Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھولیہ بس ڈپو کے بیڑے میں ۱۰؍ شیوائی ای بسیں شامل، رکن اسمبلی نے افتتاح کیا

Updated: May 31, 2026, 10:58 AM IST | Ismaeel Shad | Dhule

انہوں نے مزید ۲۰؍ سے ۳۰؍ ای بسیں ملنے کا بھی دعویٰ کیا۔

Member of the Assembly inaugurating the e-bus. (Photo: Inquilab)
رکن اسمبلی ای بس کا افتتاح کرتے ہوئے۔ (تصویر: انقلاب)

دنیا بھر میں ایندھن کی فراہمی کا بحران ہے ۔تاہم ریاستی حکومت  عام مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرنے کیلئے اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے تمام ڈپوز کو شیوائی ای بسیں فراہم کر رہی ہے ۔ دھولیہ بس ڈپو کو بھی دس بسیں ملی ہیں۔ اس بس سروس کا افتتاح شہر کے رکن اسمبلی انوپ اگروال کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

      افتتاحی تقریب میں اگروال نے کہا کہ دھولیہ بس ڈپو کو حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں۱۰؍ ای بسیں موصول ہوئی ہیں ۔ اس کے علاوہ  انہوں نے مزید۲۰؍سے۳۰؍ بسیں ملنے کا بھی دعویٰ کیا ہے ۔ اگر وال نے یہ بھی کہا کہ یہ الیکٹرک بسیں ماحول دوست اور آلودگی سے پاک ہوں گی ۔یہ ای بس ایندھن کی معیشت کو فروغ دیں گی۔ ان بسوں کو چارج کرنے کے لیے دھولیہ ڈپو میں آٹھ چارجنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ملیح آباد: کسمنڈی کلاں کے سروے میں مسجد اور قبروں کے شواہد پائے گئے

ای بس ایک بار چارج ہونے کے بعد تقریبا ۳۰۰؍ کلومیٹر تک چلے گی ۔ پہلے مرحلے میں دھولیہ سے ناسک ، جلگاؤں اور اورنگ آباد( چھتر پتی سمبھاجی نگر) روٹ پر چلیں گی۔ رکن سمبلی اگروال نے یہ بھی یقین ظاہر کیا کہ پش بیک سیٹ، یو ایس بی چارجرز، ایئر کنڈیشن اور دیگر  جدیدسہولیات کی وجہ سے یہ بسیں مسافروں کو پسند آئیں گی۔

ڈویژنل ٹرانسپورٹ آفیسر پروشتم ویو ہارے نے کہا کہ دھولیہ ڈویژن ۷؍ ڈپوکو یہ ای بسیں مرحلہ وار فراہم کی جائیں گی۔ فی الحال دیگر ڈپو میں چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کا کام جاری ہے اور جیسے ہی یہ کام مکمل ہو جائے گا، ای بس سروس شروع کی جائے گی۔ اس ای بس میں آرام دہ سفر اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے۔ ریاستی ٹرانسپورٹ کارپوریشن اور حکومت کی جاری کردہ گزشتہ اسکیموں کا فائدہ خواتین، معمر شہری اور معذور افراد ای بس سروس سے بھی اٹھائیں گے اور جہاں چاہیں، سفر کر سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK