Inquilab Logo Happiest Places to Work

میٹا اور یوٹیوب کو سوشل میڈیا ایڈکشن ٹرائل میں ذمہ دار پایا گیا، جیوری نے۳؍ملین ڈالر ہرجانہ عائد کیا

Updated: March 27, 2026, 5:02 PM IST | Los Angeles

جیوری نے دونوں کمپنیوں کو غفلت برتنے اور اپنے پلیٹ فارمز کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے وابستہ صحت کے خطرات کے بارے میں صارفین کو خبردار نہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ اس میں صارفین کے مواد کے بجائے پلیٹ فارم کے ڈیزائن پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

کیلیفورنیا کی ایک جیوری نے میٹا اور یوٹیوب کو نوجوان صارفین میں نقصان دہ اور لت پر مبنی رویوں کو فروغ دینے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دونوں کمپنیوں پر ۳ ملین ڈالر ہرجانہ عائد کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی فیصلہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف قانونی چیلنجز کے رخ کو بدل سکتا ہے۔ 

لاس اینجلس کی جیوری نے یہ فیصلہ ’کیلی‘ (عدالتی دستاویزات میں نام: کے جی ایم KGM) نامی ۲۰ سالہ خاتون کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں سنایا۔ انہوں نے دلیل دی تھی کہ کم عمری میں انسٹاگرام اور یوٹیوب کے طویل استعمال نے انہیں اس کی لت میں مبتلا کر دیا اور وہ ڈپریشن، خودکشی کے خیالات اور ’باڈی ڈیسمورفیا‘ (اپنے جسمانی خدوخال کے بارے میں منفی سوچ) جیسے سنگین ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی بچوں کو کند ذہن بنارہا ہے: سیم آلٹ مین؛ اے آئی کو معاون آلے کے طور پر استعمال کرنے کی تلقین

ٹرائل کے دوران کیلی نے گواہی دی کہ وہ اپنے دن کا زیادہ تر حصہ سوشل میڈیا پر گزارتی تھیں اور لائیکس اور نوٹیفیکیشنز سے ملنے والی جذباتی ”جوش کی لہر“ انہیں مستقل طور پر مصروف رکھتی تھی۔ ان کی قانونی ٹیم نے ان پلیٹ فارمز کو نشہ آور رویوں کا ”دروازہ“ قرار دیا۔ کیلی کے وکیل مارک لینیئر نے دلیل دی کہ کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز سے بچوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان سے واقف تھیں لیکن انہوں نے عوام کو مشغول رکھنے اور اپنے منافع کو ترجیح دی۔ جیوری نے اس سے اتفاق کیا اور دونوں کمپنیوں کو غفلت برتنے اور اپنے پلیٹ فارمز کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے وابستہ صحت کے خطرات کے بارے میں صارفین کو خبردار نہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

۲۰۲۳ء میں دائر کئے گئے اس مقدمہ میں شروع میں ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ بھی شامل تھے، تاہم دونوں کمپنیوں نے ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ہی سمجھوتہ کرلیا تھا۔ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی کارروائی میں میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ اور انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری سمیت اعلیٰ عہدیداروں نے گواہی دی اور اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور حفاظتی اقدامات کا دفاع کیا۔ دونوں کمپنیوں نے ٹرائل کے دوران ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ خاندانی ماحول، تعلیمی چیلنجز اور ذاتی حالات نے کیلی کی حالت میں زیادہ بڑا کردار ادا کیا۔

یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ اس میں صارفین کے مواد کے بجائے پلیٹ فارم کے ڈیزائن پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس وجہ سے ممکنہ طور پر `سیکشن ۲۳۰‘ کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ملنے والا تحفظ یہاں کام نہیں آیا۔ واضح رہے کہ یہ امریکی قانون عام طور پر ٹیک کمپنیوں کو ذمہ داری سے استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: چیٹ جی پی ٹی صحت سے جڑے سنگین معاملات میں ہنگامی حوالہ جات سے محروم ہے؛ احتیاط کرنا ضروری: تحقیق

میٹا اور یوٹیوب کا ردِعمل

جیوری کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد میٹا نے بیان دیا کہ وہ اس فیصلے سے ”احترام کے ساتھ اختلاف“ کرتا ہے اور قانونی متبادلات کا جائزہ لے رہا ہے۔ خبر لکھے جانے تک، یوٹیوب کی مالک کمپنی گوگل کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ قوی امکان ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس سے اسی طرح کے مزید مقدمات کیلئے راستہ ہموار ہوجائے گا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ڈیزائن پر جانچ پڑتال میں اضافہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK