والدین کا بچوں سے ’معافی مانگنا‘ کیوں ضروری ہے؟

Updated: March 17, 2020, 7:57 PM IST | Inquilab Desk

کئی والدین کو محسوس ہوتا ہے کہ غلطی ہو جانے پر بچوں سے معافی مانگنا یعنی انہیں ’سوری‘ کہہ دینے سے بچوں کے سامنے ان کی عزت کم ہو جائے گی مگر ماہرین کہتے ہیں کہ حقیقت میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ اپنی غلطی کو قبول کرنے اور اس کیلئے معافی مانگنے سے بچوں کی نظر میں والدین کی عزت بڑھتی ہے

Parents with Childrens - Pic : INN
والدین بچوں کے ساتھ ۔ تصویر : آئی این این

ہم بچوں کو ان کی غلطیوں کیلئے اکثر کہتے ہیں ’’چلو بیٹا ’سوری‘ بولو۔‘‘ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے بچوں کو یہ علم ہوتا کہ غلط رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے اور ایسا کرنے پر ’سوری‘ یعنی معافی مانگ کر افسوس کا اظہار کرنا چاہئے اور ساتھ ہی سبق حاصل کرنا چاہئے مگر تب کیا کرنا چاہئے جب معافی مانگنے کی باری آپ کی ہو؟ کیا بچوں سے معافی مانگنا ضروری ہے؟ اگر ہاں، تو اس کا درست طریقہ کیا ہے؟ آپ کے ذریعے کی گئی غلطی پر معافی مانگنے سے ان پر کیا اثر ہوگا؟
’سوری‘ کہنے سے کیوں جھجکتے ہیں والدین؟
 کئی والدین کو محسوس ہوتا ہے کہ غلطی ہو جانے پر بچوں سے معافی مانگنے یعنی انہیں ’سوری‘ کہہ دینے سے ان کے سامنے ان کی عزت کم ہو جائے گی۔ بچے ان کا مذاق اڑا سکتے ہیں یا آگے سے ان کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے مگر ماہرین کہتے ہیں کہ حقیقت میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ اپنی غلطی کو قبول کرنے اور اس کے لئے معافی مانگنے سے بچوں کی نظر میں والدین کی عزت بڑھتی ہے۔ بچے ان بڑوں کی زیادہ عزت کرتے ہیں جو اپنی غلطی قبول کرتے ہیں، بجائے ان کے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بڑے کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتے۔ بڑوں کے ذریعے کہے گئے ’سوری‘ سے بچہ یہ سمجھتا ہے کہ اپنی غلطی قبول کرنی چاہئے اور اسے سدھارنے کی بھی کوشش کی جانی چاہئے۔ رہی بات آپ کے اس ڈر کی کہ بچہ آپ سے نہیں ڈرے گا یا آپ کی بات پر سنجیدگی سے غور نہیں کرے گا، یہ پوری طرح سے بے بنیاد خیال ہے۔ بچے اتنے تو سمجھدار ہوتے ہی ہیں کہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ گھر میں ’باس‘ کون ہے تو یہ سمجھ لیجئے کہ ’سوری‘ کہنے سے آپ کی عزت میں کمی نہیں آئے گی بلکہ اور بڑھ جائے گی۔
بچے معافی نہیں مانگنے کا مطلب کیا سمجھتے ہیں؟
 آپ اپنی غلطی کو بھلے ہی قبول نہ کریں مگر واقعی آپ سے غلطی ہوئی ہے تو بچے یہ بات جان لیتے ہیں۔ ایسے میں اگر آپ اپنی غلطی کے لئے ’سوری‘ نہیں کہہ کر بچے کو یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں:
 ’سوری‘ کہنا کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے کچھ برا کر دیا ہے۔
 کچھ بچے تو یہ بھی سمجھ لیتے ہیں کہ ’سوری‘ کہنے کا مطلب ہے آپ ’برے‘ ہیں۔
 چھوٹی موٹی غلطیوں کو نظرانداز کر دینے میں کوئی برائی نہیں ہے۔
 جب آپ معافی مانگتے ہیں تو اپنے ’اسٹیٹس‘ کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہیں۔
 جب تک آپ سے کوئی کہے نہیں، معافی مانگنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
آپ معافی مانگ کر بچوں کو کیا سکھا رہے ہوتے ہیں؟
 اپنی غلطی پر آپ کے ’سوری‘ کہنے سے بچہ بغیر کچھ سمجھائیں یہ باتیں سیکھ جاتا ہے:
 ہم چھوٹے ہوں یا بڑے، غلطی کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔ ہمیں غلطی کو چھپانے کے بجائے اسے قبول کرنے اور سدھارنے پر توجہ دینا چاہئے۔
ہم  جانے انجانے کبھی کبھی لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا دیتے ہیں۔ ایسے میں بہت ضروری ہے کہ سامنے والے سے معافی مانگ لی جائے۔ اس سے رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ سامنے والا اچھا محسوس کرتا ہے۔
معافی مانگ کر ہم ’چھوٹے‘ نہیں ہو جاتے بلکہ سامنے والے کی نظروں میں ہم تھوڑے اور ’بڑے‘ ہو جاتے ہیں۔
 اپنی غلطی کو قبول کرنے میں کسی بھی طرح کی شرمندگی نہیں ہونی چاہئے۔ دراصل، ہم غلطی قبول کرکے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر تے ہیں۔
 اس سے سب سے پہلی بات تو یہ ہوگی کہ آپ دونوں کے درمیان اعتماد اور محبت بڑھے گی۔ آپ خود ’سوری‘ بول کر ان کے سامنے ایک مثال قائم کرتے ہیں۔ آج نہیں تو آگے چل کر اس کو آپ کی اس سیکھ پر فخر محسوس ہوگا۔
 وہ گھر اور باہر سبھی جگہ لوگوں کو چہیتا بنے گا۔ لوگ اس کی سمجھداری کے قائل ہو جائیں گے۔
کب اور کیسے بولیں بچوں کو ’سوری‘؟
آپ جب بھی ’سوری‘ کہیں تو صرف رسمی نہ کہیں۔ ’سوری‘ کہنے کا مطلب ہے آپ اپنی کسی بات یا کام کیلئے شرمندہ ہے۔ یہ آپ کے ’سوری‘ کہنے کے انداز سے ظاہر ہونا چاہئے۔ آپ کو اپنی غلطی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ’سوری‘ کہنا چاہئے۔
جب بچے کو ’سوری‘ بول رہے ہوں تو اسے بتائیں کہ آپ کو کس بات کے لئے افسوس ہے۔ وہ کون سی بات ہو گئی جس کے سبب آپ افسردہ ہوگئے تھے یہ بھی بتائیں۔ ہاں، معافی مانگ کر غلطی کا ذمہ دار بچوں کو ٹھہرانے سے گریز کریں۔
 معافی مانگنے کے فوراً بعد ہنسی مذاق کرنے یا اسی غلطی کو دہرانے سے گریز کریں۔ اس سے بچہ ’سوری‘ کو محض ایک رسمی ادائیگی سمجھ لے گا اور اس کے لئے یہ صرف باتوں کو نظرانداز کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔
 بچوں کو اپنی غلطی قبول کرنا بھی سکھائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK