گجرات میں گزشتہ۴؍دنوں سے جاری موسلا دھار بارش نے معمولات زندگی کودرہم برہم کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 11:26 AM IST | Ahmedabad / Guwahati
گجرات میں گزشتہ۴؍دنوں سے جاری موسلا دھار بارش نے معمولات زندگی کودرہم برہم کر دیا ہے۔
گجرات میں گزشتہ۴؍دنوں سے جاری موسلا دھار بارش نے معمولات زندگی کودرہم برہم کر دیا ہے۔ مسلسل بارش اور سیلاب جیسے حالات کے باعث ریاست کے کئی اضلاع کو سنگین بحران کا سامنا ہے۔ شدید بارش کے باعث اب تک۵۰؍ سے زائد لوگوں کی موت ہو چکی ہےجبکہ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ بارش کی تیزی نے ایک بار پھر انتظامیہ کی قلعی اتار دی ہے۔اس دوران انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ۴۰؍ ہزار سے زائد افراد کو احتیاطاً محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ۷؍ ہزار سے زیادہ لوگوں کو راحت اور بچاؤ مہم کے تحت بحفاظت نکالا گیا ہے۔
بارش سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں نوساری اور ولساڈ شامل ہیں۔ نوساری میں۲۲؍ اور ولساڈ میں۷؍ افراد کی موت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی بارش سے متعلق حادثات میں کئی لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔لگاتار بارش کے باعث ریاست بھر میں تقریباً۸؍ ہزار سے زیادہ بجلی کے کھمبے بھی متاثر ہوئے ہیں، جس سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہے۔ علاوہ ازیں۶۵۰؍ سے زیادہ سڑکیں بند ہونے سے آمد و رفت متاثر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رائے گڑھ ضلع پریشد کے صدر کا فرمان، بلا اجازت میڈیا سے بات نہ کی جائے
آسام میں بھی بھاری تباہی،۱۰؍ لاکھ افراد متاثر
آسام میں تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا رکھی ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے اب تک کم از کم ۶۸؍ افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ۲۵؍ اضلاع میں تقریباً۱۰؍ لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے پی ایم کیئرز فنڈ سے سیلاب متاثرہ خاندانوں کیلئے خاطر خواہ امداد فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ سیلاب میں ضائع ہونے والی ہر جان، گھر اور روزگار کیلئے مناسب معاوضہ فراہم کیا جانا چاہئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی نے ۲۰۱۶ء کے آسام ویژن دستاویز میں ریاست میں بار بار آنے والے سیلاب کا مستقل حل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس تعلق سے کچھ نہیں ہوا۔‘‘