Updated: March 28, 2026, 10:17 PM IST
| Jakarta
رواں ماہ کے آغاز میں متعارف کرائی گئی اس پالیسی کا مقصد نابالغوں میں آن لائن فحاشی، سائبر بلیئنگ (آن لائن ہراسانی) اور انٹرنیٹ کی لت جیسے خدشات کا ازالہ کرنا ہے۔ انڈونیشیا کے وزیرِ مواصلات میوتیا حفیظ نے کہا کہ ملک میں سرگرم پلیٹ فارمز کیلئے ”سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں“ ہوگی۔
انڈونیشیا نے ملک بھر میں ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی پالیسی کو نافذ کردیا ہے۔ حکام نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو سخت وارننگ جاری کی ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد لازمی ہے۔ واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں متعارف کرائی گئی اس پالیسی کا مقصد نابالغوں میں آن لائن فحاشی، سائبر بلیئنگ (آن لائن ہراسانی) اور انٹرنیٹ کی لت جیسے خدشات کا ازالہ کرنا ہے۔
انڈونیشیا کے وزیرِ مواصلات میوتیا حفیظ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ملک میں سرگرم پلیٹ فارمز کیلئے ”سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں“ ہوگی۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ کمپنیوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی خدمات مقررہ عمر سے کم صارفین کی پہنچ سے باہر ہوں، بصورتِ دیگر انہیں ریگولیٹری نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حفیظ نے واضح کیا کہ تمام ڈجیٹل پلیٹ فارمز کو انڈونیشیائی قانون کی مکمل پاسداری کرنی ہوگی۔ نفاذ کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی، حکام نے اشارہ دیا ہے کہ شرائط پوری کرنے میں ناکام رہنے والے پلیٹ فارمز کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ڈجیٹل نشہ۲۰؍ ہزار بچوں کی موت کا سبب بن رہا ہے‘‘
رپورٹس کے مطابق، کئی کمپنیوں نے پہلے ہی ان تبدیلیوں کو نافذ کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ اور لائیو اسٹریمنگ سروس ’بیگو لائیو‘ (Bigo Live) نے نئے قوانین کے مطابق اپنے صارفین کیلئے کم از کم عمر کی شرائط کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ دریں اثنا، ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور ۱۶؍ سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس سے نمٹنے کیلئے اقدامات کر رہا ہے۔
انڈونیشیا کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی ممالک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک بچوں کی رسائی کو کنٹرول کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر حکومتیں ذہنی صحت اور آن لائن حفاظت پر ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے اثرات پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں۔ انڈونیشیائی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ نگرانی اور تعمیل کی جانچ پڑتال اس مہم کے حصے کے طور پر جاری رہے گی۔