ٹیسلا،نئے فیچر اور جدید تکنیک سےکارصنعت میں انقلاب برپا کررہی ہے

Updated: September 12, 2020, 3:30 AM IST | M A Ahmed | New Delhi

اس کمپنی نے حال ہی میں کئی جدید فیچر اپنی کاروں میں  متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، یہ نئی تبدیلیاں  آٹو موبائل انڈسٹری میں مقابلہ آرائی کو بڑھائے گی۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

آٹو موبائل انڈسٹری بھی وقت کے ساتھ نئی کروٹ لے رہی ہے۔ کاریں  بنانے والی کمپنیوں  کے درمیان اختراع اور جدت سے بھرپور گاڑیاں  بنانے کے معاملے میں زبردست مقابلہ آرائی جاری ہے ۔ اسی کا اثر ہے کہ اب روایتی ایندھن سے زیادہ کمپنیاں  ایسی کاریں   بنانے پر توجہ مرکوز کررہی ہیں  جو ماحول دوست توانائی سے چلیں  ۔ یعنی برقی توانائی اور شمسی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں  کے پروجیکٹ فروغ پارہے ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ خودکار نظام کے ساتھ جدید فیچر دستیاب کرانے پر زور دیا جارہا ہے۔ اتنا ہی نہیں  کچھ کمپنیوں  نے اڑن کار کے منصوبوں  پر بھی پیش رفت کردی ہے۔ تاہم برقی توانائی پر چلنے والی کاروں کو اسٹائل، طاقت اور جدت سے لیس کرنے کے معاملے میں  دنیا بھر کی کمپنیوں  کو ٹیسلا موٹرس نے پچھاڑ دیا ہے۔ ۲۰۰۳ء  میں آٹو موبائل انڈسٹری میں قدم رکھنے والی یہ کمپنی اب تک کئی جدید الیکٹرک کاریں متعارف کراچکی ہے۔ جو فی الوقت امریکہ اور یورپ کی سڑکوں  پر دوڑ رہی ہیں ۔ اپنی کاروں کو جدید تکنیک سے لیس کرنے اور نت نئے فیچرس سے آراستہ کرنے کیلئے ٹیسلا مسلسل کوشاں  ہیں ۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں  ان خاص فیچرس پر جن کے ذریعہ ٹیسلا نے آٹوموبائل انڈسٹری میں انقلاب برپا کردیا ہے ۔ دھیان رہے کہ ایک ماہ قبل ہی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نےیہ اعلان بھی کیا تھا کہ رواں سال کے آخر تک کمپنی مکمل طور پر خود کار گاڑیاں  پیش کردے گی ۔ 
سڑکوں  کے اشارے پڑھنے کی تکنیک
 ٹیسلا نے حال ہی میں سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کا اعلان کیا ہے جو اس کی الیکٹرک کاروں کو رفتار کی حد پڑھنے اور سمجھنے کی اجازت دے گا۔ساتھ ہی اس میں  ٹریفک سگنلز کی لائٹس کا پتہ لگانے کی صلاحیت ہو گئی ہے۔ ٹیسلا گاڑیوں کا آٹو پائلٹ سسٹم سپیڈ لمٹ وارننگ کو ڈیش بورڈ ڈسپلے پر دکھائے گا جبکہ ٹریفک سنگل کے حوالے سے نوٹی فکیشن بھی جاری کرے گا۔ مزید تفصیلات کے مطابق ٹیسلا کے ۲۰۲۰ء۳۶؍ سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے نوٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کار میں نصب بیرونی کیمرے سڑک کے اطراف میں موجود ٹریفک تختیوں کوا سکین کر کے کار کے آٹو پائلٹ سسٹم کو بہتر کرنے کیلئے استعمال کریں گے۔اسپیڈ اسسٹ کار کے کیمروں کو مدد دے گا کہ وہ حد رفتار کو پڑھ سکیں تاکہ مقامی سڑکوں پر ان کی رفتار کی درست تفصیل حاصل کی جا سکے۔ 
 مزید یہ کہ کمپنی کے اس سافٹ ویئر کے ذریعہ ٹیسلا کار کا ٹریفک لائٹ ڈیٹکشن سسٹم صرف نوٹیفکیشن کے طور پر کام کرے گا اور ڈرائیور ہی سڑک کے قوانین پر عمل کرنے کے حتمی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔ یہ فیچر ڈرائیور کو ایک چھنک دار آواز کے ساتھ الرٹ کرے گا جب وہ ٹریفک لائٹ سبز ہو جائے گی جس کا وہ انتظار کر رہے تھے۔ یہ تمام نئے اپ ڈیٹس ٹیسلا کی نیویگیٹ سسٹم میں آٹو پائلٹ سسٹم میں شامل ہوں گے جو کہ تقریباً مکمل خود کار صلاحیتیں فراہم کرتا ہے۔ 
ٹیسلا کار خود ہی موڑلےسکتی ہے
 ٹیسلا کےنیوٹرل نیٹ ورک کمپیوٹر ’ڈوجو‘ کے متعلق ٹیسلا کے سی ای او نے کئی ٹویٹس میں یہ بتایا ہے کہ اس سسٹم سے لیس گاڑیاں ایک خود کار نظام کے تحت سڑک کے گڑھوں اور گلی کے موڑ پر آہستہ بھی ہو جائیں گی جب ایسا کرنا محفوظ ہو گا۔ مسک نے دعویٰ کیا کہ مستقبل میں ٹیسلا کی گاڑیاں اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے راؤنڈ اباؤٹس پر خود ڈرائیو کر سکیں گی۔یہ گاڑیاں خود کار طریقے سے ڈرائیو کرنے کے قابل ہوں گی باوجود اسکے کہ راؤنڈ اباؤٹس کے گرد یہ مکمل طور پر درست نہیں کر سکیں گی لیکن ایک سال یا اس سے زیادہ وقت درکار ہو گاکہ ٹیسلا کی گاڑیاں دنیا بھر میں راؤنڈ اباوٹس پر درست انداز سے خود ڈرائیو کر سکیں گی۔
ٹیسلا کا اپنی کار میں وائپرز کا کام لیزر تکنیک کے ذریعہ لئے جانے کا عزم
  ٹیسلا نے گاڑی کی ونڈ اسکرین صاف کرنے کیلئے روایتی وائپرز کی جگہ ہائی ٹیکنالوجی سے لیس لیزر وائپرز کے پیٹنٹ کیلئے درخواست دی ہے۔ یہ جدید ترین وائپرز گاڑی کے سامنے والے شیشے پر دھول مٹی صاف کرنے کیلئے لیزر شعاع استعمال کرتے ہیں ۔ ٹیسلا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ صفائی کا یہ جدید طریقہ سولر پینلز اور چھت پر لگے ان پینلز کو صاف کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکے گا۔ پیٹنٹ کی درخواست امریکی پیٹنٹ اینڈ ٹریڈ مارک آفس کو دی گئی ہے۔ نئی ایجاد کے مقابلے میں روایتی ونڈ سکرین وائپرز میں خامیاں ہیں جو ونڈاسکرین کے تمام حصوں کو صاف نہیں کر پاتے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK