ایک ایسی خاتون کی کہانی جس نے اپنی تربیت کو شرمندہ نہیں کیا۔
EPAPER
Updated: March 26, 2026, 2:20 PM IST | Asiya Raees Khan | Mumbai
ایک ایسی خاتون کی کہانی جس نے اپنی تربیت کو شرمندہ نہیں کیا۔
سڑک چھوڑ کے اس گلی میں داخل ہونے کے بعد بھی اس کا انداز نہیں بدلا ورنہ پہلے اس کی پیشانی شکنوں سے بھر جاتی تھی، ناک وہ ڈھانپ لیتی اور لباس، پرس کو بدن کے قریب سمیٹ کر بڑی احتیاط سے چلتی تھی۔
وہ دو ماہ پہلے اپنے نئے فلیٹ میں منتقل ہوئے تھے۔ گھر سے ریلوے اسٹیشن جانے کا راستہ ان گلیوں سے گزرنے پر مختصر تھا۔ صبح چونکہ تازہ دم ہوتی تھی لہٰذا بذریعہ سڑک اسٹیشن جاتی تھی لیکن ہر شام دفتر سے واپسی پر تھکن اور اپنی توانائی کے ذخیرے سے مل رہا جلتا بجھتا سرخ اشارہ اسے ان گلیوں سے گزرنے پر مجبور کر دیتا تھا۔
پہلے تو یہ بستی اور یہاں رہنے والے اسے ذرا اچھے نہیں لگتے تھے۔ جاہل اجڈ، چیختے چلاتے لوگ، ادھر ادھر اڑتے کاغذ اور اور خالی لفافے، گڑھوں میں جمع گدلا پانی، پتلی سے گلی میں جھوٹے برتن مانجھتیں، کپڑے دھوتیں، بچوں پر برستیں عورتیں، سارے منظر ہی اس کے اندر کراہیت جگاتے تھے۔ وہ اپنا لباس دونوں ہاتھوں سے سنبھالتی تیز قدموں سے وہاں سے گزر جاتی تھی۔ اس کا حلیہ اور احتیاط کا یہ رعونت بھرا انداز اسے وہاں کے واسیوں، خاص طور پر عورتوں کی تیز نظریں کا نشانہ بناتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: منزلیں اور بھی ہیں
وہ ایک مختلف طبقے اور ماحول کا حصہ تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ بہت امیر تھے۔ اس کا گھرانہ متوسط اور متمول کے درمیانے مقام پر تھا جہاں ان دو بہنوں کے لئے ان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ والدین دن رات محنت کرتے تھے تاکہ وہ ان کی تعلیم اور پرورش معیاری کر سکیں۔ ساتھ ہی ان کی ماں انہیں وضع دار اور شائستہ بنانے پر بڑی محنت کرتی تھیں۔
بچپن سے ماں نے سکھایا تھا کہ اس کا تعلیم یافتہ اور روشن خیال ہونے کا عملی اظہار بڑا ضروری ہے۔ انہوں نے ہمیشہ خیال رکھا تھا کہ ان بہنوں کا اٹھنا بیٹھنا، کھیلنا کودنا حتیٰ کہ اختلاف اور غصہ بھی انہیں مہذب اور پڑھا لکھا ظاہر کرے۔ ان کی یہ عادت جنون کی حد تھی کہ وہ ہمہ وقت شائستہ اور با اخلاق بنی رہیں۔ وہ غصے میں انہیں مثالیں بھی ایسی ہی دیتی تھیں؛ ’’اس طرح تو شکنتلا کے بچے بھی نہیں لڑتے ہیں!‘‘ وہ انہیں گھر کی ملازمہ کے بچوں سے کمتر کہہ دیتیں اگر ان کے منہ سے دو جملے ایک دوسرے سے اتفاق نہ کرنے والے نکل جاتے۔
’’یہ گنواروں والا طریقہ کہاں دیکھا؟‘‘ جب ان میں سے کوئی فرش پر پیر پسار کر بیٹھنے کی غلطی کرتی تو وہ ڈانٹتیں۔
’’اس طرح جاہل ہنستے ہیں!‘‘ جب کارٹون دیکھتے ہوئے ان کا بے ساختہ قہقہہ ابل پڑتا، وہ اطلاع دیتیں۔ غرض ہمیشہ انہیں شرمندہ کرنے ایسی ہی مثالیں دی گئی تھیں کہ عمر کے ساتھ ساتھ اس کے اندر یہ احساس پروان چڑھتا گیا کہ اس کا پڑھ لکھ کر، خود مختار ہونا، دوسروں سے برتر اور اعلیٰ ہونے کے لئے کافی نہیں بلکہ اسے ہمیشہ ’ان جاہلوں اور گنواروں‘ سے منفرد نظر آنا ضروری ہے۔ ہر احساس اور جذبے کے اظہار سے پہلے وہ الفاظ، تاثرات، رد عمل سب ماں کی اس کسوٹی پر پرکھتی تھی۔ اس کی اب تک کی زندگی میں خود کو ان لوگوں سے ممتاز رکھنے کی سعی سب سے نمایاں تھی۔
مگر اب اس گلی سے ہر دن گزرتے ہوئے پہلے اس کی نخوت کمزور ہوئی پھر پہلے ناک پر سے ہاتھ اور دوپٹہ ہٹا پھر اس کے بعد ساری حسیات نے ارد گرد متوجہ ہوگئیں جہاں ایک الگ ہی دنیا آباد تھی، اس کی دنیا سے بالکل مختلف۔ آہستہ آہستہ اپنے گزرے دن کے واقعات اور اس گلی کے منظر آپس میں الجھنے لگے تھے۔
’’یہ کتنی آسانی سے سب کچھ بول دیتے ہیں۔‘‘ وہ ان کی بے باک، بے شرم، بے لاگ اور کبھی بے جا باتیں سن کر حیرت سے سوچتی۔
’’اور شاید اسی لئے ان کے چہرے ایسے کھلے رہتے ہیں کہ اندر اَن کہا کچھ بچتا ہی نہیں ہے۔‘‘ فوراً ہی دماغ اس کا نتیجہ دکھانے لگتا۔
کبھی دروازوں میں کھڑی عورتیں زور شور سے جھگڑ رہی ہوتیں اور پھر وہی اگلے دن سر جوڑے راز و نیاز کرتی دکھائی دیتیں تو اسے اپنے دفتر کے ساتھی یاد آجاتے جو ایک دوسرے سے کہنے یا لڑنے کی بجائے سارے عملے سے ایک دوسرے کی برائیاں، شکایتیں کرنے کے بعد بھی مسکراتے ہوئے سرد جنگ جاری رکھے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: شناخت کا سفر
کیا عورتیں اور کیا مرد اور بچے، وہی دو فریق جو ایک دوسرے سے دست گریباں ہوتے، اگلے دن چبوترے پر بیٹھے یوں باتوں میں گم ہوتے گویا کبھی لڑائی اور اختلاف ہوا ہی نہ ہو۔ وہاں سالگرہ کی تقاریب اور چھوٹی موٹی محفلیں بھی جمتی تھیں۔ اس نے ایسا شدید جھگڑا بھی دیکھا تھا کہ اسے لگا وہ ایک دوسرے کی جان لے لیں گے۔ اگلے دن اس نے ایسی خبر کے لئے فون اور اخبار ٹٹولا۔ سڑک سے اسٹیشن جاتے ہوئے بھی اس کے کان کسی ایسی خبر کے منتظر تھے لیکن شام میں گلی حسبِ دستور تھی۔ اسے ان کی مصلحت اور فلٹر کے بغیر والی زندگی پر رشک آنے لگا تھا۔ ان کے کھردرے چہروں پر اسے کوئی گہرا، تاریک سا سایہ نظر نہیں آتا تھا جو کبھی شیشے میں اپنی صورت پر ملتا تھا تو کبھی اپنے اطراف کے لوگوں میں۔ اسے اپنی طرح ان کے شانے بھی جھکے محسوس نہیں ہوتے تھے۔
جلد دفتر کے واقعات سے ہوتے ہوئے اب اسے اس گلی میں اپنی زندگی اور گھر کے حالات یاد آجاتے اور نخوت سے دیکھنے والی نظر میں حسرت در آتی تھی۔ ماں کی کسوٹی پر پورا اترتے اترتے سخت، برے الفاظ اور جھگڑوں سے اجتناب کی کوشش میں وہ ایسے سوال ہی نہیں پوچھتی تھی جو الجھنے کی وجہ بنتے نہ ایسے جواب دیتی تھی جو مقابل سننا نہ چاہے۔ مگر اب سوال ناگزیر ہوتے جا رہے تھے اور جواب مچل مچل کر زبان تک آنے لگے تھے۔ جب وہ ہمت کر کے اپنے شوہر سے وہ سوال کرتی جس کا جواب اس کی الجھن دور کر سکتا تھا تو جواب ملتا؛ ’’کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ لڑائی کرنی ہے؟‘‘ اور وہ لب بھینچ کے وہاں سے ہٹ جاتی۔
کچھ عرصہ پہلے تک اس کے نفاست پسند مزاج کو عجیب سی تقویت ملتی تھی کہ وہ ہمیشہ اپنے برتاؤ اور عادات و اخلاق سے ہر جگہ خود کو مہذب اور وضع دار ظاہر کرتی ہے۔ ماں کی تربیت نے ہر طرف سے اس کی جھولی میں ستائش ہی ڈالی تھی مگر اب اسے یہ ستائش اچھی نہیں لگتی تھی۔ ان تعریفوں کے بدلے اس نے اپنے اندر کون سا جنگل اگالیا تھا، وہی جانتی تھی۔
گھر آکر اس نے معمول کے کام نپٹائے اور کھانا کھا کر خواب گاہ میں آگئی۔
اس نے ایک بار پھر کروٹ بدل کر آنکھیں موندیں مگر اس منظر سے چھٹکارا پھر بھی نہ ملا جو شام سے اس کے دل و دماغ پر سوار تھا۔ اس نے آنکھیں کھول دیں۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: آسمان سب کیلئے ایک سا کیوں نہیں ہوتا؟
ان جھگیوں کے آگے سے گزرتے ہوئے وہ کتنے ہی اس قسم کی واقعات کی عینی شاہد بنی تھی۔ میاں بیوی کے آپسی جھگڑے، کبھی عورتوں کی ہاتھ نچا نچا کر ایک دوسرے پر الزام تراشیاں، کبھی مردوں کی دھینگا مستی تو کبھی بچوں کی ہاتھا پائی۔ یہ بھی کوئی نیا منظر نہ تھا، ایک چیختی عورت اور مرد ہی تھا۔ عورت دیدہ دلیری سے اس کا گریبان پکڑے جواب طلب کر رہی تھی، وہی جواب جو اسے بھی چاہئے تھا۔
دروازے پر آہٹ ہوئی اور اس نے جھٹ آنکھیں بند کر لیں۔
’’لیکن میں کیوں سونے کا ڈرامہ کر رہی ہوں؟‘‘ اندر سے آواز ابھری اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔
احتیاط سے اندر آکر، بیگ کرسی پر اور جیب سے فون، والٹ نکال کر میز پر رکھتے ہوئے وہ روز کی طرح آج بھی اسے سوئی سمجھ رہا تھا۔
’’بہت دیر کر دی۔‘‘ اس کی آواز پر وہ جو الماری کی طرف بڑھ رہا تھا، ٹھٹھک کے پلٹا۔
’’ڈرا ہی دیا تم نے! جاگ رہی ہو تو لائٹ کیوں بند کر رکھی ہے؟‘‘
’’بند ہی رہنے دو۔‘‘ اسے دیوار کی طرف جاتا دیکھ اس نے تیزی سے روکا۔ وہ اندھیرے میں ہی باہمت تھی۔
’’تمہارا ویٹ کر رہی تھی، لائٹ آن کی تو نیند اڑ جائے گی۔‘‘
’’کہا تو ہے میرا ویٹ مت کیا کرو، کچھ دن یونہی دیر ہوگی۔ سو جاؤ میں بھی تھک گیا ہوں۔‘‘ الماری سے شب خوابی کا لبادہ نکال کر وہ غسل خانے میں چلا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: کششِ ثقل
شام والا منظر پھر پوری جزئیات کے ساتھ ذہن کے پردے پر ابھرا اور اس کا دل کیا وہ اٹھ کے غسل خانے کا دروازہ کھول دے اور اونچی آواز میں اسے کہے کہ میں جانتی ہوں تمہاری تھکان اور دیر کی وجہ۔ تاہم، وہ یوں لیٹی رہی گویا بدن میں جان ہی نہ ہو۔
’’کل امی آئیں گی ڈنر پر۔‘‘ کچھ دیر بعد وہ باہر نکلا تو اسے اطلاع دی، ’’تم جلدی آجانا مجھے دیر ہو جائے گی۔‘‘
اگلے دس منٹ میں وہ اپنی جگہ لیٹ کر سو بھی گیا۔ فون اس کے تکیے کے قریب رکھا تھا۔ وہ کچھ دیر فون کو گھورتی رہی۔ چند دن پہلے اس کی چھٹی حس اسے اس فون کے اندر ان پیغامات تک لے گئی تھی جن میں یقیناً مزید اضافہ ہی ہوا ہوگا۔
اس نے جب بھی تمہید باندھی کہ اب اسے اپنی چھٹی حس کے شکوک اور اشارے بتا کر سوال کرے گی کہ وہ اس کی الجھن دور کرے، سچ بتا دے، وہ آگے کی گفتگو بھانپ جاتا تھا۔ وہ بات کا آغاز جس بھی انداز میں کرتی وہ اختتام اسکے مزاج اور طور طریقوں پر سوال اٹھا کے اسکا منہ بند کر دیتا۔
’’یہ تم کیا کہ عام گھریلو عورتوں کی طرح بکواس کرنے لگی ہو۔‘‘ ’’تمہارا مزاج تو نہیں لڑائی اور اختلاف کو ہوا دینا!‘‘
وہ اب خود کو اپنی عادات اور اخلاق کا قیدی محسوس کرتی۔ اس کی یہ ہی کمزوری شوہر کو شیر کر گئی تھی۔ اسے احساس ہونے لگا تھا کہ اس کی ساس اور شوہر یہ ہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ سب سہہ جائے گی کہ چیخنا چلانا، بد تمیزی کرنا، گھر کا ماحول بد صورت کرنا وہ جانتی ہی نہیں تھی۔ یہ سچ بھی تھا، بچپن سے ماں کا سکھایا تعلیم یافتہ اور مہذب ہونے کا سبق ہر جگہ اسے روک دیتا تھا۔ وہ کسی صورت گنوار، بدتمیز، بد تہذیب کا طعنہ نہیں سن سکتی تھی اور اپنے مزاج کے دائرے میں کیسے اس صورتحال سے نپٹا جائے، وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ عادات، مزاج اس کی کمزوری ہی نہیں بلکہ دسروں کے لئے بلیک میل کا ذریعہ بھی بن گئے تھے۔
اس نے اب بھی تصور میں کیا کچھ نہیں سوچا مگر آخر کو وہ بھی تکیے پر سر رکھ کے سونے کی کوشش کرنے لگی۔
اگلی شام وہ جلدی آگئی۔ اس کی ساس نے فون پر بتا دیا تھا کہ ساتھ ان کی سہیلی بھی ہوگی۔
کھانا بنا کے وہ تیار ہوئی اور اسی وقت ساس اور ان کی سہیلی آگئیں۔ اب وہ ان کی اس عادت کو سمجھنے لگی تھی۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنی کسی رشتے دار یا شناسا کو لے آتی تھیں۔ مقصد بیٹے کا نیا خوبصورت گھر دکھانا، اچھی نوکری کی دھاک بٹھانا اور کمائی کی نمائش ہوتا تھا۔ اسے ان کے آنے سے یا ان کی باتوں سے کبھی مسئلہ نہیں ہوا تھا لیکن آج ان کے ساتھ آئی خاتون کچھ الگ مزاج کی تھیں۔
شوہر کے فون کے بعد کہ وہ بس پہنچ رہا ہے، وہ میز پر لوازمات رکھ رہی تھی۔ وہ دونوں قریب ہی صوفے پر بیٹھی تھیں۔
’’ہاں تو اس میں تمہاری بہو کا بھی کمال ہوا نا!‘‘
’’دیکھو پیسہ میرے بیٹے کا ہے، پیسہ خرچ کرنے اور اپنی مرضی سے چیزیں خریدنے کی آزادی بھی اسی نے دی ہے۔ جب شوہر ہر ضروریات پوری کرے، بیوی کو خوش رکھے، مکمل آزادی دے تو بیوی کا کیا کمال؟ اگر وہ مشکل حالات اور بد مزاج یا برے شوہر کے ساتھ نبھا کرکے یوں گھر سنوارے تب کمال ہوگا۔‘‘
اسکا ہاتھ جہاں تھا وہیں تھم گیا۔ وہ لاکھ کوشش کے باوجود پلٹ کے وہ نہ کرسکی جو اس کا دل کر رہا تھا مگر اسکے اندر کی عورت نے کروٹ بدل لی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: سسرال سے آگے....
شوہر کے آنے کے بعد کھانا ہوا، اس نے باورچی خانہ سمیٹا، ساس کی فرمائش پر کافی بنائی اور ان تینوں کو کپ پکڑائے جو صوفے پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ خالی ٹرے لے کر پلٹتے ہوئے وہ رکی، پلٹی اور ساس کو دیکھا۔
’’ممی جی! مَیں مزید کمال نہیں کرسکتی....‘‘ تینوں نے الجھ کے اسے دیکھا۔
’’آپ کے بیٹے کا چھ ماہ سے افیئر چل رہا ہے، یہ آج بھی اسی وجہ سے لیٹ آئے ہیں....‘‘ یک بیک ان کے چہرے بدل گئے تھے۔ سب سے پہلے اس کے شوہر نے غضب ناک ہو کے کپ میز پر پٹکا مگر وہ رکی نہیں۔ ٹرے ساتھ لئے وہ اپنی خواب گاہ میں آئی۔ پیچھے بے یقینی، غصہ، صفائی اور طعنوں سے بھری آوازیں تھیں۔ شوہر کو یقین تھا وہ کمرہ بند کرکے بیٹھ جائے گی۔ اس کیلئے اس وقت ماں کو سنبھالنا اور شانت کرنا زیادہ ضروری تھا۔ مگر چند منٹ بعد وہ اپنا پرس لئے باہر آئی۔
’’میرے پاس چابی ہے، مَیں کسی دن آکر اپنا سامان لے جاؤں گی۔‘‘ اس نے شوہر کو دیکھ کر کہا اور دروازے کی طرف بڑھی۔ ساس کی سہیلی خاموش تماشائی تھیں جبکہ اس کی ساس مسلسل طیش میں بول رہی تھیں۔ انہوں نے آگے آکر اسے روکنا چاہا مگر وہ شوہر اور ساس سے بچتی تیزی سے باہر نکل گئی۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ : شہری راکھ
آج اس نے اپنی زندگی کی تنگ گلی سے باہر قدم رکھا تھا۔ وہ ایک گہرا سانس لے کر مسکرائی۔ کہیں تسلی بھی تھی کہ اس نے چیخ چلا کر اور ہاتھ نچا کر کوئی سطحی حرکت نہیں کی تھی۔ اس مشکل فیصلے میں بھی اس نے اپنی ماں کو، ان کی تربیت کو شرمندہ نہیں کیا تھا۔ تبھی اندر سے اس کے شوہر کی آواز آئی اور وہ تھم گئی، پھر دو پل بعد اس کا زور دار قہقہہ گونجا۔ شوہر اس کے بارے میں کہہ رہا تھا؛
’’یہ جاہل عورت.....‘‘