پڑوسی روزمرہ کی برتنے والی چیز مانگے تو بلا کسی حیلے بہانے کے اگر موجود ہو تو دیدے جیسے ماچس/ لائٹر، پانی، نمک، ڈوئی، چمچہ، ہانڈی، طشتری، رکابی، کٹورا وغیرہ چیزوں کی بعض مرتبہ ضرورت پیش آجایا کرتی ہے۔
EPAPER
Updated: June 04, 2026, 6:37 PM IST | Ansari Ayesha Abshar Ahmad | Mumbai
پڑوسی روزمرہ کی برتنے والی چیز مانگے تو بلا کسی حیلے بہانے کے اگر موجود ہو تو دیدے جیسے ماچس/ لائٹر، پانی، نمک، ڈوئی، چمچہ، ہانڈی، طشتری، رکابی، کٹورا وغیرہ چیزوں کی بعض مرتبہ ضرورت پیش آجایا کرتی ہے۔
ایک ہی محلے یا سوسائٹی میں رہنے والے اگر ایک دوسرے سے میل جول نہ رکھیں، دکھ درد میں شریک نہ ہوں تو بہت سی مشقتیں پریشانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اسلئے اسلام نے جہاں ماں، باپ اور عزیز و اقارب کے ساتھ حسن سلوک، ہمدردی و اخوت، پیار و محبت، امن و سلامتی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کی تعلیم دی ہے وہیں مسلمانوں کے قرب و جوار میں بسنے والے دیگر اسلامی بھائیوں کو بھی محروم نہیں رکھا بلکہ ان کی جان و مال اور اہل و عیال کی حفاظت کا ایسا درس دیا کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو بہت سے معاشرتی مسائل حل ہوسکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے جہاں ہر ایک دوسرے کے جان و مال، عزت و آبرو اور اہل و عیال کا محافظ ہوگا۔ اسی طرح سے پڑوسی اگر غیر مسلم ہے تو بھی اسکے حقوق متعین ہیں۔ ان کے حقوق کو ادا کرنے کا تاکیدی حکم ہے خواہ وہ پڑوسی رشتہ دار ہو یا اجنبی، مسلم یا غیر مسلم۔
یہ بھی پڑھئے: بالوں میں مہندی لگانے سے وہ صحتمند، چمکدار اور گھنے ہوتے ہیں
پڑوسی کے حقوق بیان فرماتے ہوئے نبی کریمؐ نے فرمایا کہ اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو، اگر فوت ہوجائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو، اگر قرض مانگے تو اس کو قرض دو اور اگر وہ عیب دار ہوجائے تو اس کی پردہ پوشی کرو۔ اگر وہ تم سے مدد طلب کرے تو اس کی مدد کرو اور اگر وہ محتاج ہو تو اسے عطا کرو۔ یہ بھی درست ہے کہ پڑوسی کا حق وہ لوگ ہی ادا کرتے ہیں جن پر اللہ عز و جل کا رحم و کرم کرتا ہے۔ اسی طرح سے اگر وہ تنگدست ہوجائے تو اسے تسلی دو اور اگر اسے خوشی حاصل ہو تو مبارکباد دو۔ تحفے کا لین دین کریں چاہیں معمولی ہو، یہ دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے اونچی عمارت بنا کر اس سے ہوا نہ روکو، سالن کی خوشبو سے اسے تکلیف نہ پہنچاؤ، ہاں یہ اسے بھی تھوڑا دے دو۔ اگر پھل خرید کر لاؤ تو اسے بھی اس میں سے کچھ تحفہ بھیجو اور اگر ایسا نہ کرسکو تو اسے چھپا کر اپنے گھر لاؤ اور پڑوسی کے بچوں کو تکلیف دینے کیلئے تمہارے بچے پھل لے کر باہر نہ نکلیں۔
سبحان اللہ ہمارا دین کتنا پیارا ہے جس نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ جو اللہ اور روز آخرت پر یقین رکھے اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن ِ سلوک کرے۔ پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا ایک بہترین اخلاقی اور مذہبی فریضہ ہے۔ اسلامی تعلیمات اور بزرگانِ دین کی تاریخ میں پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک، ہمدردی اور ایذا رسانی سے بچنے کے انمول واقعات ملتے ہیں۔
پڑوسی کے بچوں کی بھوک اور فاقے سے انجان رہنا اور اس کی بیوی اور بیٹی کی حرکتوں سے واقف رہنا ہمارے معاشرے کا بہترین مشغلہ ہے لیکن ایسا نہیں ہونا چاہئے بلکہ چاہئے کہ ان کو ہر قسم کے جسمانی یا مالی نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔ ان کی مدد کی جائے۔ ان کی عزت و آبرو کا خیال رکھا جائے اور پڑوسی کی غیر موجودگی میں ان کے گھر کی دیکھ بھال کی جائے۔ اپنے پڑوسی سے خندہ پیشانی سے ملیں، سلام میں پہل کریں۔ ان سے ہمدردی، صلہ رحمی کا جذبہ رکھیں۔ ہمیشہ ان کی خیرخواہی چاہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اچھے تعلقات قائم رکھنا ہمسائیگی کا حق ادا کرنے کا اہم ذریعہ
پڑوسی کی کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو اور پڑوسی روزمرہ کی برتنے والی چیز مانگے تو بلا کسی حیلے بہانے کے اگر موجود ہو تو دیدے جیسے ماچس/ لائٹر، پانی، نمک، ڈوئی، چمچہ، ہانڈی، طشتری، رکابی، کٹورا وغیرہ چیزوں کی بعض مرتبہ ضرورت پیش آجایا کرتی ہے اور نہ دینے کی صورت میں دوسروں کو بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔ قرآن میں ان کو ’ماعون‘ لفظ سے یاد کیا گیا ہے جس کی نہ دینے والوں کی بڑی مذمت بیان کی گئی ہے۔
پڑوسی اگر بُرا ہو، بدسلوکی کرے، شر سے پیش آئے تو بھی اسلام بُرے کے ساتھ بُرا بننے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ صبر اور حسن تدبیر کے ساتھ اس بُرے پڑوسی کے ساتھ حسن ِ سلوک کی ترغیب دیتا ہے اور صبر کرنے والے کو رضائے الٰہی کی نوید بھی سناتا ہے۔ معاشرے کو پُرسکون اور امن و سلامتی کا گہوارہ بنانے کیلئے پڑوسیوں کے متعلق اسلام کے احکامات پر عمل کیا جائے تو ہر ایک اپنی عزت و آبرو اور جان و مال کو محفوظ سمجھنے لگے گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو پڑوسی کے حق کو ادا کرنے کی توفیق فرمائے اور ہماری کوتاہیوں اور نفرتوں کو معاف فرمائے (آمین)۔