میاں بیوی کے رشتوں کی بنیاد ’اعتماد‘ ہوتا ہے

Updated: June 25, 2020, 12:07 PM IST | Vijay Laxmi

رشتوں میں ایمانداری اور وفاداری بے حد ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اپنے شریک حیات پر بھروسہ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے ورنہ رشتہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب آپ کو شریک حیات پر شبہ ہوتا ہے تو ضرور اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے لیکن سامنے والے کا موقف بھی سمجھنے کی ضرورت ہے

Husband and Wife - Pic : INN
میاں بیوی ۔ تصویر : آئی این این

کسی بھی رشتے کی مضبوطی اور بنیاد پیار کے ساتھ ساتھ بھروسہ پر ٹکی ہوتی ہے۔ رشتوں میں ایماندار اور وفاداری بے حد ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اپنے شریک حیات پر بھروسہ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے ورنہ رشتہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔
 یہ سچ ہے کہ جب آپ کو شریک حیات پر شک ہوتا ہے تو ضرور اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہوگی لیکن دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کے آپ کو اپنے شریک حیات کو سپورٹ کرنا چاہئے اور اگر آپ بات بات پر شک کریں گے تو شریک حیات چڑچڑے پن کا شکار ہو جائے گا اور وہ آپ کی باتوں کو سنجیدگی سے لینا بھی چھوڑ دے گا۔ اگر آپ شک کرنے کی عادت میں مبتلا ہیں تو یہاں چند طریقوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن پر عمل کرکے آپ اس ابھر سکتے ہیں:
زیادہ سوچنے سے گریز کریں
 کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ بات بہت چھوٹی ہوتی ہے، لیکن آپ اسے زیادہ ہی توجہ دینے لگتے ہیں۔ یہاں سے شروعات ہوتی ہے ’اوور تھینکنگ‘ کی۔ آپ ایک ہی بات سے متعلق، ایک ہی موضوع پر بہت زیادہ سوچنے لگتے ہیں، جس سے جو چیز واقعی میں نہیں ہوتی، وہ بھی نظر آنے لگتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ زیادہ سوچنے سے گریز کریں، ورنہ آپ بہت زیادہ بوجھل پن محسوس کریں گے۔
اندازہ لگانا بند کریں
 زیادہ سوچنے ہی سے دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ آپ ہر بات کو جوڑنے لگتے ہیں اور خود ہی اندازہ لگانا لگتے ہیں کہ ایسا ہوا ہوگا، ویسا ہوا ہوگا، جس سے آپ کا شک پختہ ہوتا جاتا ہے۔
جاسوسی کرنا بند کریں
 ہر بات پر شریک حیات کی جاسوسی کرنا بند کر دیں۔ ان کا موبائل فون، ای میلز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس وغیرہ چیک نہ کرتے رہیں کیونکہ ہر کسی کی ذاتی زندگی ہوتی ہے، آپ داخل اندازی کرکے صرف اپنے ذہن میں منفی سوچوں کا ڈھیر لگا دیں گے۔ بہتر ہوگا کہ مثبت سوچیں۔
دوسروں کی باتوں میں نہ آئیں
 کسی اور کی باتوں کو بنیاد بنا کر شریک حیات پر شک نہ کریں۔ اگر آپ نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا ہو تو بات الگ ہے لیکن کوئی تیسرا یا باہر کا شخص آکر آپ کو کچھ کہتا ہے تو اس کی باتوں کو اتنی اہمیت نہ دیں کہ اپنے شریک حیات پر بھروسہ کھو دیں۔ سچائی کا پتہ لگائیں، جس کے لئے صبر و تحمل کا طریقہ کارگر ہے۔
بات چیت کریں
 اگر آپ کے شریک حیات کی کسی بھی بات یا رویہ سے متعلق شبہ ہے تو بہتر ہوگا انہیں بتائیں، وہی آپ کے شک کو دور کرسکتے ہیں، دوسرا کوئی نہیں۔ خود سے کہانیاں بنانا بند کریں اور اپنے شریک حیات سے بات چیت کریں کہ کون سی بات آپ کو پریشان کر رہی ہے۔
صبر رکھیں
 غصے یا جذبات میں آکر جلدبازی میں کسی نتیجے پر نہ پہنچیں اور نہ ہی کوئی فیصلہ کریں۔ ذہن میں الٹی سیدھی باتیں آنے نہ دیں۔ ایسے میں صبر و تحمل ہی آپ کے کام آئے گا۔
منفی ذہنیت کے حامل لوگوں سے دوری
 کچھ لوگوں کی عادت ہی ہوتی ہے کہ وہ بہت زیادہ منفی سوچ رکھتے ہیں اور ہر معاملے میں منفی پہلو نکال لیتے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ ایسے لوگوں سے دور رہیں کیونکہ یہ لوگ آپ کے ذہن میں شک اور گہرا کریں گے۔ اگر آپ انہیں اپنا مسئلہ بتائیں گے تو یہ اسے سلجھانے کے بجائے اور الجھا دیں گے۔ وہ ہر بات کو اپنے نظریے ہی سے سمجھائیں گے۔
اپنا خوف شریک حیات کو بتائیں
 دوسرے لوگوں کے بجائے اپنے شریک حیات کو کھل کر اپنے شبہ اور ڈر کے بارے میں بتائیں۔ اس سے آپ کو ان کی سوچ اور ردّعمل کے بارے میں بھی پتہ چل جائے گا۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی غلط فہمی ہے تو وہ اسے دور کریں گے۔ اگر آپ کا شک صحیح ہے تو شریک حیات کی باتوں اور باڈی لینگویج سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔
وقت گزاریں
 شریک حیات کو زیادہ وقت دیں۔ ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ اس سے آپ کو یہ محسوس ہوگا کہ جو کچھ بھی آپ کے ذہن میں چل رہا ہے وہ صرف وہم ہے۔ سب کچھ پہلے جیسا اور ٹھیک ٹھاک ہی ہے۔
شریک حیات کی تعریف کریں
 آپ کے لئے اگر شریک حیات کچھ الگ اور خاص کرتا ہے، آپ کو اچھا اور بہتر محسوس کرانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی کوشش کی تعریف کریں۔ اس سے انہیں بھی محسوس ہوگا کہ آپ ان کی جانب توجہ دے رہے ہیں اور آپ کے دل میں ان کے لئے محبت و احترام ہے۔
شریک حیات کا نظریہ سمجھیں
 صورتحال کے دوسرے پہلو کو دیکھیں کہ ہو سکتا ہے شریک حیات میٹنگ میں ہو یا دیگر وجوہات سے وہ آپ کا فون نہیں اٹھا رہے ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK