انوکھا اسمارٹ فون جو نازیبا تصویر نہیں کھینچے گا

Updated: February 24, 2020, 5:00 PM IST | Agency

اسمارٹ فونزکے استعمال میں اضافے کے نتیجے میں دنیا بھرمیں ان ڈیوائسیز پر فحشمواد کو دیکھنے اور بھیجنے کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے۔ تاہم اب ایک نیا اسمارٹ فون ایسا متعارف ہوا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو ایسا کرنے سے روکنا ہے۔جاپان کی کمپنی ٹون نے ای ۲۰؍نامی اسمارٹ فونتیار کیا ہے جس میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) ٹیکنالوجی کو استعمال کرکےنازیبا سیلفیز لینے کو بلاک کردیا جاتا ہے۔

انوکھا اسمارٹ فون جو نازیبا تصویر نہیں کھینچے گا ۔ تصویر : آئی این این
انوکھا اسمارٹ فون جو نازیبا تصویر نہیں کھینچے گا ۔ تصویر : آئی این این

 اسمارٹ فونزکے استعمال میں اضافے کے نتیجے میں دنیابھرمیں ان ڈیوائسیز پر فحشمواد کو دیکھنے اور بھیجنے کا رجحان بھی بڑھ گیا ہے۔تاہم اب ایک نیا اسمارٹ فون ایسا متعارف ہوا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو ایسا کرنے سے روکنا ہے۔جاپان کی کمپنی ٹون نے ای ۲۰؍نامی اسمارٹ فونتیار کیا ہے جس میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) ٹیکنالوجی کو استعمال کرکےنازیبا سیلفیز لینے کو بلاک کردیا جاتا ہے۔یہ ٹیکنالوجی ممکنہ فحش تصاویر کو پکڑ کر انہیں بلاک کر دیتی ہے اور والدین کو بھی پکسلیٹڈ تصاویر اس وقت بھیج دیتی ہے جب ان کے بچے عریاں سیلفی لینے کی کوشش کریں۔یہ فون نوجوان افراد کو ذہن میں رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں والدین کے لیے حفاظتی فیچرز دیئے گئے ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے کیمرا ایپ میں ویسی ہی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہےجو سوشل میڈیا کمپنیاں پورن تصاویر کو پکڑنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔اس میں۶ء۲۶؍انچ ڈسپلے، اینڈرائیڈ۹؍آپریٹنگ سسٹم اور۳؍بیک کیمروں کا سیٹ اپ دیا گیا ہے۔اسی طرح ۶۴؍جی بی اسٹوریج، فنگر پرنٹ اسکینر،۳۹۰۰؍ ایم اے ایچ بیٹری اور۲؍ گیگا ہرٹز اوکٹا کور پروسیسر دیا گیا ہے۔کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کامقصد بچوں اور نوجوانوں کو نازیباتصاویرلینے سے روکنا ہے کیونکہ یہ آگے جاکر ان کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔اس فون میں ایسے حفاظتی فیچر موجود ہیں جو والدین کو بچوں کو تحفظ دینے میں مدد دے سکتے ہیں۔یہ ٹیکنالوجی ایپس، ویب سائٹس اور حقیقی دنیا میں ارگرد کے ماحول کو بھی مانیٹر کرتی ہے اور بچے کے رویے میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر آئے تو والدین کو خبردار کرتی ہے۔یہ فون فی الحال صرف جاپان میں دستیاب ہے اور اس کی قیمت ۱۸۰؍ڈالرز رکھی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK