Inquilab Logo

راجستھان کے دس تاریخی مقامات

Updated: May 31, 2024, 6:40 PM IST | Afzal Usmani

ہندوستان کی ریاستوں میںراجستھان کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ریاست راجستھا ن کے شہر ’جے پور‘ اور’ جودھپور‘ اپنے تاریخی قلعے اور محلات کیلئے ہندوستان سمیت دنیا بھر میں مشہور ہیں۔یہاں تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے سیاحوں کیلئے خاصا سامان ہے۔پڑھئے راجستھان کے ۱۰؍ تاریخی مقامات۔ تمام تصاویر: آئی این این / یوٹیوب

X ہوا محل(Hawa Mahal): ہوا محل جے پور میں واقع سرخ اور گلابی پتھروں سے بنی ایک عمارت ہے۔ ۱۷۹۹ء میں اسے مہاراجا سوائی پرتاپ سنگھ نے تعمیر کروایا تھا۔ یہ دور سے شہد کے چھتے کی طرح نظر آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اس لئے بنایا گیا تھا تاکہ محل میں رہنے والی خواتین باہر کا نظارہ پردے میں رہ کر کر سکیں۔
1/10

ہوا محل(Hawa Mahal): ہوا محل جے پور میں واقع سرخ اور گلابی پتھروں سے بنی ایک عمارت ہے۔ ۱۷۹۹ء میں اسے مہاراجا سوائی پرتاپ سنگھ نے تعمیر کروایا تھا۔ یہ دور سے شہد کے چھتے کی طرح نظر آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اس لئے بنایا گیا تھا تاکہ محل میں رہنے والی خواتین باہر کا نظارہ پردے میں رہ کر کر سکیں۔

X عنبر قلعہ(Amber Fort): اس قلعہ کی بنیاد راجا مان سنگھ نے رکھی تھی۔ اس محل میں شیش محل بھی موجود ہے۔ شیش محل کو اس طرح تعمیر کیا گیا کہ جب سورج کی ایک کرن شیشے کے کسی ایک ٹکڑے سے ٹکراتی ہے تو محل کا پورا ہال روشن ہو جاتا ہے۔ 
2/10

عنبر قلعہ(Amber Fort): اس قلعہ کی بنیاد راجا مان سنگھ نے رکھی تھی۔ اس محل میں شیش محل بھی موجود ہے۔ شیش محل کو اس طرح تعمیر کیا گیا کہ جب سورج کی ایک کرن شیشے کے کسی ایک ٹکڑے سے ٹکراتی ہے تو محل کا پورا ہال روشن ہو جاتا ہے۔ 

X جل محل (Jal Mahal): جل محل کو مان ساگر جھیل کے درمیان تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ ۵؍ منزلہ عمارت ہے۔ تاہم، جھیل میں پانی بھرنے کی صورت میں اس کی ۴؍ منزل پانی میں ڈوب جاتی ہیں۔ جل محل تک پہنچنے کیلئے کشتیوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ 
3/10

جل محل (Jal Mahal): جل محل کو مان ساگر جھیل کے درمیان تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ ۵؍ منزلہ عمارت ہے۔ تاہم، جھیل میں پانی بھرنے کی صورت میں اس کی ۴؍ منزل پانی میں ڈوب جاتی ہیں۔ جل محل تک پہنچنے کیلئے کشتیوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ 

X جے گڑھ کا قلعہ(Jaigad Fort): اسے ۱۷۲۶ء میں جے سنگھ دوم نے تعمیر کروایا تھا۔ اسے ’فتح کا قلعہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قلعہ ۳؍ کلومیٹر کے رقبہ پر پھیلا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قلعہ پرانی سائنس اور ٹیکنالوجی کا بہترین نمونہ ہے۔
4/10

جے گڑھ کا قلعہ(Jaigad Fort): اسے ۱۷۲۶ء میں جے سنگھ دوم نے تعمیر کروایا تھا۔ اسے ’فتح کا قلعہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قلعہ ۳؍ کلومیٹر کے رقبہ پر پھیلا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قلعہ پرانی سائنس اور ٹیکنالوجی کا بہترین نمونہ ہے۔

X سٹی پیلس (City Palace): جے پور شہر کے وسط میں استادہ سٹی پیلس راجپوت اور مغل طرز تعمیر کا شاندار نمونہ ہے۔ اسے مہاراجا سوائی جے سنگھ دوم نے تعمیر کروایا تھا۔ اسی محل میں چندرا محل اور مبارک محل بھی واقع ہیں۔ اس محل کے ایک حصے کو میوزیم میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ 
5/10

سٹی پیلس (City Palace): جے پور شہر کے وسط میں استادہ سٹی پیلس راجپوت اور مغل طرز تعمیر کا شاندار نمونہ ہے۔ اسے مہاراجا سوائی جے سنگھ دوم نے تعمیر کروایا تھا۔ اسی محل میں چندرا محل اور مبارک محل بھی واقع ہیں۔ اس محل کے ایک حصے کو میوزیم میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ 

X چتوڑ گڑھ کا قلعہ(Chittorgarh Fort): یہ قلعہ یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ میں شمار ہوتا ہے۔ ۱۳۰۳ء میں دہلی کے سلطان علاؤالدین خلجی نے میواڑ کے مہاراجہ رانا رتن سنگھ کو اسی قلعے پر شکست دی تھی۔ ۱۵۳۵ء میں گجرات کے حکمراں بہادر شاہ نے بکرم جیت سنگھ کو شکست دے کر قلعہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ ۱۵۶۷ء میں اکبر نے مہارانا ادے سنگھ کو شکست دے کر یہ قلعہ فتح کر لیا تھا جو اپنی بہادری اور قربانیوں کیلئے آج بھی مشہور ہے۔ ممبئی سے چتوڑ گڑھ کیلئے براہ راست ۳؍ ٹرینیں ہیں۔
6/10

چتوڑ گڑھ کا قلعہ(Chittorgarh Fort): یہ قلعہ یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ میں شمار ہوتا ہے۔ ۱۳۰۳ء میں دہلی کے سلطان علاؤالدین خلجی نے میواڑ کے مہاراجہ رانا رتن سنگھ کو اسی قلعے پر شکست دی تھی۔ ۱۵۳۵ء میں گجرات کے حکمراں بہادر شاہ نے بکرم جیت سنگھ کو شکست دے کر قلعہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ ۱۵۶۷ء میں اکبر نے مہارانا ادے سنگھ کو شکست دے کر یہ قلعہ فتح کر لیا تھا جو اپنی بہادری اور قربانیوں کیلئے آج بھی مشہور ہے۔ ممبئی سے چتوڑ گڑھ کیلئے براہ راست ۳؍ ٹرینیں ہیں۔

X مہران گڑھ کا قلعہ(Mehrangarh Fort): اس قلعہ کا شمار راجستھان کے بڑے قلعوں میں ہوتا ہے جو جودھپور میں ۴۰۰؍ فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کی بنیاد مارواڑ خاندان نے ۱۲؍ مئی ۱۴۵۹ء کو رکھی تھی۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس قلعہ میں دوسرے مغل شہنشاہ ہمایوں نے شیر شاہ سوری سے شکست کے بعد پناہ لی تھی۔ 
7/10

مہران گڑھ کا قلعہ(Mehrangarh Fort): اس قلعہ کا شمار راجستھان کے بڑے قلعوں میں ہوتا ہے جو جودھپور میں ۴۰۰؍ فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کی بنیاد مارواڑ خاندان نے ۱۲؍ مئی ۱۴۵۹ء کو رکھی تھی۔ مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس قلعہ میں دوسرے مغل شہنشاہ ہمایوں نے شیر شاہ سوری سے شکست کے بعد پناہ لی تھی۔ 

X جسونت تھڑا(Jaswant Thada): اسےجودھپور کی تاریخی عمارتوں میں سب سے منفرد خیال کیا جاتا اور مارواڑ کا تاج محل بھی کہا جاتا ہے۔ جسونت تھڑا جودھپور کے ۳۳؍ ویں حکمراں مہاراجہ جسونت سنگھ دوم سے منسوب ہے۔ ۱۸۹۹ء میں اسے مہاراجہ سردار سنگھ نے اپنے والد کیلئے تعمیر کروایا تھا۔
8/10

جسونت تھڑا(Jaswant Thada): اسےجودھپور کی تاریخی عمارتوں میں سب سے منفرد خیال کیا جاتا اور مارواڑ کا تاج محل بھی کہا جاتا ہے۔ جسونت تھڑا جودھپور کے ۳۳؍ ویں حکمراں مہاراجہ جسونت سنگھ دوم سے منسوب ہے۔ ۱۸۹۹ء میں اسے مہاراجہ سردار سنگھ نے اپنے والد کیلئے تعمیر کروایا تھا۔

X جونا گڑھ کا قلعہ(Junagarh Fort): جودھپور اور جے پور سے قریب ہی شہر بیکانیر واقع ہے جہاں جوناگڑھ کا قلعہ ہے۔ ۱۵۸۷ء میں اسے راجہ جے سنگھ نے تعمیر کروایا تھا۔ اس میں چندر محل، پھول محل، کرن محل اور میوزیم بھی موجود ہے۔
9/10

جونا گڑھ کا قلعہ(Junagarh Fort): جودھپور اور جے پور سے قریب ہی شہر بیکانیر واقع ہے جہاں جوناگڑھ کا قلعہ ہے۔ ۱۵۸۷ء میں اسے راجہ جے سنگھ نے تعمیر کروایا تھا۔ اس میں چندر محل، پھول محل، کرن محل اور میوزیم بھی موجود ہے۔

X جسلمیر کا قلعہ(Jaisalmer Fort): جودھپور سے ۲۸۵؍ کلومیٹر کے فاصلے پر جسلمیر شہر ہے۔ یہاں موجود جسلمیر کے قلعے کو راجستھان کا سنہرا قلعہ بھی کہا جاتا ہے۔ اسے راجا جیسل نے ۱۱۵۶ء میں تعمیر کروایا تھا۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسے تعمیر کرنے کیلئے سنہرے اور زرد رنگوں کی اینٹیں استعمال کی گئی ہیں۔
10/10

جسلمیر کا قلعہ(Jaisalmer Fort): جودھپور سے ۲۸۵؍ کلومیٹر کے فاصلے پر جسلمیر شہر ہے۔ یہاں موجود جسلمیر کے قلعے کو راجستھان کا سنہرا قلعہ بھی کہا جاتا ہے۔ اسے راجا جیسل نے ۱۱۵۶ء میں تعمیر کروایا تھا۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے قلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسے تعمیر کرنے کیلئے سنہرے اور زرد رنگوں کی اینٹیں استعمال کی گئی ہیں۔

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK