• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

انسان، جانوروں/پرندوں سے کیا سیکھ سکتا ہے: پہلی قسط

Updated: Jan 25, 2024, 5:34 PM IST | Afzal Usmani

خدا نے کائنات کی ہر چیز میں توازن رکھا ہے۔ کرۂ ارض اور انسانوں کی بقاء کیلئے جہاں ہوا بارش اور کھیت کھلیان وغیرہ اہم ہیں، وہیں چرند و پرند اور حشرات الارض کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ذیل میں پڑھئے کہ انسان جانداروں سے کیا سیکھ سکتا ہے۔ تمام تصاویر:آئی این این/ یوٹیوب

X بطخ(Duck): بطخ ،اپنی رہائش، خوراک ،سماجی ساخت ، برفیلے پانیوں سے لے کر گرم پانیوں تک ہر حالات میں خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انسان بھی خود کو حالات کے موافق ڈھال کر زندگی کے چیلنجز اور پریشانیوں کابحسن خوبی مقابلہ کرسکتا ہے۔ بطخ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے اکثرجھنڈ کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ وہ اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کیلئے تیار رہتی ہے۔ یہ انسانوں کیلئے اہم سبق ہے کہ جب ہم مل کر کام کریں گے تو ہم بھی بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔بطخ زندگی کی سادہ اورمعمولی خوشیوں سے لطف اندوز ہوتی ہے ، چاہے وہ تالاب میں تیرنا ہو یا دھوپ میں ٹہلنا ،وہ نہایت سکون سے اور بغیر کسی فکر کے انجام دیتی ہے ۔ ہمیںبھی زندگی میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی طرف توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ بطخ کی سب سے بڑی خوبی استقامت ہے۔وہ اپنے مقصدکو حاصل کرنے تک محنت کرتی ہے اور ہار نہیں مانتی۔وہ ہر حال میں ثابت قدم رہتی ہے۔ غور کیا جائے تو یہی کامیابی کی کلید ہے۔ وہ ہمیں خاندان کے ساتھ بہتر تعلقات اور معاشرتی زندگی میں اپنے مضبوط کردار کی اہمیت کا بھی سبق دیتی ہے۔
1/10

بطخ(Duck): بطخ ،اپنی رہائش، خوراک ،سماجی ساخت ، برفیلے پانیوں سے لے کر گرم پانیوں تک ہر حالات میں خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انسان بھی خود کو حالات کے موافق ڈھال کر زندگی کے چیلنجز اور پریشانیوں کابحسن خوبی مقابلہ کرسکتا ہے۔ بطخ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے اکثرجھنڈ کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ وہ اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کیلئے تیار رہتی ہے۔ یہ انسانوں کیلئے اہم سبق ہے کہ جب ہم مل کر کام کریں گے تو ہم بھی بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔بطخ زندگی کی سادہ اورمعمولی خوشیوں سے لطف اندوز ہوتی ہے ، چاہے وہ تالاب میں تیرنا ہو یا دھوپ میں ٹہلنا ،وہ نہایت سکون سے اور بغیر کسی فکر کے انجام دیتی ہے ۔ ہمیںبھی زندگی میں چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی طرف توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ بطخ کی سب سے بڑی خوبی استقامت ہے۔وہ اپنے مقصدکو حاصل کرنے تک محنت کرتی ہے اور ہار نہیں مانتی۔وہ ہر حال میں ثابت قدم رہتی ہے۔ غور کیا جائے تو یہی کامیابی کی کلید ہے۔ وہ ہمیں خاندان کے ساتھ بہتر تعلقات اور معاشرتی زندگی میں اپنے مضبوط کردار کی اہمیت کا بھی سبق دیتی ہے۔

X گھوڑا(Horse): گھوڑا بہت کم بو لتا ہے البتہ وہ ایک اچھا سامع ہو تا ہے ۔ ساتھ ہی اس کی باڈی لینگویج ، اظہار جذبات کا ذریعہ ہوتی ہے ۔دیکھا جائے تو کامیاب انسانوں کی صفات میں یہ دونوں چیزیں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ گھوڑے اپنے ریوڑ میں دوسروں کے کردار اور جذبات کا احترام اور ان کا تعاون کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔اگر انسان بھی ان صفات کو اپنالے تو وہ ایک کامیاب سماجی زندگی گزار سکتا ہے۔گھوڑا طاقتور اور بے خوف جانور ہے۔در اصل گھوڑے کی طاقت اور رفتار کے پیچھے اس کی خود اعتمادی ہوتی ہے۔انسان بھی خود اعتمادی کے ذریعہ زندگی میں مشکل حالات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔گھوڑے اپنے تعلقات میں بہت پختہ ہوتے ہیں ۔وہ بہت جلد کسی سے مانوس نہیں ہوتے لیکن جو اُن کے نزدیک قابل اعتبار ہوجاتا ہے وہ آخر تک ان سے وفا کرتے ہیں۔گھوڑوں کی یہ صفات انسانوں کو وفاداری اور فرمانبرداری کا اعلیٰ درس دیتی ہیں۔ گھوڑا ایک محنت کش جانور خیال کیا جاتا ہے۔گھوڑوں سے انسان محنت کشی اور ذہنی و جسمانی مشقت کی اہمیت سیکھ سکتا ہے۔ وہ کبھی بھی محنت و مشقت سے جی نہیں چراتے۔انسان بھی اپنے مقصد کے حصول کیلئے سخت محنت کرکےکامیاب بن سکتا ہے۔
2/10

گھوڑا(Horse): گھوڑا بہت کم بو لتا ہے البتہ وہ ایک اچھا سامع ہو تا ہے ۔ ساتھ ہی اس کی باڈی لینگویج ، اظہار جذبات کا ذریعہ ہوتی ہے ۔دیکھا جائے تو کامیاب انسانوں کی صفات میں یہ دونوں چیزیں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ گھوڑے اپنے ریوڑ میں دوسروں کے کردار اور جذبات کا احترام اور ان کا تعاون کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔اگر انسان بھی ان صفات کو اپنالے تو وہ ایک کامیاب سماجی زندگی گزار سکتا ہے۔گھوڑا طاقتور اور بے خوف جانور ہے۔در اصل گھوڑے کی طاقت اور رفتار کے پیچھے اس کی خود اعتمادی ہوتی ہے۔انسان بھی خود اعتمادی کے ذریعہ زندگی میں مشکل حالات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔گھوڑے اپنے تعلقات میں بہت پختہ ہوتے ہیں ۔وہ بہت جلد کسی سے مانوس نہیں ہوتے لیکن جو اُن کے نزدیک قابل اعتبار ہوجاتا ہے وہ آخر تک ان سے وفا کرتے ہیں۔گھوڑوں کی یہ صفات انسانوں کو وفاداری اور فرمانبرداری کا اعلیٰ درس دیتی ہیں۔ گھوڑا ایک محنت کش جانور خیال کیا جاتا ہے۔گھوڑوں سے انسان محنت کشی اور ذہنی و جسمانی مشقت کی اہمیت سیکھ سکتا ہے۔ وہ کبھی بھی محنت و مشقت سے جی نہیں چراتے۔انسان بھی اپنے مقصد کے حصول کیلئے سخت محنت کرکےکامیاب بن سکتا ہے۔

X عقاب(Eagle): عقاب کی انوکھی صفت ہے کہ یہ چیزیں جلدی سیکھتا ہے۔ انسان بھی اپنی قابلیت پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ صفت اپنا سکتا ہے۔یہ پرندہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اونچی اڑان بھرتا ہے۔ انسان کو بھی اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا چاہئے اور مثبت ذہن کے ساتھ اونچی اڑان بھرنا چاہئے۔ شکار پر اس کی تیز نظریں انسان کو سکھاتی ہے کہ وہ اپنے ہدف پر مسلسل نظر رکھے اور وہاں تک پہنچنے کیلئے جدوجہد کرے۔عقاب کی بے خوفی یہ سکھاتی ہے کہ اپنی طاقت پر بھروسہ رکھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کریں۔کسی بھی ماحول میں اپنے آپ کو ڈھال لینے کی اس کی صلاحیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں بھی مشکل حالات میں گھبرانے کے بجائے اس کا جواں مردی سے سامنا کرنا چاہئے۔آندھی یا بارش میں یہ پرندہ اپنی پوری قوت سے پرواز کرتے ہوئے بادلوں سے اوپر چلا جاتا ہے جو انسان کو سکھاتا ہے کہ مسئلہ کا حل مسئلہ میں رہ کر نہیں بلکہ اس سے باہر آکر تلاش کریں۔
3/10

عقاب(Eagle): عقاب کی انوکھی صفت ہے کہ یہ چیزیں جلدی سیکھتا ہے۔ انسان بھی اپنی قابلیت پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ صفت اپنا سکتا ہے۔یہ پرندہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اونچی اڑان بھرتا ہے۔ انسان کو بھی اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا چاہئے اور مثبت ذہن کے ساتھ اونچی اڑان بھرنا چاہئے۔ شکار پر اس کی تیز نظریں انسان کو سکھاتی ہے کہ وہ اپنے ہدف پر مسلسل نظر رکھے اور وہاں تک پہنچنے کیلئے جدوجہد کرے۔عقاب کی بے خوفی یہ سکھاتی ہے کہ اپنی طاقت پر بھروسہ رکھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا کریں۔کسی بھی ماحول میں اپنے آپ کو ڈھال لینے کی اس کی صلاحیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں بھی مشکل حالات میں گھبرانے کے بجائے اس کا جواں مردی سے سامنا کرنا چاہئے۔آندھی یا بارش میں یہ پرندہ اپنی پوری قوت سے پرواز کرتے ہوئے بادلوں سے اوپر چلا جاتا ہے جو انسان کو سکھاتا ہے کہ مسئلہ کا حل مسئلہ میں رہ کر نہیں بلکہ اس سے باہر آکر تلاش کریں۔

X مرغی(Hen): مرغی اپنے اہم کام نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیتی ہے۔ منصوبہ بندی کامیابی کیلئے ایک لازمی عنصر ہے۔ تمام چیزیں جو انسان کرتا ہے، اسٹریٹجک ہونا ضروری ہے۔ منصو بہ بندی ہمارے کام اور کوششوں کو بہتر بناتی ہے۔ مرغی نظم و ضبط کی پابند ہوتی ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس میں سیلف ڈسپلن بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔نظم و ضبط ایک کامیاب زندگی کا کلیدی عنصر ہے۔اگرہم زندگی میں کامیاب بننا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے خود کو نظم و ضبط کا پابند بنانا ہوگا ۔مرغی غیر متعصب اور سخی ہوتی ہے۔وہ دوسری مرغی کے انڈوں پر بھی بیٹھ سکتی ہے۔امتیازی سلوک نے کئی افراد کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا ہے۔مرغی کی یہ صفت انسانوں کو سخاوت اور غیر متعصبانہ رویہ اپنانے کا عظیم درس دیتی ہے۔حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں،مرغی کبھی ہمت نہیں ہارتی۔ وہ صبر، استقامت اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مصائب کا مقابلہ کرتی ہے۔زندگی کی مہم جوئی میں انسانوں کو بھی، صبر، ثابت قدمی اور بے باکی سے مسائل کا سامنا کرنا چاہئے۔مرغی اپنے کاموں میں حساس اور پر اعتماد ہوتی ہے۔انسان بھی اپنے کام کے تئیں پر اعتماد ہوجائے تو کامیابی قدم چومے گی۔
4/10

مرغی(Hen): مرغی اپنے اہم کام نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیتی ہے۔ منصوبہ بندی کامیابی کیلئے ایک لازمی عنصر ہے۔ تمام چیزیں جو انسان کرتا ہے، اسٹریٹجک ہونا ضروری ہے۔ منصو بہ بندی ہمارے کام اور کوششوں کو بہتر بناتی ہے۔ مرغی نظم و ضبط کی پابند ہوتی ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس میں سیلف ڈسپلن بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔نظم و ضبط ایک کامیاب زندگی کا کلیدی عنصر ہے۔اگرہم زندگی میں کامیاب بننا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے خود کو نظم و ضبط کا پابند بنانا ہوگا ۔مرغی غیر متعصب اور سخی ہوتی ہے۔وہ دوسری مرغی کے انڈوں پر بھی بیٹھ سکتی ہے۔امتیازی سلوک نے کئی افراد کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا ہے۔مرغی کی یہ صفت انسانوں کو سخاوت اور غیر متعصبانہ رویہ اپنانے کا عظیم درس دیتی ہے۔حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں،مرغی کبھی ہمت نہیں ہارتی۔ وہ صبر، استقامت اور ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مصائب کا مقابلہ کرتی ہے۔زندگی کی مہم جوئی میں انسانوں کو بھی، صبر، ثابت قدمی اور بے باکی سے مسائل کا سامنا کرنا چاہئے۔مرغی اپنے کاموں میں حساس اور پر اعتماد ہوتی ہے۔انسان بھی اپنے کام کے تئیں پر اعتماد ہوجائے تو کامیابی قدم چومے گی۔

X خرگوش(Rabbit): خرگوش سویرے اٹھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ بھرپور توانائی کے ساتھ آنے والے دن کیلئے تیار رہتے ہیں ۔انسان بھی ان سے سحر خیزی کی صفت سیکھ کر دن کی بہترین شروعات کرسکتا ہے۔ خرگوش معاف کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کسی سے زیادہ دیر تک رنجش نہیں رکھتے ہیں ۔دوسرے کو جلد معاف کردینے اور دل کو رنجشوں سے پاک کرنے کی یہ خوبی انسان کو اعلیٰ کر داراور صفات کا حامل بناتی ہے۔ خرگوش اپنے پیاروں کے ساتھ ہمیشہ وفا دار رہتے ہیں۔ انسان بھی ان سےدرس وفا سیکھ کراپنوں کی نظر میں محترم بن سکتا ہے۔ خرگوش ہمیشہ وہی غذائیں کھاتے ہیں جو ان کے پیٹ اور صحت کو نقصان نہ پہنچائیں۔ انسانوں کو بھی چاہئے کہ وہ مضر اور نقصاندہ اشیا سے اجتناب کرتے ہوئے متوازن غذا کھائیں۔خرگوش اپنے ساتھیوں اور حلقوں کے درمیان بات چیت کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ انسان بھی یہ صفت اپنا کر اپنی سماجی و نجی زندگی کو بہتر اور کامیاب بنا سکتا ہے۔ 
5/10

خرگوش(Rabbit): خرگوش سویرے اٹھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ بھرپور توانائی کے ساتھ آنے والے دن کیلئے تیار رہتے ہیں ۔انسان بھی ان سے سحر خیزی کی صفت سیکھ کر دن کی بہترین شروعات کرسکتا ہے۔ خرگوش معاف کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کسی سے زیادہ دیر تک رنجش نہیں رکھتے ہیں ۔دوسرے کو جلد معاف کردینے اور دل کو رنجشوں سے پاک کرنے کی یہ خوبی انسان کو اعلیٰ کر داراور صفات کا حامل بناتی ہے۔ خرگوش اپنے پیاروں کے ساتھ ہمیشہ وفا دار رہتے ہیں۔ انسان بھی ان سےدرس وفا سیکھ کراپنوں کی نظر میں محترم بن سکتا ہے۔ خرگوش ہمیشہ وہی غذائیں کھاتے ہیں جو ان کے پیٹ اور صحت کو نقصان نہ پہنچائیں۔ انسانوں کو بھی چاہئے کہ وہ مضر اور نقصاندہ اشیا سے اجتناب کرتے ہوئے متوازن غذا کھائیں۔خرگوش اپنے ساتھیوں اور حلقوں کے درمیان بات چیت کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ انسان بھی یہ صفت اپنا کر اپنی سماجی و نجی زندگی کو بہتر اور کامیاب بنا سکتا ہے۔ 

X چیونٹی(Ant): چیونٹیاں نظم و نسق اور ڈسپلن کی پابند ہوتی ہیں۔ انسان بھی اپنے اندر ڈسپلن اور نظم و نسق کی صفات پیدا کرکے بہتر سماج کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے اور کامیاب ہوسکتا ہے۔چیونٹیوں کی ایک خاص صفت خیر خواہی بھی ہوتی ہے۔وہ دوسروں کو مشکل حالات سے آگاہ کراتی ہیں۔انسان بھی خیر خواہی کی یہ صفت اپنا کر اپنے رشتے استوار کرسکتا ہے۔ چیونٹیاں اپنی رانی کی مطیع اور فرمانبردار ہوتی ہیں اور اس کی ہر حکم کی تعمیل کرتی ہیں ۔انسان بھی اپنے بڑوں کی باتیں مان کر اور ان پر عمل کرکے کامیاب زندگی گزار سکتا ہے۔آپس میں کاموں کی منظم تقسیم چیونٹیوں کی اہم صفت ہے۔جو کام جس کے ذمہ ہوتا ہے وہ اسے پورا کرنے کا مکلف بھی ہوتا ہے۔ انسان اس صفت کو اپنا کر اپنے کام آسان کرسکتا ہے۔اس کی ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی صفت سکھاتی ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ماتحتوں کا بھی خیال رکھیں۔ یونٹیوں کا اتحاد یہ سکھاتا ہے کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر مسائل کا مقابلہ کریں ۔نہ صرف مشکلات میں بلکہ اہم امور کی انجام دہی میں بھی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں۔
6/10

چیونٹی(Ant): چیونٹیاں نظم و نسق اور ڈسپلن کی پابند ہوتی ہیں۔ انسان بھی اپنے اندر ڈسپلن اور نظم و نسق کی صفات پیدا کرکے بہتر سماج کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے اور کامیاب ہوسکتا ہے۔چیونٹیوں کی ایک خاص صفت خیر خواہی بھی ہوتی ہے۔وہ دوسروں کو مشکل حالات سے آگاہ کراتی ہیں۔انسان بھی خیر خواہی کی یہ صفت اپنا کر اپنے رشتے استوار کرسکتا ہے۔ چیونٹیاں اپنی رانی کی مطیع اور فرمانبردار ہوتی ہیں اور اس کی ہر حکم کی تعمیل کرتی ہیں ۔انسان بھی اپنے بڑوں کی باتیں مان کر اور ان پر عمل کرکے کامیاب زندگی گزار سکتا ہے۔آپس میں کاموں کی منظم تقسیم چیونٹیوں کی اہم صفت ہے۔جو کام جس کے ذمہ ہوتا ہے وہ اسے پورا کرنے کا مکلف بھی ہوتا ہے۔ انسان اس صفت کو اپنا کر اپنے کام آسان کرسکتا ہے۔اس کی ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی صفت سکھاتی ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ماتحتوں کا بھی خیال رکھیں۔ یونٹیوں کا اتحاد یہ سکھاتا ہے کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر مسائل کا مقابلہ کریں ۔نہ صرف مشکلات میں بلکہ اہم امور کی انجام دہی میں بھی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کریں۔

X لومڑی(Fox): لومڑی ، مکاری،عیاری اور فریب دہی میںبدنام سہی مگر وہ ایک سادہ اور پرسکون زندگی گزارتی ہے۔ لومڑی کی یہ صفت انسانوں کو سادہ اور آرام دہ زندگی گزارنے کا درس دیتی ہے۔لومڑی کسی بھی ماحول میں خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی خوراک کا انحصار بھی علاقے میں دستیاب خوراک پر ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی صورت حال کا بہترین فائدہ اٹھاتی ہے۔عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان نامساعد حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے خود کو اس حالات میں ڈھال لے اور موقع کا فائدہ اٹھائے۔لومڑی میں سننے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہےجو اسے اپنے شکار کی نشاندہی کرنے اور نشانہ بنانے میں مدد کرتی ہے۔وہ ہر وقت خود سے آگاہ اور باخبر رہتی ہے۔انسان بھی اپنے اندر کی صلاحیتوںکو پہچانے اور خود سے باخبر رہتے ہوئے ہدف پر توجہ مرکوز رکھے۔لومڑی بھوک نہ لگنے کے باوجود ہمیشہ کھانے کیلئے شکار کرتی ہے تاکہ بعد میں اس کا استعمال کیا جاسکے۔ہمیں بھی حال میں محنت کرتے ہوئے مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔لومڑی اپنے عمل اور فعل میں ثابت قدم رہتی ہے۔غور کیا جائے تو استقامت ہی وہ چیز ہے جو ناممکن کو ممکن بناتی ہے۔
7/10

لومڑی(Fox): لومڑی ، مکاری،عیاری اور فریب دہی میںبدنام سہی مگر وہ ایک سادہ اور پرسکون زندگی گزارتی ہے۔ لومڑی کی یہ صفت انسانوں کو سادہ اور آرام دہ زندگی گزارنے کا درس دیتی ہے۔لومڑی کسی بھی ماحول میں خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی خوراک کا انحصار بھی علاقے میں دستیاب خوراک پر ہوتا ہے۔ وہ کسی بھی صورت حال کا بہترین فائدہ اٹھاتی ہے۔عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان نامساعد حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے خود کو اس حالات میں ڈھال لے اور موقع کا فائدہ اٹھائے۔لومڑی میں سننے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہےجو اسے اپنے شکار کی نشاندہی کرنے اور نشانہ بنانے میں مدد کرتی ہے۔وہ ہر وقت خود سے آگاہ اور باخبر رہتی ہے۔انسان بھی اپنے اندر کی صلاحیتوںکو پہچانے اور خود سے باخبر رہتے ہوئے ہدف پر توجہ مرکوز رکھے۔لومڑی بھوک نہ لگنے کے باوجود ہمیشہ کھانے کیلئے شکار کرتی ہے تاکہ بعد میں اس کا استعمال کیا جاسکے۔ہمیں بھی حال میں محنت کرتے ہوئے مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔لومڑی اپنے عمل اور فعل میں ثابت قدم رہتی ہے۔غور کیا جائے تو استقامت ہی وہ چیز ہے جو ناممکن کو ممکن بناتی ہے۔

X طوطا(Parrot): طوطا اپنے دن کی شروعات ہشاش بشاش اور نئی توانائی کے ساتھ کرتا ہے۔ سستی اور کاہلی سے ہمیشہ دور رہتا ہے۔انسان بھی اپنے دن کا آغاز مسکرا کر اور خوش ہوکرکر ے تو دن یقیناً اچھا جائے گا ۔طوطا جسے عزیز رکھتا ہے اسے جوش و خروش کے ساتھ سلام کرتا ہے اوراس سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ملاقات کے دوران گرم جوشی سامنے والے فرد کے دل ودماغ پر اچھا اثر مرتب کرتی ہے۔طوطے میں کسی بھی چیز کوجلدی کیچ کرکے سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ انسانوں اور خصوصاً طلبہ کو چاہئے کہ وہ بھی نئی چیزوں کو سیکھنے میں از خود پہل کریں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں ۔ہماری زیادہ تر پریشانیوں کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور مسائل دھیرے دھیرے بڑھتے جاتے ہیں۔ طوطے پریشانی کے وقت ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں اور اس طرح وہ خود کو بڑی پریشانی سے محفوظ رکھتے ہیں۔طوطا سماجی پرندہ ہونے کی وجہ سے اپنے جھنڈ میں رہنا پسند کرتا ہے۔انسانوں کو بھی سماج اور معاشرے میں رہتے ہوئے سماجی مسائل کو حل کرنے کی تدبیر کرنی چاہئے۔طوطا انسانوں کے ساتھ بہت جلد مانوس ہوجاتاہے۔
8/10

