Inquilab Logo Happiest Places to Work

گھر کو مقابلے کا میدان نہیں بلکہ تعاون کا مرکز بنائیں

Updated: August 31, 2026, 1:33 PM IST | Sabiha Qadri | Aurangabad

گھر میں کھانا پکانا، بچوں کی پرورش کرنا، گھر کو منظم رکھنا اور خاندان کو سکون فراہم کرنا کوئی معمولی کام نہیں۔ یہ وہ ذمہ داریاں ہیں جن پر معاشرے کی بنیاد کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ایک عورت یہ ذمہ داری محبت، سلیقے اور احساس کے ساتھ نبھا رہی ہے تو اسے احساسِ کمتری نہیں بلکہ احساسِ ذمہ داری اور وقار ہونا چاہئے۔

A successful marriage is not driven by love, emotions, or slogans of equality alone, but by excellent management. Picture: INN
کامیاب ازدواجی زندگی صرف محبت، جذبات یا مساوات کے نعروں سے نہیں چلتی، بلکہ بہترین مینجمنٹ سے چلتی ہے۔ تصویر: آئی این این

آج کل سوشل میڈیا پر ایک جملہ بہت مقبول ہے: "Cooking is a life skill, not a gender role. If you eat, learn to cook."اس جملے سے مجھے اختلاف نہیں۔ یقیناً کھانا پکانا ایک ایسی بنیادی مہارت ہے جو ہر انسان کو آنی چاہئے۔ مرد ہو یا عورت، زندگی میں کبھی بھی ایسے حالات آسکتے ہیں جب انسان کو اپنے لئے خود کھانا بنانا پڑے۔ خود انحصاری ایک خوبی ہے، کمزوری نہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج کل اس ایک جملے کو بنیاد بنا کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ مرد اور عورت ہر اعتبار سے ایک جیسے ہیں، لہٰذا ان کے درمیان کسی بھی قسم کی ذمہ داریوں کی تقسیم یا کردار کا تعین ناانصافی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک درست بات، غلط نتیجے تک پہنچا دی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کامیاب ازدواجی زندگی صرف محبت، جذبات یا مساوات کے نعروں سے نہیں چلتی، بلکہ بہترین مینجمنٹ سے چلتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چیزوں کو ترتیب سے رکھنے کے یہ پانچ طریقے مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں

جس طرح دُنیا کا کوئی بھی کامیاب ادارہ واضح ذمہ داریوں کے بغیر نہیں چل سکتا، اسی طرح گھر بھی ایک مکمل ادارہ ہے۔ وہاں بھی منصوبہ بندی، نظم و ضبط، ذمہ داریوں کی تقسیم اور باہمی تعاون ناگزیر ہیں۔ اگر ہر فرد صرف اپنے حقوق کی بات کرے اور ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرے تو گھر سکون کا گہوارہ نہیں بلکہ مسلسل کشمکش کا مرکز بن جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ لڑکیوں کو بھی گھر سے باہر کے تمام ضروری کام آنے چاہئیں۔ مالی معاملات، بینک، اسپتال، سرکاری دفاتر، گاڑی چلانا، ہنگامی حالات سے نمٹنا، روزگار کمانا.... یہ سب سیکھنا چاہئے۔ اسی طرح لڑکوں کو بھی کھانا پکانا، صفائی کرنا، کپڑے دھونا، بچوں کی دیکھ بھال اور گھر کے بنیادی کام ضرور آنے چاہئیں تاکہ وہ کسی بھی مشکل وقت میں خود مختار رہیں اور اپنی شریک ِ حیات کا سہارا بن سکیں۔ لیکن ایک حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ ہر کام آنا اور ہر کام کی مستقل ذمہ داری لینا، دونوں الگ چیزیں ہیں۔

شادی کے بعد زندگی ’’مَیں کیوں کروں؟‘‘ کے اصول پر نہیں بلکہ ’’ہم کیسے چلائیں؟‘‘ کے اصول پر چلتی ہے۔ اگر شوہر مکمل طور پر گھر کی مالی کفالت کر رہا ہے تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ بیوی گھر کے انتظام کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھے۔ اگر بیوی زیادہ کماتی ہے، یا حالات اس کے برعکس ہوں، تو ذمہ داریوں کی تقسیم بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔ اصل اصول یہ نہیں کہ کون مرد ہے اور کون عورت، بلکہ یہ ہے کہ کون سا نظام دونوں کے لئے زیادہ منصفانہ اور مؤثر ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ کھانا دونوں میں سے کوئی خود ہی پکائے۔ اگر مالی استطاعت ہو تو باورچی یا گھریلو معاون رکھا جا سکتا ہے، لیکن تب بھی خریداری، منصوبہ بندی، صفائی، بچوں کی ضروریات، مہمان داری، وقت کی تقسیم اور پورے نظام کی نگرانی کسی نہ کسی کو کرنی ہی پڑتی ہے۔ مینجمنٹ کی ذمہ داری کبھی ختم نہیں ہوتی۔ آج کل ایک اور رجحان یہ پیدا ہوگیا ہے کہ قدرت کے ہر فرق کو سماجی تعصب قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ فطرت کی اپنی حقیقتیں بھی ہیں۔

یہ بھی پٖڑھئے: پارلر جیسا پیڈی کیور گھر پر: بارہ آسان اسٹیپس

مرد اور عورت کی عزت، انسانیت اور قدر برابر ہے، مگر ان کی جسمانی ساخت، حیاتیاتی ذمہ داریاں اور بہت سے عمومی رجحانات ایک جیسے نہیں۔ عورت میں قدرت نے سلیقہ، باریک بینی، تخلیقی صلاحیت اور جذباتی نگہداشت کی ایسی خوبیاں زیادہ رکھی ہیں جو گھر کو گھر بناتی ہیں۔ ایک ماں جس محبت، صبر اور نفسیاتی سمجھ کے ساتھ بچے کی غذا، صحت، عادات، تربیت اور جذباتی نشوونما کا خیال رکھتی ہے، اس کی مثال منفرد ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ باپ غیر اہم ہے، بلکہ یہ کہ دونوں کے کردار مختلف ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

گھر میں کھانا پکانا، بچوں کی پرورش کرنا، گھر کو منظم رکھنا اور خاندان کو سکون فراہم کرنا کوئی معمولی کام نہیں۔ یہ وہ ذمہ داریاں ہیں جن پر معاشرے کی بنیاد کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ایک عورت یہ ذمہ داری محبت، سلیقے اور احساس کے ساتھ نبھا رہی ہے تو اسے احساسِ کمتری نہیں بلکہ احساسِ ذمہ داری اور وقار ہونا چاہئے۔ اسی طرح اگر ایک مرد محبت سے بچوں کو سنبھالتا ہے یا کھانا بناتا ہے تو یہ بھی اس کی عظمت ہے، کمزوری نہیں۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کھانا کون پکاتا ہے؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ذمہ داری کون نبھاتا ہے؟

کامیاب شادی اس بات کا نام نہیں کہ دونوں ہر کام پچاس پچاس فیصد کریں، بلکہ اس کا نام یہ ہے کہ دونوں اپنی صلاحیت، حالات، وقت اور وسائل کے مطابق ذمہ داریاں بانٹیں، ایک دوسرے کی عزت کریں، ایک دوسرے کا بوجھ ہلکا کریں اور گھر کو مقابلے کا میدان نہیں بلکہ تعاون کا مرکز بنائیں۔

اس لئے میں پھر یہی کہوں گی کہ:

"Cooking is a life skill."

بالکل درست۔

مگر حقیقت یہی ہے کہ:

وہی گھر سب سے زیادہ خوشحال ہوتے ہیں جہاں مرد اور عورت ایک دوسرے کو حریف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا بہترین ساتھی سمجھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK