نویں تا بارہویں کا دورانیہ مستقبل کی بنیاد بنانے والے ایام ہوتے ہیں۔ آپ جس بھی اسٹریم سے ہوں، پڑھائی کے تئیں سنجیدہ رہیں اور آئندہ کے انٹرنس امتحان کے مراحل کیلئے خود کو تیار کریں
EPAPER
Updated: August 24, 2023, 1:18 PM IST | Aamir Ansari | Mumbai
نویں تا بارہویں کا دورانیہ مستقبل کی بنیاد بنانے والے ایام ہوتے ہیں۔ آپ جس بھی اسٹریم سے ہوں، پڑھائی کے تئیں سنجیدہ رہیں اور آئندہ کے انٹرنس امتحان کے مراحل کیلئے خود کو تیار کریں
گیارہویں جماعت کے بیشتر طلباء و طالبات کے خیال میں کالج کا پہلا سال ، یعنی آرام کرنے ، نئے ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کا سال ہے۔ لہٰذا امسال پڑھائی ، تعلیم ، لیکچرس پریکٹیکل کے علاوہ سب کچھ ہوگا۔ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس کی ایک خاص وجہ ہے۔ اس کے پیچھے ان کی منطق یہ ہوتی ہے کہ نہم کے امتحانات کے بعد سے ہی دسویں کی پڑھائی شروع ہو گئی ، سال بھر کافی محنت ہوئی۔ (نتیجہ جو بھی آیا) روزانہ پابندی سے اسکول پھر ایکسٹرا کلاسیز ، اسکے بعد ٹیوشن ، ہوم ورک ، پھر جرنلس ، بکس مکمل کرنا ، دیوالی اور گرمیوں کی چھٹیوں میں ایکسٹرا کلاسیز ، ڈھیر سارے ٹیسٹ ، ایکسٹرا کوچنگ ، پیپرس کو حل کرنا اور پھر ان سب کے بعد بورڈ کا اصل امتحان ، بڑا امتحان ۔ آخر اتنی محنت کے بعد آرام کا حق تو بنتا ہی ہے۔ حالانکہ غور کریں تو معلوم یہ ہوگا کہ دسویں کے امتحانات کے بعد طلبہ کو آرام نہیں ’مہا آرام‘ ملا ہے۔ مارچ کے آخری دنوں کے بعد گیارہویں کے نئے تعلیمی سال کا آغاز صحیح طریقے سے اگست میں شروع ہوا، یعنی پورے چار ماہ کا مہا آرام۔ اس حوالے سے طلبہ کو ہمارا یہی پیغام ہے کہ وہ اس قیمتی سال کو ’کالج لائف ‘ کو ’انجوائے ‘ کرنے میں ہرگز نہ گزاریں ۔ بیشک دوست بنائیں ، دوستی نبھائیں ، لیکن ’دوستی‘ کو پڑھائی کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں ۔ موبائل (اسمارٹ فون) اور آٹوموبائل(بائیک) کو ضرورت کے تحت ہی استعمال کریں ۔ سوشل میڈیا پر بھی بیجا وقت ضائع ہونے سےبچائیں ۔ کیونکہ....
نویں تا بارہویں جماعت کے سال مستقبل کی بنیاد بنانے والے سال ہیں ۔ عمر کے اس پڑاؤ میں بہت سی فطری صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں ۔ طالب علم میں موجود غیر معمولی مہارت و صلاحیتوں کا عروج اسی دور میں ہوتا ہے۔ اونچے خواب ، نیک جذبات ، نئی سوچ و خیالات کو پروان چڑھنا ہے۔ طالب علم میں خود اعتمادی ، قیادت کی صلاحیت ، فتح یابی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا ریسٹ‘ کر کے وقت کو ضائع کرنا مناسب نہیں ۔ جہاں تک تعلیمی کریئر کا تعلق ہے ، اگست سے اکتوبر تک اور اس کے بعد نومبر تا فروری مشکل سے ۶؍ ماہ میں گیارہویں کی پڑھائی مکمل ہوجاتی ہے جسے ہم کالج کی باقاعدہ پڑھائی کہتے ہیں ۔ اب ان چھ مہینوں میں ہمارے طلبہ کا موڈ سیر و تفریح اور ریسٹ کا ہوگا دوستی کرنے اور ڈیز منانے کا ہوگا تو یقینا بارہویں جماعت کا نتیجہ خاطر خواہ نہیں ہوگا۔
الگ الگ اسٹریم کیلئے علاحدہ علاحدہ انٹرنس امتحانات،کیا آپ ان کیلئے تیار ہیں ؟
ہم گیارہویں کے طلبہ کو خصوصاً اس ضمن میں آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ میڈیکل میں داخلے کیلئے نیشنل لیول کا انٹرنس امتحان ’نیٖٹ‘لیا جاتا ہے۔اس میں سی بی ایس سی لیول کے نصاب سے سوالات پوچھے جارہے ہیں ۔اسی طرح آئی آئی ٹیز میں داخلے کیلئے ’جے ای ای مینس ، ایڈوانسڈ‘ انجینئرنگ و فارمیسی وغیرہ پروفیشنل کورسیز کیلئے بھلے ریاستی سطح کے امتحانات ہوں ۔لیکن مشکلات کا لیول اِن امتحانات میں بھی بڑھتا جارہاہے۔ آرکیٹیکچر اور بی پلاننگ کیلئے آل انڈیا لیول کا امتحان ہوگا جسے ناٹا کے نام سے جانا جاتا ہے ۔جے ای ای پیپر دوم ،آرمی، نیوی ، ائیر فورس کے لیے این ڈی اے امتحان ہوگا۔ پیور سائنس کے طلبہ کیلئے ’آئزر اپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ‘ ۔نائزر اور یونیورسٹی آف ممبئی ڈپارٹمنٹ اور اٹامک انرجی ۔سینٹر آف ایکسلینس فار بیسک سائنس میں داخلے کے لئے ’ نیسٹ امتحان‘ ایرو ناٹیکل اور ایئرو اسپیس اور آئی آئی ٹی کے لئے جے ای ای مینس اور ایڈوانسڈ ، ۵؍ سال پر مشتمل بی اے /بی ایس سی انٹیگریٹیڈبی ایڈ کورس ۔ ایل ایل بی میں ایڈمشن کے لئے لاء انٹرنس امتحان تو ریاستی کا الگ اور قومی سطح کا الگ (کلیٹ) ۔ ۵؍ سالہ انٹیگریٹیڈ پروگرام اِن مینجمنٹ آئی آئی ایم اندور داخلے کیلئے آئی پی ایم امتحان ، این آئی ایم ایس سی ای ٹی ، بِٹ سیٹ سی ای ٹی ۔ ہوٹل مینجمنٹ کیلئے ریاستی سطح کا الگ امتحان اور قومی سطح کا الگ۔ سی اے ، سی ایس ، سی ایم اے ، ایکچیوریل سائنس کے لئے علاحدہ امتحان۔ بیچلر آف ڈیزائن کے لئے یو سیڈ ایک علاحدہ امتحان(آئی آئی ٹی بامبے سے)۔ بیچلر آف ڈیزائن نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن احمدآباد میں داخلے کے لیے علاحدہ امتحان ۔فیشن ڈیزائن کے لئے این آئی ایف ٹی کیلئے علاحدہ امتحان ۔ کچھ اچھے کالجز میں بی ایم ایم اور بی ایم ایس میں داخلے کے لئے الگ انٹرنس امتحان ہے۔ اس طرح کے اور کئی مقابلہ جاتی امتحانات ہیں جو بارہویں جماعت کے طلبہ کیلئے اہم ہو سکتے ہیں اِن امتحانات کی مکمل جانکاری لینا بے حد ضروری ہے اس کیلئے وقت نکالنا ضروری ہے۔ ملک کی دوسری ریاستوں کے مختلف انٹرنس امتحانات۔ عام طور سے ان انٹرنس امتحان میں ۲؍ سال کے نصاب پر مبنی سوالات ہوتے ہیں ۔ (گیارہویں ، بارہویں دونوں جماعتوں کا نصاب ) ۔
گیارہویں میں ۴؍ سے ۵؍ ماہ کے دوران اگلے تعلیمی سفر کے لئے کسی خاص انٹرنس امتحان اور کریئرکے متعلق سوچ کر معلومات اکٹھا کرنا ضروری ہے اور اس لحاظ سے پڑھائی کرنا ضروری ہے۔ دسویں کے مقابلے ، بارہویں میں کامیابی کا نتیجہ دیکھیں تو یہ بہتر نہیں ہے۔ بارہویں میں ناکام ہونے والے یا بہت کم مارکس کے ساتھ کامیاب ہونے والے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد ہے۔ جس کے بعد ڈراپ آؤٹ بہت زیادہ ہے۔ڈراپ آؤٹ کی شرح میں ’فرسٹ ایئر یعنی ریسٹ ایئر‘ کی سوچ والے طلبہ کی بھی ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ شہر کے مختلف کالجز میں گیارہویں میں مثلاً کسی کالج میں جہاں طلبہ کی تعداد اگر دو سو ہے تو یہ تعداد بارہویں میں گھٹ کرڈیڑھ سو سےبھی کم ہوجاتی ہے۔ لہٰذا بہتر طریقے سے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ تعلیمی کریئر کے بنیادی سال یعنی ’’ فرسٹ ایئر کو ریسٹ ایئر ‘‘ نہ سمجھ کر ’’Base Making Year ‘‘ کے طور پر منائیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ غیر انگریزی ذریعہ تعلیم سے وابستہ طلبہ کے لئے سال اول کے ابتدائی چند روز مشکل ضرور ہوتے ہیں لیکن دو سے تین ماہ میں یہ کمی بھی پوری ہوجاتی ہے۔ شرط صرف سلیقے سے محنت اور دو سال کی مکمل منصوبہ بندی کی ہے۔ اگر بہتر طریقے سے دونوں برسوں کی منصوبہ بندی ہوجائے تو کامیابی حاصل کرنا آسان ہوگا۔نئی تعلیمی پالیسی ۔۲۰۲۰کے متعلق ابھی سے معلومات لینا بھی نہایت ضروری ہے جس پرامسال سے یونیورسٹی سطح پر عمل ہونا شروع کرد یا گیا۔
ٹرینڈنگ اسکلز سیکھیں
نئے دور کی کچھ خاص اسکلز اختیار کرنا ضروری ہے۔ خاص طورسے ان اسکلز پر آئندہ دو سے تین سال خوب کام کریں :
بات چیت کرنے کا فن ؛ کمیونکشن اسکلز ،کریٹیکل تھنکنگ
لیڈرشپ کوالیٹی ،مینجمنٹ اسکلز ،ٹیم ورک خود سے کسی کام کی ابتدا کرنا ،اختراعی صلاحیت
،ٹیکنالوجی کے میدان میں بنیادی صلاحیت ،فائنانشیل لٹریسی ،سماجی اور نفسیاتی استعداد
اس طرح ان صلاحیتوں کو سمجھنا ، یہ صلاحیتیں ہمارے اندر کیسے پروان چڑھیں اس پر کام کرنا نہایت ضروری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان دنوں طلبہ کواپنے اندر کچھ خاص اقدار کو پروان چڑھانے بھی ضروری ہے۔ جس میں ایک دوسرے کی عزت کرنا ، قوت برداشت ، وقت کی پابندی ، ایمانداری ، وفا داری ، دلیری ، بہادری ، صبر ، نظم و ضبط کی پابندی ، ایک دوسرے سے تعاون کرنا ، ہمدردی و ذمہ داری کا احساس ۔