برطانیہ کی موٹر ریسنگ کی تاریخ کے ایک اہم سنگِ میل کے طور پر بروک لینڈز میوزیم میں ملک کے پہلے گراں پری کی ۱۰۰؍ویں سالگرہ منائی گئی۔ اس موقع پر تاریخی ریسنگ کاروں نے ایک بار پھر ٹریک پر دوڑ کر ایک صدی پرانی موٹر اسپورٹس کی یادیں تازہ کردیں۔
EPAPER
Updated: August 10, 2026, 6:01 PM IST | London
برطانیہ کی موٹر ریسنگ کی تاریخ کے ایک اہم سنگِ میل کے طور پر بروک لینڈز میوزیم میں ملک کے پہلے گراں پری کی ۱۰۰؍ویں سالگرہ منائی گئی۔ اس موقع پر تاریخی ریسنگ کاروں نے ایک بار پھر ٹریک پر دوڑ کر ایک صدی پرانی موٹر اسپورٹس کی یادیں تازہ کردیں۔
برطانیہ کی موٹر ریسنگ کی تاریخ کے ایک اہم سنگِ میل کے طور پر بروک لینڈز میوزیم میں ملک کے پہلے گراں پری کی ۱۰۰؍ویں سالگرہ منائی گئی۔ اس موقع پر تاریخی ریسنگ کاروں نے ایک بار پھر ٹریک پر دوڑ کر ایک صدی پرانی موٹر اسپورٹس کی یادیں تازہ کردیں۔ برطانیہ کا پہلا گراں پری ۷؍ اگست۱۹۲۶ء کو بروک لینڈز میں منعقد ہوا تھا۔ اس تاریخی مقابلے میں نو گراں پری کاروں نے حصہ لیا تھا اور اس وقت ایک بہت بڑا ہجوم ریس دیکھنے کے لیے جمع ہوا تھا۔
۱۹۲۶ء کی تاریخی ریس میں کون جیتا تھا؟
۱۹۲۶ء کے اس پہلے برطانوی گراں پری میں فرانس کے ڈرائیور لوئی واگنر اور رابرٹ سینیچال نے مشترکہ طور پر کامیابی حاصل کی تھی۔ دونوں نےایس ۸؍ڈیلاگ ۱۵؍ گاڑی چلائی تھی۔ برطانیہ کے مشہور ریسنگ ڈرائیور میلکم کیمبل نے بُگاٹی کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:لیونل میسی کے والد جارج میسی سپردِ خاک، نجی تقریب میں خاندان اور قریبی عزیزوں کی شرکت
بروک لینڈز کی تاریخی اہمیت
بروک لینڈز صرف برطانیہ کی موٹر ریسنگ کا ایک مقام نہیں بلکہ عالمی موٹر اسپورٹس کی تاریخ میں بھی انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔ یہ مقام ۱۹۰۷ء میں کھولا گیا تھا اور اسے دنیا کا پہلا باقاعدہ طور پر تعمیر کیا گیا موٹر ریسنگ سرکٹ قرار دیا جاتا ہے۔ بعد میں برطانوی گراں پری نے مزید شہرت حاصل کی اور ۱۹۵۰ء میں فارمولاوَن ورلڈ چمپئن شپ کا حصہ بن گیا۔
ایک صدی بعد بھی پرانی گاڑیوں کا جادو برقرار
۱۰۰؍ سالہ جشن کے دوران تاریخی ریسنگ مشینوں کو دوبارہ دوڑتے دیکھنے کے لیے ہزاروں موٹر اسپورٹس شائقین اور کلاسک کاروں کے مداح بروک لینڈز پہنچے۔ قدیم ریسنگ کاروں کی آواز، ان کا منفرد ڈیزائن اور اس دور کی انجینئرنگ نے تقریب کو محض ایک یادگاری پروگرام کے بجائے ماضی کی حقیقی جھلک بنا دیا۔ کلاسک کار مالکان کے مطابق ان گاڑیوں کی آواز، احساس اور کردار آج بھی اپنی کشش برقرار رکھتے ہیں۔
۱۹۲۶ء کی ریس آج کے مقابلوں سے کتنی مختلف تھی؟
اس دور کی ریسنگ آج کی جدید فارمولاوَن دنیا سے بالکل مختلف تھی۔ دستیاب تاریخی معلومات کے مطابق ۱۹۲۶ء کی پہلی برطانوی گراں پری تقریباً ۱۱۰؍ لیپس اور۲۸۷؍ میل پر مشتمل تھی—یعنی آج کی برطانوی گراں پری سے تقریباً ۱۰۰؍ میل زیادہ۔ اس وقت نہ ریڈیو کمیونیکیشن تھا، نہ سیفٹی کار اور نہ ہی آج جیسی جدید حفاظتی سہولیات۔ اس کے باوجود ڈرائیورس نے انتہائی طاقتور اور تیز رفتار مشینوں کو محدود حفاظتی انتظامات کے ساتھ چلایا، جس نے اس دور کی ریسنگ کو خطرناک بھی بنایا اور غیر معمولی بھی۔
یہ بھی پڑھئے:اے آر رحمان کے بیٹے اے آر امین چنئی میں کار حادثے کا شکار، معمولی چوٹ آئی
موٹر ریسنگ کی ایک صدی کا جشن
بروک لینڈز میں ۱۰۰؍ سالہ جشن کا مقصد صرف۱۹۲۶ء کی ریس کو یاد کرنا نہیں بلکہ برطانیہ کی موٹر ریسنگ کے اس سفر کو بھی اجاگر کرنا ہے جس نے بعد میں عالمی سطح پر برطانوی موٹر اسپورٹس کو ایک نمایاں مقام دلایا۔ ۱۹۲۶ء میں نو کاروں سے شروع ہونے والی کہانی آج عالمی موٹر ریسنگ، فارمولاوَن اور جدید آٹوموٹیو ٹیکنالوجی تک پہنچ چکی ہے۔ بروک لینڈز کی یہ تقریب اسی شاندار سفر کی ایک تاریخی یاد دہانی بن گئی۔