طوطا(Parrot): طوطا اپنے دن کی شروعات ہشاش بشاش اور نئی توانائی کے ساتھ کرتا ہے۔ سستی اور کاہلی سے ہمیشہ دور رہتا ہے۔انسان بھی اپنے دن کا آغاز مسکرا کر اور خوش ہوکرکر ے تو دن یقیناً اچھا جائے گا ۔طوطا جسے عزیز رکھتا ہے اسے جوش و خروش کے ساتھ سلام کرتا ہے اوراس سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ملاقات کے دوران گرم جوشی سامنے والے فرد کے دل ودماغ پر اچھا اثر مرتب کرتی ہے۔طوطے میں کسی بھی چیز کوجلدی کیچ کرکے سیکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ انسانوں اور خصوصاً طلبہ کو چاہئے کہ وہ بھی نئی چیزوں کو سیکھنے میں از خود پہل کریں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں ۔ہماری زیادہ تر پریشانیوں کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور مسائل دھیرے دھیرے بڑھتے جاتے ہیں۔ طوطے پریشانی کے وقت ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں اور اس طرح وہ خود کو بڑی پریشانی سے محفوظ رکھتے ہیں۔طوطا سماجی پرندہ ہونے کی وجہ سے اپنے جھنڈ میں رہنا پسند کرتا ہے۔انسانوں کو بھی سماج اور معاشرے میں رہتے ہوئے سماجی مسائل کو حل کرنے کی تدبیر کرنی چاہئے۔طوطا انسانوں کے ساتھ بہت جلد مانوس ہوجاتاہے۔

X شیر(Tiger): شیر بےباکی اور بے خوفی کا استعارہ ہے۔کسی بھی پریشانی اور مسائل کا مقابلہ کرنے کیلئے نڈر اور بیباک ہونا ضروری ہے۔ انسان بھی یہ صفت اپنا کر مسائل کو شکست دے سکتا ہے۔ شیروں کی ایک خاص صفت خود اعتمادی اور یقین بھی ہے۔ خود پر اعتماد اور یقین ہی اسے جنگل کا بادشاہ بناتی ہے۔ انسان بھی خود اعتمادی کے ذریعہ ایک کامیاب عملی زندگی گزار سکتا ہے۔ کامیابی کے حصول میں بعض دفعہ رسک بھی لینا پڑتا ہے۔ شیر کبھی بھی رسک لینے سے نہیں گھبراتاخواہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو یا نہ ہو۔اسی طرح انسانوں کو بھی خود پر یقین رکھتے ہوئے تعلیمی و عملی زندگی میں رسک لینا چاہئے۔شیر تمام حالات کا مقابلہ اس وجہ سے کر پاتا ہے کیونکہ وہ طاقتور اور بہادر ہوتا ہے۔ نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی و جذباتی طور پر بھی ۔ انسان بھی ان صفات کو اپنا کر مشکل حالات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ اپنے مقصد اور ہدف پر توجہ مرکوز رکھنا شیر کی اہم خصوصیت ہے ۔ وہ اپنے مقصد کے تئیں فوکسڈ ہوتے ہیںجبکہ انسانوں کو کامیابی بھی تبھی ملتی ہے جب وہ توجہ اپنےہدف پر رکھتے ہیں۔ شیروں میں لیڈر شپ کوالیٹی حد درجہ پائی جاتی ہے۔ انسان بھی اس صفت کو اپنا کر سماج اور معاشرے کی بہتر رہنمائی کرسکتا ہے۔
9/10

شیر(Tiger): شیر بےباکی اور بے خوفی کا استعارہ ہے۔کسی بھی پریشانی اور مسائل کا مقابلہ کرنے کیلئے نڈر اور بیباک ہونا ضروری ہے۔ انسان بھی یہ صفت اپنا کر مسائل کو شکست دے سکتا ہے۔ شیروں کی ایک خاص صفت خود اعتمادی اور یقین بھی ہے۔ خود پر اعتماد اور یقین ہی اسے جنگل کا بادشاہ بناتی ہے۔ انسان بھی خود اعتمادی کے ذریعہ ایک کامیاب عملی زندگی گزار سکتا ہے۔ کامیابی کے حصول میں بعض دفعہ رسک بھی لینا پڑتا ہے۔ شیر کبھی بھی رسک لینے سے نہیں گھبراتاخواہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو یا نہ ہو۔اسی طرح انسانوں کو بھی خود پر یقین رکھتے ہوئے تعلیمی و عملی زندگی میں رسک لینا چاہئے۔شیر تمام حالات کا مقابلہ اس وجہ سے کر پاتا ہے کیونکہ وہ طاقتور اور بہادر ہوتا ہے۔ نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی و جذباتی طور پر بھی ۔ انسان بھی ان صفات کو اپنا کر مشکل حالات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ اپنے مقصد اور ہدف پر توجہ مرکوز رکھنا شیر کی اہم خصوصیت ہے ۔ وہ اپنے مقصد کے تئیں فوکسڈ ہوتے ہیںجبکہ انسانوں کو کامیابی بھی تبھی ملتی ہے جب وہ توجہ اپنےہدف پر رکھتے ہیں۔ شیروں میں لیڈر شپ کوالیٹی حد درجہ پائی جاتی ہے۔ انسان بھی اس صفت کو اپنا کر سماج اور معاشرے کی بہتر رہنمائی کرسکتا ہے۔

X کوا(Crow): کواماحولیاتی نظام میں کم سے کم خلل کے احساس کو فروغ دیتا ہے نیز وہ ایک ہی علاقےمیں رہتے ہوئے اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔ انسانوں کو بھی چاہئے کہ وہ مستقل مزاجی کو اپنا شعار بنائیں۔کوا اپنی غذا کو بقدر ضرورت ہی استعمال کرتا ہے۔وہ اضافی کھانا ذخیرہ کرتا ہےاور احتیاط سے خرچ کرتا ہے مگر وہ انہیں ضائع نہیں کرتا۔کوےکی یہ صفت انسانوں کو کفایت شعاری کا اعلیٰ درس دیتی ہےجسے اپنا کر انسان بہتر زندگی گزار سکتا ہے۔کوے عموماً الگ الگ علاقوں میں ہوتے ہیں۔مگرجب کوئی شکاری، موسمی خطرہ یا کوئی اور تشویشناک صورتحال آتی ہے تو وہ اپنی جغرافیائی حدود کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہوجاتے ہیں اور مل کر حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔اتحاد و اتفاق کی یہ خوبی انسان خود میں پیدا کرکے باہمی رشتے استوار کرسکتا ہے۔کوا اپنے وجود کو تمام برائیوں اور اچھائیوں سمیت قبول کرتا ہے۔ اس کےعلاوہ وہ اپنے اطراف ہورہے حالات و واقعات پر بھی توجہ دیتا ہے۔انسانوں کو بھی اپنے اطراف سے باخبر رہنا چاہئے۔کوے خوشی اور غم کے موقع پر ایک ساتھ ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی ہر حال میں اپنے عزیز و اقارب کےساتھ رہنا چاہئے۔
10/10

کوا(Crow): کواماحولیاتی نظام میں کم سے کم خلل کے احساس کو فروغ دیتا ہے نیز وہ ایک ہی علاقےمیں رہتے ہوئے اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔ انسانوں کو بھی چاہئے کہ وہ مستقل مزاجی کو اپنا شعار بنائیں۔کوا اپنی غذا کو بقدر ضرورت ہی استعمال کرتا ہے۔وہ اضافی کھانا ذخیرہ کرتا ہےاور احتیاط سے خرچ کرتا ہے مگر وہ انہیں ضائع نہیں کرتا۔کوےکی یہ صفت انسانوں کو کفایت شعاری کا اعلیٰ درس دیتی ہےجسے اپنا کر انسان بہتر زندگی گزار سکتا ہے۔کوے عموماً الگ الگ علاقوں میں ہوتے ہیں۔مگرجب کوئی شکاری، موسمی خطرہ یا کوئی اور تشویشناک صورتحال آتی ہے تو وہ اپنی جغرافیائی حدود کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہوجاتے ہیں اور مل کر حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔اتحاد و اتفاق کی یہ خوبی انسان خود میں پیدا کرکے باہمی رشتے استوار کرسکتا ہے۔کوا اپنے وجود کو تمام برائیوں اور اچھائیوں سمیت قبول کرتا ہے۔ اس کےعلاوہ وہ اپنے اطراف ہورہے حالات و واقعات پر بھی توجہ دیتا ہے۔انسانوں کو بھی اپنے اطراف سے باخبر رہنا چاہئے۔کوے خوشی اور غم کے موقع پر ایک ساتھ ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی ہر حال میں اپنے عزیز و اقارب کےساتھ رہنا چاہئے۔

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK