گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں۔
EPAPER
Updated: February 23, 2023, 10:47 AM IST | Saima Shaikh | Mumbai
گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں۔
بے مثال دوستی اور تصوف پر مبنی کتاب
’’چالیس چراغ عشق کے‘‘ ترکی و انگریزی کی مشہور ناول نگار ایلف شفق کی ایک بہترین تخلیق ہے جسے بطور تحفہ اپنی دوستوں کو دیا جا سکتا ہے۔ یہ ناول مولانا جلال الدین رومی اور شمس تبریز کی بے مثال دوستی اور تصوف کے اسرار کو نہایت ہی دلکش پیرائے میں اور عشق کے چالیس اُصولوں میں گوندھ کر بیان کرتا ہے۔
بقول تجزیہ نگار یہ ناول اپنے اندررنگ ونور کی ایک ایسی عجیب دنیا رکھتا ہے جسے پڑھ کر ہم دنگ رہ جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی تخلیق ہے جس کے پس پردہ مطالعہ، تحقیق، مشقت اور ایک نیا تجربہ بھی ہے یہی وجہ ہےکہ اسےپوری دنیا میں اتنی مقبولیت حاصل ہے۔ بہت سی زبانوں میں اس کے تراجم ہوچکے ہیں۔ اس میں کچھ مبالغہ نہیں کہ یہ ناول تمام اہل ذوق کے مطالعہ کےمعیار پر پورا اترے گا لہٰذا یہ اپنی تمام دوستوں کے لئے ایک منفرد تحفہ ہو سکتا ہے۔
فوڈکر ساجدہ (جوگیشوری، ممبئی)
حوصلہ دینے والی یہ دو کتابیں
مَیں نے حال ہی میں آسٹریلین رائٹر رہونڈا بائرن کى کتابیں ’’دى سکریٹ‘‘ اور ’’دى پاور‘‘ کا مطالعہ کیا۔ دونوں ہى کتابوں نے مجھے متاثر کیا۔ میں یہ دونوں کتابیں اپنى سہیلى کو تحفے میں دینا چاہوں گى تاکہ وہ بھی ان سے مستفیض ہو کیونکہ رہونڈا بائرن کى یہ تصانیف قارى کو تحریک دیتى ہیں نیز حوصلہ افزائی بھی کرتى ہیں۔ مثبت ذہنیت، مثبت سوچ، اور کشش کے قانون پر مبنى ’’دى سکریٹ‘‘ نہ صرف مثبت سوچ کى اہمیت پر زور دیتى ہے بلکہ قارى کو خود کو بدلنے کا عزم بھی دیتى ہے۔ ’’دى پاور‘‘ میں محبت کى طاقت بتائى گئی ہے۔ ہر وه چیز جو ہم پانا چاہتے ہیں وه محبت سے حاصل ہوتى ہے۔ مصنفہ نے دلائل اور حقیقی واقعات کى مثالیں دے کر اپنے خیالات کى وضاحت کى ہے۔ دونوں کتابوں میں شکر گزاری اور صبر کے تصور کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اور دین ِ اسلام بھی ہمیں یہى درس دیتا ہے۔
انصاری طیبہ اسرار احمد (بھیونڈی، تھانے)
الرحیق المختوم اہم کتاب ہے
دینی و ادبی کتب کے مطالعے سے انسانی اذہان کھلتے جاتے ہیں اور شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر سماجی، سائنسی اور سیاسی موضوعات پر کتابیں پڑھی جائیں تو سونے پر سہاگہ ہے۔ نبی کریمؐ کی سیرت مبارکہ پر تحریر کردہ کتابوں کے مطالعے سے جہاں ایک طرف علم و آگہی میں اضافہ ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف دل و دماغ کو سکون ملتا ہے۔ مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری کی تحریر کردہ ` الرحیق المختوم ` سیرتِ نبوی پر ایک بہت عمدہ کتاب ہے۔ میں اپنی سہیلی کو یہ کتاب ضرور دینا چاہوں گی۔ اس کے اسباب یوں ہیں کہ یہ کتاب سادہ زبان میں لکھی گئی ہے اور اس میں حوالے بہت معتبر و مستند ہیں۔ دوسری کتاب جو میں اپنی سہیلی کو دینا چاہوں گی وہ ہےفیض احمد فیض کی ’’نقش فریادی‘‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں انقلابی شاعری کے ساتھ ہی غم جاناں اور غم دوراں کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر شیبا افتخار انصاری (بھیونڈی، تھانے)
جب زندگی شروع ہوگی نامی کتاب
کتابیں انسان کی بہترین رہنما اور دوست ہیں جو غور و فکر کی ارتقاء کا ذریعہ بھی ہیں۔ انسان کو بہترین کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے یہ زندگی جینے کا درس سکھاتی ہیں اور شخصیت میں نکھار بھی پیدا کرتی ہیں۔ مہنگی مہنگی اشیاء سے بہترین تحفہ کتاب کا ہوسکتا ہے۔ اس لئے میں اپنے دوست کو بطور تحفہ کتاب دینا پسند کرتی ہوں، میں اپنے دوست کو ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ نامی کتاب دینا پسند کروں گی جو انسان کی زندگی بدل دینے والی کتاب ہے۔
اس کو پڑھنے کے بعد انسان کے دل میں آخرت کی محبت جاگزیں ہو جاتی ہے دنیا اس کو حقیر نظر آنے لگتی ہے اور یہی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
واعظہ سمرا (یوپی)
وہ کتابیں جو رہنمائی کا سبب بنیں
مَیں اپنی سہیلی کو مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ (مکمل سیٹ)، محترم موصوف کی ترتیب دی ہوئی کتابیں رسالہ دینیات اور پردہ اور مولانا محمد یوسف اصلاحی مرحوم کی مرتب کردہ کتاب ’’آداب زندگی‘‘ دینا پسند کروں گی۔ یہ کتابیں اکثر میں اپنی سہیلیوں اور رشته دار لڑکیوں (اگرچہ سہیلی یا رشته دار ہوں یا نہ ہوں) کو (خاص طور سے ان کی شادی کے موقع پر) دیتی ہوں۔ میرا ان خواتین و بچیوں کو ایسی کتابیں دینے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بہترین کتابیں ان کی بہترین دوست اور رہنمائی کا ذریعہ بنیں۔ وہ سبھی خواتین و بچیاں الجھنوں اور مسائل کے وقت ان کتابوں سے ربط بنا کر اپنی پریشانیوں کا حل نکال سکیں۔
ناز یاسمین ثمن (پٹنہ، بہار)
مثبت کتابیں بطور تحفہ
موجودہ دور ایک آئی ٹی دور ہے، اس تیز رفتار زندگی کی دوڑ بھاگ میں اکثر خواتین ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتی ہیں، چاہے وہ ملازمت پیشہ ہو یا گھر داری سنبھالنے والی ہو۔ ذہنی تناؤ صحت اور مستقبل دونوں کیلئے مضر ہیں۔ اس لئے میں اپنی سہیلی کو تحفے میں مثبت خیالات پر مبنی کتابیں دینا پسند کروں گی۔ مثبت خیالات انسان کو ذہنی تناؤ سے محفوظ رکھتے ہیں، ناکامی میں بھی آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں، خود اعتمادی اور پرسکون زندگی گزارنے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ میں انہیں ورزش سے متعلق کتابیں بھی تحفہ میں دینا چاہوں گی تاکہ وہ اپنی جسمانی صحت کی جانب بھی توجہ دیں، ورزش جسمانی و ذہنی، دونوں صحت کیلئے ضروری ہے۔
ڈاکٹرروحینہ کوثر سید (ناگپور، مہاراشٹر)
’’قصص الا نبیاء‘‘ بطور تحفہ دوں گی
مَیں اپنی دوست کو تحفہ میں ’’خلاصۃ الا نبیاء‘‘ جس کا اُردو میں ترجمہ ’’قصص الانبياء‘‘ کے نام سے کیا گیا ہے یہ کتاب دوں گی۔ میرے خیال میں یہ کتاب ہر مسلمان کو پڑھنا چاہئے۔ دورِ حاضر کے مدنظر اس کتاب کو پڑھنا ہمارے لئے بہت ہی مفید ہے اس کتاب کو پڑھنے سے ہمارا ایمان تازہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ پر ہمارا یقین مزید بڑھتا ہے۔
اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سے پچھلی قوموں پر عذاب نازل کیا ان کی نافرمانیوں کے سبب اور اللہ پر ایمان رکھنے والے لوگوں پر اللہ نے ان کی کس طرح سے غیب سے مدد کی اور ان کے لئے دونوں جہاں میں آسانیاں پیدا کردی۔
انصاری رمشا (بھیونڈی، تھانے)
’’خدا اور انسان‘‘ نامی کتاب
کتابیں پڑھنا ہمیشہ میری زندگی کا حصہ رہا ہے۔ اگر چہ کسی ایک کتاب کا نام لینا میرے لئے کافی مشکل تھا جو میں اپنی سہیلی کو تحفے میں دوں کیونکہ زندگی کے مختلف ادوار میں مجھے مختلف کتابیں اچھی لگتی رہی ہیں۔ تحفے کیلئے قرآن و احادیث بہترین انتخاب ہے۔ البتہ اس کے علاوہ، جو کتاب میں اپنی سہیلی کو دینا پسند کروں گی وہ ہے مولانا وحیدالدین خاں کی کتاب ’’خدا اور انسان‘‘ کیونکہ موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی گزارنے کے لئے ضروری ھیکہ آدمی اپنی حیثیت کو جانے۔ وہ یہ جانے کہ خدا اور انسان کی نوعیت کیا ہے اور اس کتا ب کے مطالعہ کے بعد ذہن سے بہت سارے سوالات کی گرہیں کھل جاتی ہیں۔
عفت احسان (چکیا، اعظم گڑھ)
نمرہ احمد کی کتابیں دینا چاہوں گی
مَیں اپنی عزیز دوست کو جو مجھ سے میلوں دور ہے اپنی پسندیدہ مصنفہ نمرہ احمد کی کتابیں تحفے میں دینا چاہتی ہوں۔ ان کی کتابوں نے مجھے کافی متاثر کیا۔ ان کے ناولوں کی اصل غرض یہ ہے کہ قارئین کو قرآنی احکامات کی طرف راغب کیا جائے۔ نمل، حالم،جنت کے پتے، مصحف، میں انمول وغیرہ ان کی شاہکار تصانیف ہیں۔ نمل رشتوں کی قدر و قیمت، جذبات و محسوسات اور بے لوث محبت کی ایک بہترین کہانی ہے۔ اسی طرح نمل اور مصحف سے انہوں نے قارئین کے اندر قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا شوق پیدا کیا ہے اور جنت کے پتے حجاب کرنے پر ابھارتی ہے۔ الغرض ان کی تمام تصانیف دوستوں کو دیا جانے والا بیش قیمت تحفہ ہوسکتی ہیں۔
سحر رحمانی (وارانسی، یوپی)
امور خانہ داری اور تاریخ ِ اسلام
کہا جاتا ہے کہ کتابیں بہترین دوست ہوتی ہیں لیکن آج کل دیکھنے میں آرہا ہے کہ کتب بینی کا شوق دن بدن کم ہوتا جارہا ہے۔ موبائل میں دلچسپی کا تمام ہی سامان مہیا ہے۔ اس لئے موبائل سے لوگوں کو چھٹی نہیں ملتی۔ کتب بینی کا وقت نکالنا تو اب ناممکن سا ہو گیا ہے۔ ایسے حالات میں تحفتاً میں اپنی سہیلی کو امور خانہ داری پر، تاریخ اسلام پر اور اسلامی تعلیمات پر مبنی کتب دینا چاہوں گی تاکہ ان کے مطالعہ سے گھریلو کام کاج کو انجام دینے میں اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے ان کی کردار سازی میں مدد مل سکے۔
کتب بینی کا شوق معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کو زندہ رکھنے کے لئے جو کوششیں ہونی چاہئے تھی وہ نہیں ہو رہی ہیں۔ اس کے لئے بڑے اور چھوٹے سبھی ذمے دار ہیں۔ کتب بینی کے شوق کو قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔ نیز کتابوں کو بطور تحفہ دینے کے رجحان کو فروغ دینا چاہئے۔
نجمہ طلعت (جمال پور، علی گڑھ)
ام الکتاب قرآن مقدس کا تحفہ
حضورؐ فرماتے ہیں: ’’ایک دوسرے کو ہدیہ بھیجا کرو تو آپس میں محبت پیدا ہوگی اور دلوں کی کدورت جاتی رہے گی۔‘‘ دوستی کو فروغ دینے کیلئے یہ ایک بہترین عمل ہے۔ مَیں اکثر اپنے دوستوں کو کتاب تحفے میں دیتی ہوں کیونکہ کتاب وہ تحفہ ہے جو آپ کی صلاحیتوں اور پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارتا ہے۔ کتاب میں بھی ہمیشہ سے مَیں نے قرآن مقدس (ترجمہ مع تفسیر) کا ہی انتخاب کیا ہے کیونکہ مع ترجمہ و تفسیر چنندہ لوگ ہی مطالعہ میں رکھتے ہیں جبکہ میں چاہتی ہوں میرے سارے دوست اس کتاب سے جڑے جو ظاہر کے ساتھ باطن کو بھی روشن کرنے والی ہے۔ اس کے انتخاب کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی مخصوص موضوع پر دوسری کتاب دی جائے تو اس کا مواد موضوع پر ہی منحصر ہوتا ہے جبکہ قرآن مقدس وہ واحد کتاب ہے جس میں زندگی کے ہر موضوعات کیساتھ ماضی، حالات و مستقبل کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
شبنم فاروق خان (گوونڈی، ممبئی)
اخلاق کو بلند کرنے والی کتابیں
اپنی سہیلی کو بطور تحفہ ایسی کتاب کا انتخاب کروں گی جو بہترین ہوں مستند ہوں شخصیت کو دلچسپ بنانے والی ہوں اور ذات کو شاندار بنانے والی اور معیار اخلاق کو بلند کرنے والی ہوں۔ حدیث ہے جس میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’روزِ قیامت میزان میں کوئی چیز اچھے اخلاق سے بڑھ کر وزنی نہیں ہوگی۔‘‘ اس کے لئے مَیں ایسے مصنفین کی کتابیں فراہم کروں گی جو اہل حق ہوں علمی اور عظیم شخصیت کے مالک ہوں تاکہ ان کی کتابوں کے واسطے سے علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ فلاح و صلاح اور تقویٰ بھی منتقل ہو سکے۔ روزانہ اچھا اور مستند پڑھنے کی وجہ سے زندگی سے جمود و تعطل ختم ہو سکے۔ کردار میں وقار،گفتار میں شائستگی،روانی اور پختگی آ سکے اور روحانی سکون و سرور کا ذریعہ بن سکیں۔ کتابیں ان خاص نعمتوں میں سے ہیں جو اللہ رب العزت نے اقرا اور علم بالقلم کی صورت میں عنایت فرمائی ہیں۔
شبانہ خورشید (نصیر پور، بندول، اعظم گڑھ، یوپی)
احادیث کی کتابیں
موجودہ دور ترقی کا دور ہے، دنیا میں خصوصاً اس صدی میں ہر شعبہ جات میں ایسی ایسی ایجادات ہوئی ہیں کہ عقل انسانی محو حیرت ہے۔ کمپیوٹر اور موبائل جیسے آلات نے تو دنیا کو مٹھی میں بند کر دیا ہے۔ بری و بحری معاملات سے لے کر فلکیاتی نظام تک حضرت انساں نے دسترس حاصل کر لی ہے، اور ان کے اسرار و رموز کو سمجھنے کے لئے ماہرین نے اسلامی کتب کا سہارا لے کر اور معلومات اخذ کر کے چاند ستاروں تک رسائی حاصل کر لی ۔
یہی سوچ کر مَیں میری سہیلی جو یقیناً ایک ماں بھی ہوگی اور کہتے ہیں ماں کی گود پہلی درس گاہ ہوتی ہے، اسی درس گاہ سے ایک کامیاب معاشرے کی تشکیل بھی ہوگی، اس لئے میں اسے تحفے میں کتاب کی شکل میں قرآن و حدیث دینا پسند کروں گی تاکہ وہ ان سے مستفید ہو کر دونوں جہان میں سرخروئی حاصل کرے۔
مومن نرگس شہیر (زیڈعابد روڈ، بھیونڈی)
’’جنّت کے پتے‘‘ کا تحفہ
مجھے نویں جماعت سے ناول پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ دسویں کے بورڈ اگزام ہو رہے تھے اور میں راتوں کو جاگ کر ناول پڑھ رہی ہوتی تھی اتنا شوق تھا۔ اس وقت ہر ماہ ایک ناول شائع ہوتا تھا پاکیزہ آنچل میں جس کا نام ’’جنت کے پتے‘‘۔ اس ناول سے مَیں متاثر ہوئی۔ اس ناول کے ذریعے مجھ میں مثبت تبدیلی آئی مجھے قرآن، احادیث اپنا دین بہت پیار لگنے لگا دین تو ہمارا پہلے ہی بہت خوبصورت ہے بس ہم سمجھ نہیں پاتے، میں چاہتی ہوں، میں بھی جنت کے پتوں کو تھاموں۔ ناول میں ’’جنت کے پتے‘‘ نیکی اور پردے کو کہا گیا ہے۔
میں یہ ناول بطور تحفہ دینا چاہوں گی کیونکہ ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں ہم اللہ سبحان وتعالیٰ سے بہت دور ہو گئے ہیں اگر نیکی کی طرف کوئی بھی چیز لے جائے وہ ہمارے لئے بہتر ہے۔ میں نے یہ ناول اپنی سہیلی کو تحفے میں دیا بھی تھا اسے بہت پسند آیا۔
مہ جبین فاروق (ممبئی)