ریاستی آثار قدیمہ ڈائریکٹوریٹ نے سروے کی رپورٹ محکمہ سیاحت و ثقافت کو سونپی، ہندو تنظیموں نے یہاں بھی شیو مندر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 31, 2026, 10:46 AM IST | Lucknow
ریاستی آثار قدیمہ ڈائریکٹوریٹ نے سروے کی رپورٹ محکمہ سیاحت و ثقافت کو سونپی، ہندو تنظیموں نے یہاں بھی شیو مندر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
ملیح آباد کے کسمنڈی کلاں علاقہ میں واقع مقبرہ اور مقبرہ والی مسجد کا ریاستی آثار قدیمہ ڈائریکٹوریٹ نے سروے کیا ہے اور اپنی رپورٹ محکمہ سیاحت و ثقافت کو سونپ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان عمارتوں کی تعمیر ۱۸؍ویں صدی کی ہے اور یہاں مسجد اور قبروں کے شواہد پائے گئے ہیں۔ حالانکہ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ یہاں ۹۸۰ء سے ۱۰۳۱ء کے درمیان راجہ کنسا پاسی کا قلعہ اور اندر شیو مندر تھا ۔حال ہی میں لاکھن آرمی اور سہیل دیو آرمی نے اس مقام کی قدیم شناخت کو بدلنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس دعوے کے بعد بڑھتے ہوئے تنازع کو دیکھتے ہوئے محکمہ سیاحت و ثقافت کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری امرت ابھیجات کی ہدایت پر بدھ کو ماہرین آثارِ قدیمہ کی ٹیم نے اس مقام کا تفصیلی معائنہ کیا۔محکمہ آثارِ قدیمہ کی ٹیم نے تقریباً۲؍ سے۳؍گھنٹے کے سروے کے بعد اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کسمنڈی کلاں کے ان ڈھانچوں کی تعمیر میں روایتی لکھوری اینٹوں کا استعمال کیا گیا ہے جو ۱۷؍ویں اور ۱۸؍ویں صدی کے طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔عمارت میں اسلامی طرزِ تعمیر کے عناصر جیسے قبلہ دیوار، محراب، گنبد، میناریں موجود ہیں نیز مسجد نما عمارت کے درمیان چار قبریں بھی پائی گئی ہیں۔ تاہم رپورٹ میں اس مقام کی مرمت کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ فی الحال اس سروے رپورٹ کو محفوظ رکھ لیا گیا ہے جسے ضرورت پڑنے پر وزیر اعلیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: کیرالا وندے ماترم تنازع پر وزیراعلیٰ کی وضاحت: مکمل قومی گیت پیش کرنا لازمی نہیں
قابل ذکر ہے کہ لاکھن آرمی کے قومی صدر سورج پاسی اور سہیل دیو آرمی کے یوگیش پاسی نے دعویٰ کیا تھا کہ یہاں ۹۸۰ء سے ۱۰۳۱ء کے درمیان راجہ کنسا پاسی کا قلعہ اور اندر شیو مندر تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دیواروں پر آج بھی ہندو روایتی نقوش موجود ہیں جنہیں بعد میں دوسرے طبقے کے لوگوں نے مسجد اور مقبرے میں تبدیل کر دیا۔ جبکہ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ سرکاری دستاویزات میں یہ زمین قبرستان کے طور پر درج ہے۔ یہاں کسی قسم کی نئی تعمیر نہیں کی گئی ہے، بلکہ سیکڑوں سال پرانے مقبرے میں قبریں موجود ہیں اور مسجد میں ہر جمعہ نماز ادا کی جاتی رہی ہے ۔ اس مسئلے کو اتنے سال بعد اٹھا کر سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ مقامی باشندے لقمان علی نے بتایاکہ مسجد و مقبرہ بہت قدیم ہے ، یہاں کبھی کوئی تنازع نہیں رہاہے ۔ ریوینیو ریکارڈ میں گاٹا نمبر ۱۰۱۶؍ پر مسجد و مقبرہ درج ہے ۔ نقشہ پر بھی مسجد و مقبرہ موجود ہے اور مقامی لوگوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ یہاں باہر سے آکر لوگ ماحول خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حالانکہ تنازع بڑھنے پر مقامی مسلمانوں نے فیصلہ ہونے تک نماز نہ پڑھنے کا فیصلہ کیا ہےاور گزشتہ جمعہ نیز عیدالاضحی کی نماز کی ادائیگی یہاں نہیں کی گئی۔