ایجوکیشن سیکریٹری کی صدارت میں سینئر ایجوکیشن افسران اور غیر سرکاری تنظیموں کی میٹنگ میںضروری اقدامات پر عمل کرنے کا فیصلہ۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 10:56 AM IST | Saadat Khan | Mumbai
ایجوکیشن سیکریٹری کی صدارت میں سینئر ایجوکیشن افسران اور غیر سرکاری تنظیموں کی میٹنگ میںضروری اقدامات پر عمل کرنے کا فیصلہ۔
اسکول میں نام رجسٹر ہونے کے باوجود اپریل ۲۰۲۶ءمیں ہونے والے امتحانات میں تقریباً ۹؍ لاکھ طلبہ کے غیر حاضر ہونے سے محکمہ تعلیم تشویش میں مبتلا ہےجبکہ مرکزی حکومت کے تازہ سروے کے مطابق ریاست میں ۱۱؍لاکھ طلبہ اسکول سے دور ہیں۔ اس معاملے پر قابو پانے کیلئے اعلیٰ افسران کی میٹنگ میں ضروری اقدامات پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
چونکہ مہاراشٹر میں اسکول سے دور بچوں کا مسئلہ دن بہ دن سنگین ہوتا جارہا ہے۔ مرکزی حکومت کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست میں تقریباً ۱۱؍ لاکھ بچے اسکول سے دور ہیںجبکہ ریاستی محکمہ تعلیم کے مطابق اپریل میں ہونے والے امتحانات میں تقریباً ۹؍سے ۱۰؍ لاکھ طلبہ غیر حاضر تھے۔اس لئے ان طلبہ کا سراغ لگانے کا مطالبہ کیا گیاہے۔ اس پس منظر میں، اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے سیکریٹری رنجیت سنگھ دیول کی صدارت میں محکمہ تعلیم کے سینئر افسران، ریاستی تعلیمی افسران اور اسکول سے دور، مہاجر، قبائلی اور پسماندہ بچوں کیلئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ایک آن لائن میٹنگ منعقد کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: دسہرہ ریلیوں میں اُدھو اور شندے کی للکار، ایک دوسرے پر تنقید
مذکورہ میٹنگ میں مختلف اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا جن میں اسکول سے دور بچوں کا ریاستی سطح کا سروے، تارکین وطن بچوں کی تعلیم کیلئے ایک الگ پالیسی اور چھوٹی عمر میں بچوں کی شادی اور چائلڈ لیبر کی وجہ سے تعلیمی ڈراپ آؤٹ کو روکنے کیلئے ایکشن پروگرام پر عمل درآمد شامل ہے۔
غیر حاضر طلبہ کو تلاش کرنےکی ہدایت
جوائنٹ ڈائریکٹر آف ایجوکیشن رماکانت کٹمور نے غیر حاضر طلبہ کو براہ راست تلاش کرنے اور اس بات کی تصدیق کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی کہ کیا وہ بچے تعلیم سے وابستہ ہیں یا تعلیم سے دور ہو گئے ہیں۔ تارکین وطن مزدوروں کے بچوں کی تعلیم میں خلل نہ ہونے کو یقینی بنانے کیلئے ایک الگ پالیسی بنانے، بچپن کی شادیوں کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنے اور بچہ مزدوری کے معاملےمیں محکمہ مزدور کے تعاون سے اقدامات کئے جانےکا مشورہ دیا۔ انہوں نے ریاست بھر میں اسکول سےدور طلبہ کا الگ سروے کرنے کی ضرورت کو بھی اُٹھایا۔
ماہر تعلیم سوریہ کانت کلکرنی نے مشورہ دیا کہ اسکول سے دور بچوں کی تلاش کیلئے گرام پنچایت کو مرکز کے طور پر سمجھا جانا چاہئے اور گاؤں کی سطح پر ان کی ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے:’’ایس آئی آر کے تحت مخصوص ناموں کو حذف کرنے والوں پر کارروائی کی جائے‘‘
ڈائریکٹرآف ایجوکیشن شرد گوساوی نے شہری علاقوں میں اسکول سے دور بچوں کا سروے کرنے میں درپیش مشکلات کی وضاحت کی۔ کمشنر رنجیت سنگھ دیول نے امید ظاہر کی کہ این جی اوز اٹھائے گئے مسائل پر مثبت موقف اختیار کریں گی اور ہر معاملے پر کیا اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں اس کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں گی۔ انہوں نے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ ان تجاویز کو مرتب کریں اور آن لائن میٹنگ میں مزید کارروائی کیلئے ٹھوس اقدامات تجویز کریں۔
غیر حاضرطلبہ کی تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ
میٹنگ کے اختتام پر این جی اوز کے نمائندوں نے امتحانات کے دوران غیر حاضر رہنے والے تقریباً ۹؍ لاکھ طلبہ کی تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے ان طلبہ کی حقیقت کو واضح کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو اسکول میں رجسٹرڈ ہونے کے باوجود اصل میں غیر حاضر ہیں ۔وہ بچے جنہوں نے اسکول چھوڑ دیا ہے اور ایسے طلبہ جن کی ہجرت کی وجہ سے تعلیم میں خلل پڑا ہے ، اس لئے مطالبہ کیا گیا کہ سروے کو صرف اسکول سے دور بچوں کی رجسٹریشن تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ریاستی سطح پر ایک ٹھوس ایکشن پروگرام بنایا جائے تاکہ تعلیم سے دور ہونے والے ہر بچے کا سراغ لگا کر اسے دوبارہ تعلیم کے لئے آمادہ کیاجا سکے۔