Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۰۰؍ڈالرفی بیرل کا خام تیل ہندوستانی معیشت کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے

Updated: April 26, 2026, 10:14 PM IST | New Delhi

ہندوستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً ۸۵؍ فیصد درآمد کرتا ہے۔ مغربی ایشیا کے بحران کا اثر ملک کی توانائی کی درآمدات پر پہلے ہی نظر آ رہا ہے۔ اگر رکاوٹیں برقرار رہتی ہیں تو برینٹ کروڈ کی قیمتیں ۱۰۰؍ سے ۱۱۰؍ ڈالر فی بیرل کی حد میں رہنے کا امکان ہے۔

Crude Oil.Photo:INN
خام تیل۔ تصویر:آئی این این

 ہندوستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً ۸۵؍ فیصد درآمد کرتا ہے۔ مغربی ایشیا کے بحران کا اثر ملک کی توانائی کی درآمدات پر پہلے ہی نظر آ رہا ہے۔ اگر رکاوٹیں برقرار رہتی ہیں تو برینٹ کروڈ کی قیمتیں ۱۰۰؍ سے۱۱۰؍ ڈالر فی بیرل کی حد میں رہنے کا امکان ہے۔
روپیہ مسلسل دباؤ میں
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ’’جیسے جیسے ایران-اسرائیل تنازع بڑھا، آبنائے ہرمز سے ہونے والی سپلائی متاثر ہوئی اور برینٹ کروڈ تیل۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا... اس کا نتیجہ ایک واضح ’’توانائی ٹیکس‘‘ کی صورت میں سامنے آیا۔ اس کے باعث روپیہ گر کر ۹۵؍ کی ریکارڈ کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا، اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے (سی اے ڈی)اور درآمدی مہنگائی کے خدشات کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں کمی ریکارڈ کی گئی۔‘‘ ان عالمی منفی حالات کے درمیان ہندوستانی  روپیہ مسلسل دباؤ میں ہے۔ ڈالر کی عالمی مضبوطی، اسٹاک مارکیٹ سے سرمائے کا وقفے وقفے سے انخلا، اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے ملک کی مضبوط اندرونی اقتصادی بنیادوں پر اثر ڈالا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:دہلی کے رنوں کے پہاڑ کو پنجاب نے سر کر لیا


مارکیٹس کو مستحکم کرنے کے لیے آر بی آئی کی مداخلت
اس دباؤ کے دوران ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی ) نے مارکیٹس کو مستحکم کرنے کے لیے مداخلت کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی بینک نے اپنی پالیسی پوزیشن برقرار رکھتے ہوئے کئی اقدامات کیے ہیں، جیسے غیر ملکی کرنسی کے خطرات پر سختی اور مارکیٹ میں لیکویڈیٹی سپورٹ فراہم کرنا۔ رپورٹ کے مطابق آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی )  نے ریپو ریٹ کو۲۵ء۵؍فیصد پر برقرار رکھا ہے اور اپنی نیوٹرل پالیسی پوزیشن کو بھی دُہرایا ہے۔ انتہائی غیر مستحکم حالات میں کارروائی کے لیے مرکزی بینک مکمل طور پر تیار ہے۔
بیرونی محاذ پر ہندوستان کا تجارتی توازن کچھ حد تک مضبوط ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ ۲۰۲۶ء میں اشیا کا تجارتی خسارہ کم ہو کر۷ء۲۰؍ ارب ڈالر رہ گیا، جس میں سونے اور توانائی کی درآمدات میں کمی کا کردار رہا۔ تاہم خطرات اب بھی برقرار ہیں۔

یہ بھی پرھئے:’’میں ویب شوز اور فلموں کے ذریعہ دوبارہ اپنے کریئر کا آغاز کرنا چاہتا ہوں‘‘


 اگر رکاوٹیں جاری رہیں تو برینٹ کروڈ۱۰۰۔۱۱۰؍ ڈالر فی بیرل کی حد میں رہ سکتا ہے
یونین بینک آف انڈیا نے رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر رکاوٹیں جاری رہیں تو برینٹ کروڈ کی قیمتیں ۱۰۰؍ سے۱۱۰؍ ڈالر فی بیرل کی حد میں رہ سکتی ہیں۔ اس سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بڑھ جائے گا اور ریٹیل مہنگائی ۴؍فیصد سے اوپر جا سکتی ہے۔ تیل کی قیمت میں ہر ۱۰؍ ڈالر فی بیرل اضافہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتا ہے اور مہنگائی کو مزید اوپر لے جا سکتا ہے۔ مستقبل میں روپے کے ایک محدود دائرے میں رہنے کا امکان ہے، لیکن اس میں کمزوری کا رجحان برقرار رہے گا۔ رپورٹ کے نتیجے میں کہا گیا کہ بھارت کا مستقبل بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوگا کہ مغربی ایشیا کے تنازع کی صورتحال کیا رہتی ہے۔ تیل کی قیمتیں اور عالمی مالیاتی حالات ملکی معیشت کے لیے بنیادی عوامل رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK