عمر، صحت، غصہ کنٹرول کرنے اورلیڈرشپ میں خواتین آگے

Updated: March 16, 2020, 3:40 PM IST | Inquilab Desk

مختلف تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ خواتین نہ صرف بیماری سے لڑنے میں زیادہ مضبوط ہوتی ہیں بلکہ وہ دفتر کے کام کاج میں بھی آگے ہیں۔ یہ تحقیق خواتین کو کمزور سمجھنے والی شبیہ کو بدلنے کیلئے کافی ہے۔ اس مضمون میں ۵؍ مختلف تحقیق کا ذکر کیا جا رہا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ خواتین ہر محاذ پر آگے ہیں

Women in ofiice - Pic : INN
دفتر میں خاتون ۔ تصویر : آئی این این

مختلف تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ خواتین لمبی عمر جی سکتی ہے، کورونا وائرس سے لڑنے میں بھی خواتین زیادہ مضبوط ہے، انہیں غصہ بھی کم آتا ہے، وہ آفس میں بھی زیادہ بہتر نتائج دیتی ہیں اور لیڈر شپ کی صلاحیت  بھی کافی ہے۔ اتنا سب کچھ ریسرچ کے ذریعے ثابت ہوچکا ہے، یہ تحقیق خواتین کو کمزور سمجھنے والی شبیہ کو بدلنے کیلئے کافی ہے۔ یہاں ۵؍ مختلف تحقیق کا ذکر کیا جا رہا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ خواتین ہر محاذ پر آگے ہیں:
دفتری کام میں آگے
 ۲۰۱۹ء میں آئی کیٹلیسٹ کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر کی ۳۹؍ فیصد خواتین ہی ملازمت پیشہ ہیں۔ صرف ہندوستان میں ہی ۲۲؍ فیصد سے کم خواتین ملازمت پیشہ ہیں۔ یعنی ۱۰۰؍ لوگوں پر مشتمل دفتر میں ۲۲؍ سے بھی کم خواتین۔ ان اعداد و شمار کے بعد زیادہ تر لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ خواتین کام نہیں کر سکتیں، کیونکہ انہیں کام سے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہیں لیکن جب دفتری کارگزاری کی بات آتی ہے یعنی پروڈکٹیویٹی کی تو خواتین مردوں سے زیادہ بہتر ثابت ہوتی ہیں۔ ۲۰۱۸ء میں پروڈکٹیویٹی پلیٹ فارم ہائی وے نے ایک ریسرچ کیا تھا۔ اس کے مطابق، خواتین مردوں کی بہ نسبت ۱۰؍ فیصد زیادہ بہتر کارگزاری انجام دیتی ہیں۔ ہائی وے کا ریسرچ یہ بتاتا ہے کہ دفتر میں خواتین کو مردوں کے مقابلے ۱۰؍ فیصد زیادہ کام بھی دیا جاتا ہے۔
بیماری کا مقابلہ
 ڈبلیو ایچ او کے مطابق، ۴؍ مارچ تک دنیا بھر سے کورونا وائرس کے ۹۳؍ ہزار ۹۰؍ معاملے سامنے آچکے ہیں۔ چین کے سینٹر فار ڈیسیز کنٹرون اینڈ پروینشن کی رپورٹ بتاتی ہے کہ کورونا وائرس سے مرنے والوں میں خواتین کی بہ نسبت مردوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مردوں کی شرح اموات ۲ء۸؍ فیصد ہے اور خواتین کا ۱ء۷؍ ہے۔ یعنی، مرنے والے ۵؍ لوگوں میں ۳؍ مرد اور ۲؍ خواتین ہیں۔ ۲۰۰۳ء میں جب ہانگ کانگ میں سارس وائرس پھیلا تھا، تب بھی مرنے والوں میں خواتین کے مقابلے ۵۰؍ فیصد زیادہ مرد تھے۔ ایسا اس لئے ہے کہ انفیکشن کے معاملے میں خواتین کی بہ نسبت مردوں کا مدافعتی نظام زیادہ کمزور ہوتا ہے۔
طویل عمر
 خواتین طویل عمر جیتی ہیں، اس کا جواب صاف طور پر تو کسی کو نہیں معلوم ہے لیکن متعدد تحقیق کے مطابق خواتین لمبی عمر پاتی ہیں۔ امریکہ کے نارتھ کیرولینا کی ڈیوک یونیورسٹی نے ۲۵۰؍ سال کے میڈیکل ریکارڈ پر ریسرچ کیا گیا اور پایا کہ مردوں کی بہ نسبت خواتین طویل عمر جیتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں، نوزائیدہ بچے کے مقابلے نوزائیدہ بچیاں زیادہ جی پاتی ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ مردوں کی گلوبل ایوریج لائف ایکس پیکٹینسی ۶۸؍ سال ۴؍ مہینے ہے جبکہ خواتین کی ۷۲؍ سال ۸؍ ماہ۔ یعنی خواتین مردوں کی بہ نسبت ۴؍ سال ۴؍ ماہ زیادہ جیتی ہیں۔
لیڈر شپ کوالیٹی کے معاملے میں
 لیڈر شپ کوالیٹی کے معاملے میں خواتین کو کمتر ہی سمجھا جاتا ہے۔ اکثر لوگ یہی کہتے پائے جاتے ہیں کہ خاتون ہے، کیا لیڈر بنے گی؟ آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ جس پارلیمنٹ میں ملک کا مستقبل طے ہوتا ہے، وہاں ۲۵؍ فیصد سے بھی کم خواتین ہیں۔ لوک سبھا میں خاتون ممبران پارلیمنٹ ۱۵؍ فیصد سے بھی کم ہے۔ راجیہ سبھا میں تو ان کی تعداد ۱۰؍ فیصد سے تھوڑی ہی زیادہ ہے۔ مگر، ہاؤ ورڈ بزنس ریویو (ایچ بی آر) نے ریسرچ میں بتایا ہے کہ لیڈرشپ کوالیٹی کے معاملے میں خواتین مردوں سے کہیں زیادہ بہتر ہوتی ہیں۔ ایچ بی آر نے اپنے ریسرچ میں لیڈر شپ کوالیٹی کے ۱۹؍ پوائنٹس بتائے ہیں۔ ان میں سے ۱۷؍ پوائنٹس میں خواتین مردوں سے آگے رہیں۔ صرف ۲؍ معاملے میں ہی مرد خواتین سے بہتر ثابت ہوئے، لیکن اس کا فرق بھی بہت کم ہی تھا۔ ایچ بی آر کی رپورٹ کے مطابق، ۶۰؍ سال سے زائد عمر ہونے کے بعد مردوں میں جہاں اعتماد کم ہونے لگتا ہے، وہیں اس کے برعکس خواتین میں اعتماد کا تناسب بڑھتا ہے۔
گھر یا دفتر میں غصہ کنٹرول کرنے کا معاملہ
 آفس میں زیادہ کام آگیا تو غصہ آگیا۔ ٹریفک میں پھنس گئے تو غصہ آگیا۔ ہم ذرا ذرا سی بات پر غصہ ہو جاتے ہیں۔ اس ’ہم‘ میں بھی مرد زیادہ اور خواتین کم ہوتی ہیں۔ ٹاٹا سالٹ کے سروے میں ۶۸؍ فیصد مرد اور ۵۴؍ فیصد خواتین نے قبول کیا کہ اگر چھٹی کے دن آفس کا کوئی کام آجاتا ہے تو انہیں غصہ آجاتا ہے۔ ٹریفک جام میں پھنس جانے پر غصہ آنے کے سوال میں بھی ۵۷؍ مرد اور ۵۵؍ فیصد خواتین نے ہامی بھری۔ اتنا ہی نہیں، ۶۴؍ فیصد مرد اور ۶۱؍ خواتین نے یہ قبول کیا کہ اگر کوئی ان کی اجازت کے بغیر ان کا فون چارجنگ سے نکال دے تو انہیں غصہ آ جاتا ہے۔ ۶۹؍ مرد اور ۶۵؍ خواتین، وائی فائی یا انٹرنیٹ کنکشن بند ہونے پر جھنجھلا جاتے ہیں۔ اعداد و شمار پر یقین کیا جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مرد، خواتین کی بہ نسبت زیادہ غصہ کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK