کم بارش کے باعث آبی ذخائر میں پانی کی دستیابی کے تعلق سے بڑھتی تشویش اور شہر میں اکتوبر سے نافذ ۱۰؍ فیصد پانی کی کٹوتی کے درمیان آئندہ گرمیوں میں بھیونڈی کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کم بارش کے باعث آبی ذخائر میں پانی کی دستیابی کے تعلق سے بڑھتی تشویش اور شہر میں اکتوبر سے نافذ ۱۰؍ فیصد پانی کی کٹوتی کے درمیان آئندہ گرمیوں میں بھیونڈی کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس خدشے کے پیش نظر کارپوریٹر عبدالرحمٰن خان( صدام) نے میونسپل کمشنر انمول ساگر اور چیف اکاؤنٹس اینڈ فنانس آفیسر کو مکتوب دے کر ہنگامی منصوبہ بندی، خصوصی فنڈز کی فراہمی اور شہر کے تمام دستیاب آبی وسائل کو قابلِ استعمال بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عبدالرحمن خان نے کہا ہے کہ ممکنہ آبی بحران سے نمٹنے کے لئے میونسپل کارپوریشن کے محدود بجٹ پر انحصار کرنے کے بجائے ریاستی اور مرکزی حکومت سے اضافی فنڈز حاصل کئے جائیں۔ اس کے لئے ڈسٹرکٹ پلاننگ کمیٹی (ڈی پی ڈی سی) کے ذریعے خصوصی خشک سالی امدادی فنڈ کی تجویز بھیجنے، جل جیون مشن اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تحت گرانٹ حاصل کرنے اور آئندہ بجٹ میں پانی سے متعلق ہنگامی کاموں کے لئے علیحدہ رقم مختص کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے شہر کے تمام عوامی کنوؤں اور بورویلز کا فوری سروے کرانے، ان پر مبینہ طور پر کئے گئے ناجائز قبضوں کو ختم کرکے انہیں میونسپل کارپوریشن کی تحویل میں لینے اور بند پڑے کنوؤں کی صفائی و مرمت کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، ضرورت کے مطابق نئے بورویلز کھودنے کے ساتھ کنوؤں اور بورویلز کے پانی کو صاف کرکے قابلِ استعمال بنانے کے لئے واٹر فلٹر پلانٹس نصب کیے جانے چاہئیں، تاکہ شہریوں کو پینے کے پانی کے متبادل ذرائع میسر آسکیں۔کارپوریٹر نے انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ پانی کی قلت شدت اختیار کرنے کا انتظار کرنے کے بجائے ابھی سے ان اقدامات پر عمل درآمد شروع کیا جائے تاکہ گرمیوں سے قبل ضروری انتظامات مکمل ہوسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بروقت فنڈز کی فراہمی، آبی وسائل کی بحالی اور پانی صاف کرنے کے انتظامات سے شہریوں کو ممکنہ بحران کے دوران درپیش پریشانیوں سے بڑی حد تک بچایا جاسکتا ہے۔