Inquilab Logo Happiest Places to Work

۳۰۰۰؍ روپے فی آم قیمت والا ’نور جہاں‘ خریداروں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز

Updated: June 14, 2026, 4:34 PM IST | Bhopal

۳۰۰۰؍ روپے فی آم کی قیمت والا نور جہاں آم جو پپیاسے بھی بڑا ہوتا ہے، خریدارروں اور سیاح کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے ، اس قسم کے آم کے محض ۳؍ درخت ہونے کے سبب گاہکوں کو ایڈوانس بکنگ کرنی پڑتی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

مدھیہ پردیش کے علی راج پور ضلع کے کاٹھی واڑاہ گاؤں میں خاص طور پر اگایا جانے والا نورجہاں آم، جو فی آم ۱۵۰۰؍سے ۳۰۰۰؍ے تک فروخت ہوتا ہے۔ اس کی نایابی، بہت بڑے سائز اور زبردست مانگ کی وجہ سے اس کی یہ قیمت ہے۔ یہ آم۳؍ سے۵؍ کلوگرام تک وزنی ہوتے ہیں اور کبھی کبھار پپیتے سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔یہ قسم تقریباً۵۰؍ سال پہلےجادھو کے والد نے جہانگیر اورگجرات کے راجا پوری آم کی قلمی (grafting) سے تیار کی تھی اور اسے اداکارہ’’نورجہاں‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ باغبانی محکمے اور خاندان کی دلچسپی کے باوجود، اس کی افزائش کی کوششیں بار بار ناکام ہوئی ہیں۔صرف تین درختوں تک پیداوار محدود ہونے کی وجہ سے دستیابی انتہائی کم ہے، جس کی وجہ سے خریداروں کو پہلے سے بکنگ کروانی پڑتی ہے اور آم حاصل کرنے کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
اتنی زیادہ قیمت کیوں؟
نورجہاں آم کی زیادہ قیمت انتہائی قلت، قابلِ ذکر بڑے حجم، معروف ذائقے اور مقامی داستان کا نتیجہ ہے۔ باغ کے مالک شیو رام جادھو کے مطابق، یہ قسم صرف تین درختوں پر موجود ہے۔باغ کے مالک نے سائز کو اہم عنصر بتاتے ہوئے کہا کہ نورجہاں آم عام طور پر پپیتے سے بڑا اور بھاری ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس کے ذائقے اور وقار کی وجہ سے بھی اس کی قیمت زیادہ ہے۔ اس آم کو کئی قومی ایوارڈ مل چکے ہیں اور سابق صدور سمیت متعدد معروف شخصیات اسے چکھ چکی ہیں۔ واضح رہے کہ نورجہاں آم نےجادھو خاندان کی تین نسلوں کی کفالت کی ہے اور یہ مقامی سیاحت کا بھی ایک مرکز ہے۔ آم کے موسم میں دور دور سے سیاح اور آم کے شوقین اسے دیکھنے اس گاؤں آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش: مویشی اسمگلنگ کے شبہ میں ہجومی تشدد قتل کے جرم میں ۱۴؍ کو عمر قید

یہ قسم تقریباً۵۰؍ سال پہلے بنائی گئی تھی، لیکن باغبانی محکمے نے تقریباً۷۰؍ پودوں کی قلمی کی کوشش کی، مگر کامیابی نہ مل سکی۔ اب صرف تین اصل درخت باقی ہیں، جس سے قلت برقرار ہے۔جبکہ تیسری نسل کے افراد اس قسم کو بچانے اور اس کی افزائش کے لیے پرعزم ہیں۔ وہ حکومت کے ساتھ مل کر نئے پودے اگانے کی امید رکھتے ہیں تاکہ یہ منفرد قسم معدوم نہ ہو۔ کامیاب افزائش سے قلت کم ہوگی اور ممکن ہے قیمتیں معتدل ہوں، لیکن اس سے بڑی منڈیاں اور برآمد کے مواقع بھی کھلیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ایئر انڈیا حادثے میں جاں بحق، سورت کے تاجر عقیل ناناباوا کی یاد میں انڈونیشیا میں مسجد تعمیر کی گئی

بعد ازاں کم دستیابی کے سبب پیشگی بکنگ ضروری ہے۔ دھیان رہے کہ یہ آم محض علی راج پور کے کاٹھی واڑاہ گاؤں میں ہی دستیاب ہے، اس کے علاوہ کہیں بھی اس کی افزائش نہیں ہوتی ، لہٰذا نقل سے ہوشیار رہیں۔ تاہم جب تک افزائیش کامیاب نہیں ہوتی، نورجہاں آم کی قیمت زیادہ رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK