حماس کے لیڈر سمیت۱۲؍ فلسطینی شہید، ۱۸؍ زخمی، زخمیوں اور شہداء کو اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسرائیلی حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
غزہ پٹی میں قابض اسرائیل کی فضائی بمباری میں حماس کے لیڈر سمیت۱۲؍ فلسطینی شہید اور۱۸؍ زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اب تک اس واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
حماس نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا ہے بلکہ اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ غزہ کے عوام کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی جا سکے۔جمعرات کی شام اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کئے۔ النصیرات کیمپ میں ایک رہائشی گھر اور غزہ شہر میں ایک پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ طبی ذرائع کے مطابق النصیرات کیمپ میں الخطيب خاندان کے گھر پر بمباری کے نتیجے میں ۳؍شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے جن میں اشرف الخطيب اور ان کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔ زخمیوں اور شہداء کو فوری طور پر العودہ اور شہداء الاقصیٰ اسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسری فضائی بمباری میں غزہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع نابلسي چوک پر پولیس کی چوکی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ۳؍ فلسطینی شہید ہوئے۔ دیر البلح شہر کے مغرب میں الجرو خاندان کے گھر کے صحن پر بمباری کے نتیجے میں بھی۲؍ فلسطینی شہید ہوگئے۔ غزہ کے اسپتالوں اور طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ حملوں کے نتیجے میں طبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور انسانی بحران میں اضافہ ہوا ہے۔
غزہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ جب تک عملی طور پر حملے بند نہیں ہوتے اور امدادی سامان بلا روک ٹوک فراہم نہیں کیا جاتا، جنگ بندی کے کسی بھی اعلان پر بھروسہ کرنا مشکل ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک مجموعی طور پر ۷۱؍ہزار ۴۵۵؍فلسطینی شہید اور ایک لاکھ۷۱؍ ہزار ۳۴۷؍زخمی ہو چکے ہیں۔ اسی دوران اسرائیل میں ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو ہونے والے حملوں میں ایک ہزار ۱۳۹؍ افراد ہلاک اور تقریباً۲۰۰؍ یرغمال بنائے گئے تھے۔ اسرائیل نے غزہ کے نصف سے زیادہ علاقے میں عمارتیں مسمار کر کے شہریوں کو بے گھر کر دیا ہے جہاں اب تقریباً۲۰؍ لاکھ افراد عارضی پناہ گاہوں یا تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