پٹنہ:ضبط شدہ شراب ضائع کرنے اور اس کی بوتلیں تباہ کرنے میں دشواری

Updated: January 04, 2022, 1:07 PM IST | Inquilab News Network | Patna

پٹنہ پولیس ضبط شدہ شراب کہاں بہائے ؟ اس کی بوتلیں کس جگہ توڑے ؟ بدبو سے شہریوں کو شکایت ، کانچ کے ٹکڑوںسے بھی دقت کا سامنا

The confiscated liquor is being destroyed with the help of JCB. Picture:INN
ضبط شدہ شراب جےسی بی کی مدد سے تباہ کی جارہی ہے۔ تصویر : انقلاب

بہار کے ضلع پٹنہ میںشراب بندی کے دوران ضبط شدہ شراب کو بہانے اور اس کی بوتلیں توڑنے پر اعتراض کیا جارہا ہے جس سے ضلع کی پولیس پریشان ہے کہ آخر وہ کس طرح شراب ضائع کریں اور اس کی بوتلیں تباہ کرے۔   ضلع انتظامیہ کے مطابق پٹنہ  میں اب  تک قریب ۱ء۷۵؍ لاکھ لیٹر شراب ضبط کی گئی ہے جبکہ  محکمۂ آبکاری گودام میں ضبط کی گئی  تقریباً ۱۳؍ ہزار لیٹر انگریزی شراب ہے ۔ اتنی مقدار میں شراب کو ضائع کرنے میں سب سے زیادہ مسائل بوتلوں سےمتعلق ہوتی ہے۔ شراب تو نالے میں بہہ جاتی ہے لیکن  شیشے کے ٹوٹے ہوئے  بوتلوں کے ٹکڑے ضائع کرنے کی کوئی تدبیر سمجھ میں نہیں آ رہی ہے۔ شراب بندی قانون نافذ ہونے کے بعد کھگو ل کے لکھنی بگہا میں واقع بہار بریوریج کارپوریشن کے گودام  احاطے میں گڑھا کھودکر شراب کی بوتل کو پلوڈ ر سے روند تباہ کرنے کاانتظام کیاگیا ہے۔ بعد میں گڑھے کو مٹی سے   بھر دیا جاتا ہے۔ پٹنہ کے شہری علاقے میں ایسی جگہ نہیں ہے جہاں ۱ء۷۵؍ لاکھ لیٹر شراب کو بوتل کے ساتھ زمین میں دفن کیا جاسکے۔   مقامی پولیس اسٹیشن کی نگرانی میں ضبط شدہ قریب ۱ء۲۵؍ لیٹر شراب وقفے وقفے سے گردنی باغ میں ضائع کی گئی ہے۔ مقامی افراد  شراب کی بدبو اور کانچ کے ٹکڑے توڑ نے پر اعتراض کررہےہیں۔ مہو ا اور کچی شراب کو زمین میں بہا دیا جاتا ہے لیکن  شراب کی بوتل ضائع کرنے میں دقت ہو رہی ہے۔ محکمۂ آبکاری کے نوڈل افسر کمارل ستیم کو تمام تھانوں میں ضبط شدہ شراب کاریکارڈ تیار کر کے انہیں ضائع کرنے کا منصوبہ بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔   شراب ضائع کرنے میں پٹنہ پولیس کی پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ ضلع کے پولیس اسٹیشن میں شراب بندی قانون کے تحت اب کتنے کیس ہوئےہیں؟ کس کیس میں کتنی مقدار میں شراب ضبط ہوئی ہے ؟ ضلع انتظامیہ کی جانب سے اس کا ڈاٹاتیار کیا جارہا ہے۔ ڈاٹا کی بنیاد پر شراب ضبط کرنے کی اجازت ضلع افسر دیں گے ۔ اگر فہرست کے مطابق شراب نہیں ملی تو کارروائی ہوسکتی ہے۔ 
  اس سلسلے میں پٹنہ کے ڈی ایم چندر شیکھر سنگھ نے بتایا کہ تھا نہ کی سطح پر  درج کیس کے مطابق ضبط کی گئی شراب کی فہرست سے شراب کے ذخیرے کاموازنہ کیا جا رہا ہے۔ اس کی بنیاد پر فہرست تیارکرنے  کے بعد متعلقہ افسر اور محکمۂ آبکاری کے افسر کے سامنے شراب کی بوتلیں ضائع کی جائیں گی ۔ بوتلوں کو توڑ نا ضروری ہے، تاکہ اس کا کوئی غلط استعمال نہ کرسکے۔ واضح رہےکہ شراب کی بوتلیں محفوظ رہنے کی صورت میں شراب  کے کاروباری اسے دوبارہ استعمال کرسکتےہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK