونا لازمی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی ذات کو پہلی ترجیح دیتے ہوئے کچھ وقت اپنے لئے مختص کریں۔ ہر کام کیلئے مخصوص وقت ترتیب دیں اور اسی وقت میں کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچائیں۔
خان شبنم فاروق (گوونڈی، ممبئی)

’’اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی....‘‘ اس موضوع پر ہمیں کئی تحریریں موصول ہوئی ہیں۔ جن خواتین کی تحریریں شائع نہیں ہوئی ہیں وہ پیر (۲۹؍ جنوری ۲۰۲۴ء) کا شمارہ ملاحظہ فرمائیں۔ ادارہ
اگلے ہفتے کا عنوان: ملک اور قوم کی بہتری کیلئے مَیں یہ کوشش کرنا چاہتی ہوں؟ اظہار خیال کی خواہشمند خواتین اس موضوع پر دو پیراگراف پر مشتمل اپنی تحریر مع تصویر ارسال کریں۔ وہاٹس ایپ نمبر: 8850489134

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK