Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشرقِ وسطیٰ کا بحران افریقہ تک پھیل گیا، ایندھن کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

Updated: June 14, 2026, 5:11 PM IST | New Delhi

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور شدید کشیدگی کے اثرات اب ہزاروں میل دور افریقی ممالک میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

OIl Price.Photo:INN
تیل کی قیمت۔ تصویر:آئی این این

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور شدید کشیدگی کے اثرات اب ہزاروں میل دور افریقی ممالک میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ موزمبیق کے دارالحکومت `ماپوتو کے ساحلوں پر درجنوں مچھلی پکڑنے والی کشتیاں گزشتہ کئی دنوں سے لنگر انداز ہیں کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کے باعث غریب ماہی گیروں کے لیے کشتیاں سمندر میں لے جانا ناممکن ہو گیا ہے۔موزمبیق کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے سپلائی متاثر ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے مئی کے اوائل میں ایندھن کی قیمتیں بڑھا دی تھیں، جس کے بعد ماپوتو کے پُرسکون پیسکاڈورس علاقے کے ماہی گیروں کے پاس اب اتنے پیسے بھی نہیں بچے کہ وہ کشتی کا ایندھن خرید سکیں۔
مقامی کمیونٹی فشرئیز کونسل کے نائب صدر کارلوس نگوئنہا نے ساحل پر کھڑی لکڑی کی کشتیوں اور جالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’’یہ بحران ہمارے لیے انتہائی بھیانک ثابت ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے یہ تنازعات صرف انہی ممالک تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ ہم ان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ میز پر بیٹھیں اور بات چیت کریں تاکہ ہم اس مصیبت سے نکل سکیں۔‘‘ یہ کونسل تقریباً ۱۸۰۰؍ ماہی گیروں اور۲۹۰؍ کشتیوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ یہ ماہی گیر، جن میں بوڑھے اور جوان سبھی شامل ہیں، اپنے گھروں کے واحد کفیل ہیں اور ان کے پاس روزگار کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پرنیت مورے تنازع: مہاراشٹر حکومت سخت، ویڈیوز کی جانچ کا حکم دیا

موزمبیق کی انرجی اتھاریٹی نے مئی کے شروع میں پیٹرول کی قیمت ۱۲؍ فیصد بڑھا کر ۳ء۱؍ ڈالر فی لیٹر کر دی تھی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں ۴۶؍ فیصد کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا، جو اب۸ء۱؍ ڈالر فی لیٹر کی تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ عالمی بینک کی مارچ ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق موزمبیق دنیا کا دوسرا غریب ترین ملک ہے، جہاں ۸۱؍ فیصد آبادی روزانہ۳؍ڈالر سے بھی کم پر گزربسر کرتی ہے۔ ایندھن کی گرانی کی وجہ سے پیٹرول پمپوں پر لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں اور عام شہریوں نے اپنی گاڑیاں چھوڑ کر پبلک ٹرانسپورٹ کا رخ کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ہیٹی کو شکست دے کر اسکاٹ لینڈ نے ۳۶؍ برس بعد فیفاورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کی


۴۹؍ سالہ ماہی گیر ایڈورڈو الیگزینڈر اور ان کا عملہ ۲۴؍ گھنٹے سمندر میں گزارنے کے بعد بغیر کسی مچھلی کے ساحل پر لوٹا ہے۔ انہوں نے نڈھال ہو کر بتایا ’’بہترین مچھلیاں پکڑنے کے لیے کھلے سمندر میں جانے کے لیے ۶؍سے ۷؍ گھنٹے لگتے ہیں۔ ہمارے پاس مزید ایندھن خریدنے کے پیسے نہیں تھے، اس لیے ہمیں آدھے راستے سے خالی ہاتھ واپس آنا پڑا۔ ہمیں مزید۱۰؍لیٹر ڈیزل کی ضرورت تھی لیکن جیب خالی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK