• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خواتین کے تحفظ کی شروعات گھر سے ہونی چاہئے

Updated: October 08, 2026, 2:14 PM IST | Ayesha Parveen | New Delhi

اگر گھر میں بچوں کو بچپن ہی سے عزت، برابری اور ذمہ داری کا سبق دیا جائے تو آنے والی نسل زیادہ بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے۔

It is essential to teach daughters to be aware of their rights and to raise their voices against mistreatment. Photo: INN
بیٹیوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ اپنے حقوق سے واقف ہوں اور غلط رویے کے خلاف آواز اٹھائیں۔ تصویر: آئی این این

عورت صرف ایک فرد نہیں بلکہ خاندان اور معاشرہ کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرنے والی ہستی ہے۔ وہ بیٹی بن کر گھر میں خوشیاں لاتی ہے، بہن بن کر رشتوں کو مضبوط کرتی ہے، بیوی بن کر زندگی کے سفر میں شریک ہوتی ہے اور ماں بن کر ایک نئی نسل کی تربیت کرتی ہے۔ اس کے باوجود اگر یہی عورت اپنے بنیادی تحفظ کے لئے جدوجہد کرنے پر مجبور ہو تو یہ صرف عورت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لئے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔

تحفظ کا مطلب کیا ہے؟

ایک عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے، ملازمت کرے، کاروبار کرے، سفر کرے، اپنی رائے کا اظہار کرے اور اپنی زندگی کے اہم فیصلے اعتماد کے ساتھ کرے۔ اگر اسے ہر قدم پر خوف، تنقید یا بدنامی کا سامنا کرنا پڑے تو اسے حقیقی آزادی اور تحفظ حاصل نہیں کہا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے:گھر کو مقابلے کا میدان نہیں بلکہ تعاون کا مرکز بنائیں

عورت کے تحفظ کی بنیاد گھر سے پڑتی ہے

معاشرہ میں عورت کے تحفظ کی پہلی درسگاہ گھر ہے۔ اگر گھر میں بچوں کو بچپن ہی سے عزت، برابری اور ذمہ داری کا سبق دیا جائے تو آنے والی نسل زیادہ بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتی ہے۔ بیٹیوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ اپنے حقوق سے واقف ہوں، غلط رویے کے خلاف آواز اٹھائیں اور کسی مشکل صورتحال میں خاموش نہ رہیں۔ لیکن اس کے ساتھ بیٹوں کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ کسی عورت کو تنگ کرنا، اس کا مذاق اڑانا، اس کی مرضی کے خلاف اس پر دباؤ ڈالنا یا اسے خوف زدہ کرنا اخلاقی کمزوری ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر لڑکیوں کو ہی احتیاط کرنے کی نصیحت کی جاتی ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ کہاں جانا ہے، کیسے لباس پہننا ہے، کس وقت گھر واپس آنا ہے اور کس سے بات کرنی ہے۔ احتیاط یقیناً ضروری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ غلط رویے کی روک تھام کی ذمہ داری صرف عورت پر کیوں ڈالی جائے؟ معاشرہ کو مردوں کی تربیت پر بھی اتنی ہی توجہ دینی ہوگی۔

تعلیم: تحفظ کا سب سے مضبوط ذریعہ

تعلیم عورت کو صرف کتابی علم نہیں دیتی بلکہ اسے اپنے حقوق، فرائض اور صلاحیتوں کا شعور بھی فراہم کرتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور عورت اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو پہچاننے اور اس کے خلاف مناسب قدم اٹھانے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں طالبات کو بنیادی قانونی حقوق، سائبر سیکوریٹی، ہراسانی سے متعلق آگاہی اور مشکل حالات سے نمٹنے کے طریقوں کے بارے میں تعلیم دی جانی چاہئے۔ اسی طرح طلبہ کو احترام، اخلاق، مساوات اور انسانی وقار کی اہمیت سمجھانا بھی ضروری ہے۔

سڑک اور عوامی مقامات پر تحفظ

خواتین کی ایک بڑی تعداد تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں روزانہ سفر کرتی ہے۔ بس، ٹرین، میٹرو، رکشا، بازار اور سڑکیں سب کے لئے ہیں، اس لئے وہاں خواتین کو خوف کے بغیر آنے جانے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ عوامی مقامات پر مناسب روشنی، نگرانی، مؤثر شکایتی نظام اور فوری کارروائی کے انتظامات ضروری ہیں۔ لیکن انتظامات سے بڑھ کر معاشرتی رویہ اہم ہے۔ اگر کسی عورت کو عوامی مقام پر ہراساں کیا جا رہا ہو اور لوگ صرف تماشائی بن کر کھڑے رہیں تو یہ خاموشی بھی ایک طرح کی معاشرتی ناکامی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آپ کا ذوقِ انتخاب ہی گھر کو خوبصورت بناتا ہے

کام کی جگہ پر عورت کا احترام

آج خواتین ڈاکٹر، استاد، انجینئر، وکیل، صحافی، افسر، کاروباری اور مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی محنت اور صلاحیتوں نے ثابت کیا ہے کہ مواقع ملنے پر خواتین کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں رہتیں۔ لیکن کام کی جگہ پر انہیں ہراسانی، صنفی امتیاز اور غیر مناسب رویوں سے محفوظ رکھنا اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ہر ادارے میں ایسا ماحول ہونا چاہئے جہاں خاتون بلا خوف اپنی شکایت بیان کرسکے۔

گھریلو تشدد: ایک چھپا ہوا المیہ

خواتین کے تحفظ کی بات کرتے ہوئے گھریلو تشدد کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بعض اوقات عورت اپنے ہی گھر کی چار دیواری میں تشدد، توہین اور ذہنی اذیت کا سامنا کرتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ گھر کو جنت بنانے کیلئے محبت کافی نہیں، احترام بھی ضروری ہے۔ شوہر اور بیوی کا رشتہ اعتماد، مساوات اور باہمی احترام پر قائم ہونا چاہئے۔

ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں بیٹی کو پیدا ہونے پر بوجھ نہ سمجھا جائے، اسے تعلیم حاصل کرنے کیلئے خوف نہ ہو، اسے ملازمت کرنے پر طعنے نہ دیئے جائیں، اسے سفر کرتے ہوئے خوف محسوس نہ ہو اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر اسے ہی قصوروار نہ ٹھہرایا جائے۔ عورت کو تحفظ دینا دراصل اسے کوئی اضافی حق دینا نہیں، بلکہ اس کے بنیادی انسانی حق کو تسلیم کرنا ہے۔ جس معاشرہ میں عورت محفوظ نہیں، وہاں ترقی کے بلند و بانگ دعوے ادھورے ہیں کیونکہ کسی قوم کی اصل ترقی اس کی بلند عمارتوں، سڑکوں اور دولت سے نہیں بلکہ اس بات سے پہچانی جاتی ہے کہ وہاں اس کی عورت کتنی محفوظ، باعزت اور بااختیار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK