صبح میں بچوں کو اسکول روانہ کرتے وقت انہیں ناشتہ کروانا ماؤں کیلئے ایک پیچیدہ معاملہ ہوتا ہے۔ صبح کے وقت بچوں کا کچھ کھانے کو جی نہیں چاہتا اور انہیں خالی پیٹ اسکول بھیجنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ اس صورت میں ماؤں کو چند عملی تدابیر اپنانی چاہئیں یہ بہت ضروری ہے تاکہ بچہ ناشتہ کرکے اسکول جائے اور آپ کا مسئلہ حل ہو۔
بچوں کو ان کی پسند کا ناشتہ بنا کر دینے سے وہ اسے شوق سے کھاتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
صبح کا وقت ہر گھر میں ایک خاص قسم کی ہلچل، بھاگ دوڑ اور ڈرامائی صورتحال لے کر آتا ہے۔ خاص طور پر جن گھروں میں اسکول جانے والے چھوٹے بچے موجود ہوں، وہاں تو ہر صبح ایک نیا معرکہ برپا ہوتا ہے۔ صبح کے اس پورشن میں اگر سب سے زیادہ دوہرایا جانے والا کوئی جملہ ہے، تو وہ ماں کی طرف سے متبادل انداز میں دی جانے والی یہ دہائی ہوتی ہے: ’’بیٹا! جلدی سے ناشتہ ختم کر لو، اسکول وین آنے والی ہے اور تمہیں دیر ہو رہی ہے!‘‘ اور دوسری طرف سے بچے کا ایک ہی روایتی اور مختصر جواب سامنے آتا ہے: ’’ماما! مجھے ابھی بالکل بھوک نہیں ہے!‘‘ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ جیسے ہی تمام تر محنت اور منت سماجت ناکام ہو جاتی ہے، بچہ بغیر کچھ کھائے بستہ اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھتا ہے اور عین اس لمحے جب اسکول کی وین باہر ہارن بجاتی ہے۔
اس روزمرہ کی پریشانی کا سامنا کرنے والی ماؤں کے لئے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ صبح کے وقت بچوں کا مزاج کیسا ہوتا ہے اور مختلف بچوں کو ناشتے میں کیا چیز زیادہ متوجہ کرتی ہے۔ ہر بچے کا ذائقہ اور پسند مختلف ہوتی ہے۔ کچھ بچے صبح کے وقت روایتی نانی دادی کے دور کا گرم گرم پراٹھا اور انڈا کھانا پسند کرتے ہیں کیونکہ اس سے ان کا پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے۔ کچھ بچوں کیلئے بھاری پراٹھا ہضم کرنا مشکل ہوتا ہے، لہٰذا وہ ہلکا پھلکا سینڈوِچ، جیسے چیز سینڈوچ یا جام بریڈ کو ترجیح دیتے ہیں۔ کچھ بچوں کیلئے صبح دودھ کے ساتھ سیریل یا دلیہ بہترین آپشن ثابت ہوتا ہے کیونکہ اسے چبانے کی زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی اور وہ جلدی سے حلق سے اتر جاتا ہے۔ وہیں کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جو صرف تازہ پھل جیسے کیلا یا سیب کھا کر جانا چاہتے ہیں، اور کچھ معصوم ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں صبح صبح کچھ بھی کھلانا کسی معرکہ طے کرنے سے کم نہیں ہوتا اور وہ بالکل خالی پیٹ جانے پر ہی اصرار کرتے ہیں۔
اگر آپ کے گھر میں بھی ہر صبح یہی ڈرامائی صورتحال پیش آتی ہے تو چند عملی اور ہوشمندانہ تدابیر اختیار کر کے اس روزانہ کی جنگ کو کافی حد تک ختم کیا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلی اور مؤثر تدبیر یہ ہوسکتی ہے کہ بچے کو رات کو جلدی سلانے کی عادت ڈالی جائے تاکہ صبح اس کی نیند مکمل ہو اور وہ بیدار ہونے کے بعد تروتازہ محسوس کرے۔ جب بچہ اسکول کے وقت سے کم از کم آدھا یا پون گھنٹہ پہلے اٹھے گا، تو اس کے جسم کو بیدار ہونے اور معدے کو کھانے کے لئے تیار ہونے کا پورا وقت مل جائے گا۔ جلدی اٹھنے سے صبح کا ہنگامہ اور تناؤ ختم ہو جاتا ہے، اور بچہ پرسکون انداز میں ناشتے کی میز پر بیٹھ سکتا ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ صبح کے وقت بچے پر پورا بھاری ناشتہ ختم کرنے کا غیر ضروری دباؤ نہ ڈالا جائے۔ اگر بچہ پورا پراٹھا یا دو بریڈ نہیں کھا سکتا تو اسے زبردستی کھلانے کے بجائے چھوٹے اور مقوی متبادل دیئے جائیں۔ مثال کے طور پر، ایک کیلا، چند بادام، ایک کھجور، یا دودھ کا ایک چھوٹا گلاس بھی صبح کے آغاز کیلئے کافی ہو سکتا ہے۔ جب آپ بچے کو یہ رعایت دیتے ہیں کہ اسے پورا پلیٹ بھر کر کھانا نہیں پڑھے گا، تو اس کی اندرونی مزاحمت ختم ہو جاتی ہے اور وہ کچھ نہ کچھ کھانے پر رضامند ہو جاتا ہے۔
تیسرا حل ناشتے کو دلچسپ اور متنوع بنانا ہے۔ اگر آپ روزانہ ایک ہی طرز کا ناشتہ بنائیں گی تو بچہ لازمی طور پر اکتا جائیگا۔ بچوں کو ناشتے کے مینو میں شامل کریں۔ رات کو ہی بچے سے پوچھ لیں کہ ’’کل صبح آپ سینڈوچ کھائیں گے یا پین کیک؟‘‘ جب بچے کو لگتا ہے کہ اس کی مرضی شامل ہے، تو وہ صبح اپنے منتخب کردہ ناشتے کو خوشی سے کھاتا ہے۔ اسکے علاوہ، ناشتے کی پریزنٹیشن کو خوبصورت بنایا جاسکتا ہے، جیسے انڈے یا روٹی کو مختلف دلچسپ شکلوں میں کاٹ کر پیش کرنا، جس سے چھوٹے بچوں کی توجہ فوری طور پر کھانے کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔
ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ ماؤں کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ صبح کے وقت اپنے صبر و تحمل کو برقرار رکھیں۔ بچے کی انکار پر چیخنے یا غصہ کرنے سے ماحول مزید خراب ہوتا ہے اور بچے کی بھوک بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ اگر کسی دن بچہ تمام تر کوششوں کے باوجود کچھ نہیں کھا رہا تو پریشان ہونے کے بجائے اس کے اسکول کا لنچ بکس تھوڑا زیادہ مقوی بنا دیں اور اس میں ایسی چیزیں رکھ دیں جو وہ اسکول پہنچ کر پہلے شارٹ بریک میں کھا سکے۔ اس طرح اس کی غذائی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی اور صبح کا تناؤ بھی ٹل جائے گا۔
صبح کا وقت دن کا اہم حصہ ہوتا ہے، اور اگر اس کی شروعات پیار، محبت اور پرسکون ماحول میں ہو تو بچے کا پورا دن اسکول میں اچھا گزرتا ہے۔ یہ جاننا کہ دوسرے گھروں میں مائیں اس مسئلے کو کیسے حل کر رہی ہیں اور ان کے بچے صبح کے وقت کیا کھانا پسند کرتے ہیں، تمام ماؤں کیلئے انتہائی فائدے مند ثابت ہوسکتا ہے۔ تجربات کے اس تبادلے سے نہ صرف ماؤں کو ناشتے کے نئے، آسان اور غذائیت سے بھرپور آئیڈیاز ملتے ہیں بلکہ انہیں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ وہ اس جدوجہد میں اکیلی نہیں ہیں۔ ہر ماں اپنی حکمت ِ عملی اور پیار سے اپنے بچے کے مزاج کو بہتر سمجھ سکتی ہے اور صبح کے اس معرکے کو ایک خوبصورت اور خوشگوار معمول میں بدل سکتی ہے۔